• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 3:25 شام
  • پاکستان

کراچی میں لڑکیاں ای بائیکس بھی تیار کرنے لگیں

ایک رات میں 1500 افراد غائب : آسیب زدہ گاؤں کا 200 سال پرانا خوفناک راز آج بھی زندہ

ٹریفک پولیس اہلکاروں کے یونیفارم سفید ہی کیوں ہوتے ہیں؟

جوڑے کی جنگل میں انسٹاگرام لائیو کے دوران خودکشی، اہل خانہ بھی دیکھتے رہے

پیرس: فرانس میں ہائی اسکول طلبہ احتجاج کے دوران دہائیوں بعد ریکارڈ تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں، دوسری طرف لاکھوں ہائی اسکول طلبہ کے ساتھ احتجاج میں اساتذہ اور والدین بھی شامل ہو گئے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق منگل کو بھی فرانس بھر میں مظاہرے ہوئے، اس دوران اساتذہ اور والدین بھی ہائی اسکول کے طلبہ کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے، وزیر اعظم سباستیان لیکورنو نے اسے کئی دہائیوں میں طلبہ کے سب سے پُرتشدد مظاہروں کا سب سے بڑا دن قرار دیا۔

پیرس، اسٹراسبرگ، رین اور تولوز سمیت کئی شہروں میں پولیس نے مارچ کے اطراف موجود پُرتشدد گروہوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق درجنوں شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد شریک ہوئے، جب کہ منتظمین کا کہنا ہے کہ شرکا کی تعداد ساڑھے 4 لاکھ تھی۔

ان مظاہروں کے دوران پیر کو ایک نوعمر لڑکا اپنا ہاتھ کھو بیٹھا تھا۔ یہ احتجاج فرانس میں عوامی غصے کے تازہ اظہار ہے۔ وزیر اعظم لیکورنو نے قانون سازوں کو بتایا کہ اب تک جھڑپوں میں کم از کم 215 نوعمر طلبہ اور 85 اسکول ملازمین زخمی ہو چکے ہیں۔

ہائی اسکولز کی کلاسیں ایک ہفتے کے لیے معطل کردی گئیں

انھوں نے کہا یہ ’’کئی دہائیوں میں ہونے والا ایسا سب سے بڑا نقصان ہے جو تعلیمی نظام کو برداشت کرنا پڑا ہو۔‘‘ ان کے دفتر کے مطابق 700 سے زیادہ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

پیرس پولیس کے مطابق دارالحکومت میں جھڑپیں تقریباً 300 افراد اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہوئیں۔ ان میں زیادہ تر افراد نے چہرے ڈھانپ رکھے تھے یا نقاب پہنے ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق شہر کے دیگر علاقوں میں احتجاج مجموعی طور پر بڑے واقعے کے بغیر جاری رہا۔ کئی دکانوں اور دیگر تجارتی مقامات کو نقصان پہنچا۔ وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ منگل کو 488 افراد کو گرفتار کیا گیا اور سیکیورٹی اداروں کے 48 اہلکار زخمی ہوئے۔

روئٹرز کے مطابق طلبہ کے احتجاجی مظاہرے ستمبر میں پیرس کے غریب مضافاتی علاقوں سے شروع ہوئے تھے اور بعد میں پورے ملک میں پھیل گئے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اسکولوں کو بنیادی دیکھ بھال کے مسائل کا سامنا ہے، جن میں پانی کا رسنا اور چوہوں کی بھرمار بھی شامل ہے۔ مارسی اور نانت میں مظاہرین نے ہاتھ سے بنائے ہوئے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جن پر ’’ریاست نے قومی تعلیمی نظام کو قتل کر دیا ہے‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔

حقوق کی تنظیموں، طلبہ اور والدین کے گروہوں نے حکام پر نابالغ طلبہ کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ احتجاجی تحریک کو باہر سے آنے والے لوگوں نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور بعض مقامات پر یہ شہری تشدد میں تبدیل ہو گئی ہے۔

وزارتِ انصاف نے پیر کو بتایا کہ 1,800 سے زیادہ افراد کے خلاف مختلف جرائم میں مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔ ان میں 1,483 نابالغ بھی شامل ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے