• ستمبر 12, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 12, 2026 12:45 صبح
  • پاکستان

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟

روبوٹس کا انسانوں کے حق میں مظاہرہ!

دنیا کی سب سے ’’ دُبلی پتلی کار‘‘، ریکارڈ بُک میں نام درج

کراچی (11 ستمبر 2026): جماعت اسلامی پاکستان نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کیلیے جاری مذاکرات میں حکومت کو 6 تجاویز پیش کر دیں جن پر عملدرآمد سے نمایاں بچت اور اضافی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔

جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کے اہم رکن نوید علی بیگ نے اپنے بیان میں بتایا کہ 6 تجاویز میں مقامی سطح پر پیدا ہونی والی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے طریقہ کار کو درست کرنا، ریفائنری کے مارجن کو کم کرنا، حکومت کے قرض لینے کے اخراجات میں کمی، باقی ماندہ آئی پی پیز کے معاہدوں پر ازسرنو مذاکرات، غیر ضروری سبسڈی کا خاتمہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کارکردگی کو بہتر بنانا شامل ہیں۔

مقامی تیل کی قیمتیں

نوید بیگ کے مطابق حکومت مقامی سطح پر پیدا ہونے والے تیل کے قیمتوں کے طریقہ کار کو درست کر کے تقریباً 120 ارب روپے کی بچت کر سکتی ہے، پاکستان سالانہ تقریباً 16 ارب لیٹر پیٹرول اور ڈیزل استعمال کیا جاتا ہے جس میں سے تقریباً 4 ارب لیٹر مقامی سطح پر پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان باہر سے 100 ڈالر فی بیرل کے حساب سے تیل خرید رہا ہے تو مقامی سطح پر تیار ہونے والے تیل کی قیمت اتنی ہی بین الاقوامی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے، مقامی سطح پر تیار ہونے والے پیٹرولیم کی قیمت کا تعین بہتر کرنے سے تقریباً 120 ارب روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔

ریفائنری مارجن

جماعت اسلامی نے درآمد شدہ ریفائنڈ ایندھن اور درآمد شدہ خام تیل سے مقامی سطح پر ریفائن کیے گئے ایندھن کے مارجن کے درمیان فرق کو ختم کرنے کی بھی تجویز دی۔

نوید بیگ کے مطابق فی الحال دونوں کے درمیان تقریباً 21 روپے کا فرق ہے، اگر ہم 21 روپے بچا سکتے ہیں تو اس سے تقریباً 185 ارب روپے حاصل ہوں گے، اس اقدام پر عمل درآمد کیلیے زیادہ وقت کی ضرورت نہیں ہوگی۔

قرض کی ادائیگی کے اخراجات میں کمی

جماعت اسلامی نے حکومتی ٹیم کو قرض کی ادائیگی کے اخراجات کو کم کرنے کیلیے سرکاری قرضوں پر شرح سود کم کرنے کی تجویز بھی دی۔

نوید بیگ نے کہا کہ اس وقت شرح سود تقریباً 11.5 فیصد ہے، اسے کم کر کے 9 فیصد پر لانے سے حکومت کو سالانہ تقریباً 1 کھرب روپے کی بچت ہو سکتی ہے، حکومت اس وقت سود کی ادائیگی پر سالانہ تقریباً 8 کھرب روپے خرچ کرتی ہے جس کا ایک بڑا حصہ تجارتی بینکوں سے ملکی قرضوں پر جاتا ہے۔

آئی پی پی معاہدوں پر ازسرنو مذاکرات

جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر مزید نظرثانی کا بھی مطالبہ کیا۔ نوید بیگ نے بتایا کہ پارٹی نے اس مسئلے پر پہلے دھرنا دیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ حکومت معاہدوں پر ازسرنو مذاکرات کرے۔

انہوں نے کہا کہ 15 سے 20 کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں پر پہلے ہی نظرثانی کی جا چکی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد کمی آئی ہے، اگر باقی کمپنیوں کے ساتھ بھی معاہدے دوبارہ طے کیے جائیں تو مزید 400 ارب روپے بچائے جا سکتے ہیں، یہ بچت ان ادائیگیوں سے حاصل ہوگی جو حکومت بجلی پیدا کرنے والوں کو کرتی ہے جس میں کیپیسٹی پے منٹس اور دیگر چارجز شامل ہیں۔

غیر ضروری سبسڈی کا خاتمہ

جماعت اسلامی نے تمام شعبوں میں غیر ضروری سبسڈی کو ختم کرنے کی بھی تجویز دی۔ نوید بیگ نے کہا کہ ورلڈ بینک نے کئی ایسے شعبوں کی نشاندہی کی ہے جہاں ایسی سبسڈی کو کم یا ختم کیا جا سکتا ہے، اس اقدام سے حکومت کو سالانہ تقریباً 1.1 ٹریلین روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔

ٹیکس خلا کا خاتمہ

چھٹی اور آخری تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور بڑے ٹیکس خلا کو ختم کرنے پر مرکوز ہے۔

نوید بیگ نے کہا کہ پاکستان کم ٹیکس دینے والے یا ٹیکس کے دائرے سے باہر موجود شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لا کر اپنی ٹیکس وصولی میں تقریباً 3.4 ٹریلین روپے کا اضافہ کر سکتا ہے، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے بھی نمایاں ٹیکس کی صلاحیت والے شعبوں پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر ناکام ہو چکا ہے، حکومت کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ تنخواہ دار ملازمین پر ودہولڈنگ ٹیکس اور درآمدات پر کسٹم ڈیوٹی جیسے میکانزم کے ذریعے خود بخود وصول ہو جاتا ہے۔

ان کے مطابق تنخواہ دار طبقے کی تنخواہوں سے انکم ٹیکس براہ راست کاٹا جاتا ہے جبکہ درآمد کنندگان سامان کلیئر ہونے سے پہلے کسٹم ڈیوٹی ادا کرتے ہیں۔

رہنما جماعت اسلامی نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ آمدنی کا ایک بڑا حصہ وصول کرنے میں ایف بی آر کا کردار محدود ہے، اس کی کارکردگی ان شعبوں پر توجہ مرکوز کر کے بہتر بنائی جائے جہاں ٹیکس چوری اور کم رپورٹنگ زیادہ عام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان 6 اقدامات پر عملدرآمد سے حکومت کو خاطر خواہ مالیاتی گنجائش مل سکتی ہے اور صارفین پر اضافی پیٹرولیم لیوی کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے