• اکتوبر 4, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 4, 2026 2:11 صبح
  • پاکستان

دکاندار نے تین دن میں موبائل ٹھیک نہ کیا تو شہری تلوار لے کر پہنچ گیا

کرسٹا پائیک کے خوفناک جرم کے پیچھے اصل کہانی کیا تھی؟

بیوی نے باہر گھمانے نہ لے جانے پر شوہر سے طلاق مانگ لی

ایک ماہ کے شیر خوار کو کئی بار بیچ دیا گیا، والدین سمیت 7 افراد گرفتار

کیا مستقبل میں بینک ڈیبٹ کارڈ ختم ہوجائیں گے اور موبائل ہی بینک بنے گا۔

آپ کے موبائل فون میں ایک ڈیجیٹل کارڈ ہوگا اور یہی کارڈ کبھی ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ بن جائے گا اور کبھی پری پیڈ اور قسطوں کی خریداری کا ذریعہ بنے گا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی ایسے مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں کہ ہمارے پاس پرس میں موجود پلاسٹک کارڈ ختم ہوجائیں گے اور ان کی جگہ ایک یونیورسل ڈیجیٹل کارڈ لے لے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ صرف مستقبل کا خواب نہیں رہا ہے اور مالیاتی دنیا میں اس پر کام شروع ہوچکا ہے، ویزا نے فلیکسیبل کریڈینشل کے نام سے ایک ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ ایک ہی کارڈ ڈیجیٹل کریڈینشل کو مختلف فنڈنگ ذرائع کے ساتھ منسلک کیا جاسکے گا یعنی ایک کارڈ کے ذریعے مختلف اکاؤنٹ یا ادائیگی کے ذرائع سے پیسے خرچ ہوسکیں گے۔

ماسٹر کارڈ بھی اسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے جس کا ون کریڈینشل کے ذریعے ڈیبٹ، کریڈٹ اور پری پیڈ قسطوں سمیت مختلف ادائیگیوں کے ذرائع کو منسلک کیا گیا ہے۔

صارف کے پاس اب الگ الگ کارڈ رکھنے کے بجائے ایک ہی ڈیجیٹل کارڈ ہوگا اور موبائل ایپ کے ذریعے طے کیا جاسکے گا کہ ادائیگی کس سے کرنی ہے، اگست 2026 میں تصور نے عملی شکل اختیار کی جب عرب ملک میں بوٹم اور ماسٹر کارڈ نے ماسٹر کارڈ ون کریڈینشل پر مبنی ایک آل ان ون کارڈ لانچ کیا جس میں پری پیڈ، بیلنس، کریڈٹ اور قسطوں سمیت مختلف فنڈنگ کے ذرائع استعمال کیے جاسکیں گے۔

یعنی صارف کو ہر مالی ضرورت کے لیے الگ الگ کارڈ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے