• ستمبر 27, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 27, 2026 1:58 صبح
  • پاکستان

پہلے یہ سرکاری وسائل استعمال کرتے تھے، یہ خود نہیں چاہتے کہ بانی کی رہائی ہو، فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والے پہلے سرکاری وسائل استعمال کرتے تھے اب جیب سے لانگ مارچ کرنا پڑ رہا ہے تو یہ تاریخ پہ تاریخ دیں گے اور لانگ مارچ نہیں کر سکیں گے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک دو دن پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ پی ٹی آئی والے نہیں آ سکیں گے، یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ 20 لاکھ لوگ آئیں گے ،لیکن ہمیں اس حوالےسے کوئی موبلائزیشن نظر نہیں آئی ، پی ٹی آئی کے لوگ خود ساختہ روپوش ہوئے کچھ نے تو خود ساختہ گرفتاریاں دیں، لانگ مارچ کے لیے ان کی کوئی منصوبہ بندی ہی نہیں تھی۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پہلے یہ سرکاری وسائل استعمال کرتے تھے اب جیب سے لانگ مارچ کرنا پڑ رہا تو اب یہ تاریخ پہ تاریخ دیں گے اور لانگ مارچ نہیں کر سکیں گے۔ پی ٹی آئی والوں نے حکومت پر دباو ڈالا تھا کہ قیدی کو آزاد کرانا ہے یا چارٹر آف ڈیمانڈ میں بانی کی رہائی کی کوئی شق تھی ؟ ان کا ایجنڈا بانی پی ٹی آئی کی رہائی نہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بانی باہر آئے تو سونے کا انڈہ دینے والی مرغی نہیں رہے گی؟ ۔ ۔گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ انہوں نے پہلے 13 سال اپنا صوبہ تباہ کیا، کے پی کے تاجروں کو یہ برباد کر رہے ہیں، جب بھی ملک ٹیک آف کرنے لگتا ہے یہ ملک دشمنوں کے کہنے پر ایسے کام کرتے ہیں ، ملک دشمنوں کے ایجنڈے پر یہ کوئی ایکٹیوٹی کریٹ کرنا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی غیر سیاسی پولیس بنانے کے چیمپئن بنتے تھے ، اسی بانی کے ایکٹ کو یہ پی ٹی آئی والے اب چیلنج کر رہے ہیں۔ گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں کہ کے پی پولیس ان کے تابع ہو جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ آج بھی ڈی آئی خان میں حملہ ہوا، شہادتیں ہوئیں ، پولیس اور فورسزقربانیاں دے رہی ہے، یہ باقی قراردادیں لے آتے ہیں لیکن ان حملوں پر تو کبھی قرارداد پیش نہیں کی کہ یہ حملے کیوں حملے کیے جا رہے ہیں، ان کی ان حملوں پر مجرمانہ خاموشی ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ افغانستان سے تعلقات اچھے ہونے چاہیں، افغانستان میں بھارت پاکستان کیخلاف تخریب کاری کے لیے سرمایہ کاری کر رہا ہے، یہ بھارت اور اسرائیل کے سہولت کار بنیں گے، وزیر اعلیٰ کہہ رہے کہ ان سے بات چیت کریں، ایسا نہیں ہو سکتا۔۔ ہم دشمن سے ڈائیلاگ نہیں کریں گے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ نے بھی کوشش کی تھی کہ پولیس کو اپنے تابع کرے، فروری2026 میں بھی ایسی کوشش ناکام ہوئی تھی، پولیس ایکٹ کے معاملے پر بل اسمبلی سے پاس ہو گا تو دیکھوں گا کہ اس پر کیا کرنا ہے، نو مئی کی رپورٹ آئے تو یہ کہیں گے اس میں پی ٹی آئی کے لوگ تو نہیں تھے، یہ چاہتے ہیں کہ پولیس ان کے تابع ہو جائے، ہم کوشش کریں گے کہ پولیس کا تحفظ کریں ، پولیس صوبے کے امن و امان کے لیے لڑ رہی ہے، اس وقت ہمارے صوبے میں گورننس کا ایشو ہے، اساتذہ، پولیس، تاجر، احتجاج پر ہیں، جگہ جگہ کے پی میں احتجاج ہو رہے ہیں، حکومت کی توجہ گورننس پر ہونی چاہیے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیا ماضی میں گورنر راج نہیں لگا ؟ اگر بطور آخری آپشن گورنر راج کی ضرورت سمجھی گئی تو پھر سوچیں گے ، آخری آپشن پھر ہمارے پاس گورنر راج کی ہی ہوتی ہے ۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے