• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 4:18 شام
  • پاکستان

کیا دن رات کا دورانیہ ہمیشہ 24 گھنٹے ہی رہتا ہے؟ تحقیق میں نیا انکشاف

نیپال میں پہاڑ چند سیکنڈز میں ٹوٹ کر دریا میں گر گیا، ویڈیو وائرل

ٹریفک ای چالان اب بجلی کے بل میں لگ کر آئیں گے؟ تجویز پیش کر دی گئی

ایک ملک کے وزیراعظم پر موبائل فون چوری کا الزام، پارلیمنٹ نے استثنیٰ ختم کر دیا!

اسلام آباد (30 ستمبر 2026): بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے بیرون ملک ملازمت کے لیے بھیجنے والے پروموٹرز کیلیے انتباہی پیغام جاری کیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل، بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) نے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کی جانب سے امیگریشن آرڈیننس اور امیگریشن رولز 1979، نیز لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت کارروائی کا انتباہ جاری کیا ہے۔

بیورو آف امیگریشن کی جانب سے پروموٹرز کے لیے جاری انتباہی پیغام کہا گیا ہے کہ بیرونِ ملک ملازمتوں کے اشتہارات یا تشہیر پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا یا سوشل میڈیا پر شائع کرنے سے پہلے متعلقہ پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس (Protector of Emigrants) سے پیشگی منظوری حاصل کرنا قانونی طور پر لازمی ہے۔

ہدایت نامے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ غیر منظور شدہ اشتہارات نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ بیرونِ ملک ملازمت کے خواہش مند افراد کو جعلی نوکریوں، مالی فراڈ اور غیر قانونی بھرتی کے خطرات سے بھی دوچار کر سکتے ہیں۔

بیورو کے مطابق آئندہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے گی، جس میں لائسنس کی معطلی، منسوخی اور معاملہ مزید قانونی کارروائی کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کو بھیجنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

بیورو آف امیگریشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر کے رجسٹرڈ ملازمین کو کسی دوسرے کاروبار، مثلاً ٹریول ایجنسی، حج و عمرہ سروس، یا ٹریڈ ٹیسٹنگ سینٹر میں تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح یہ ملازمین کسی بھی صورت میں سب ایجنٹ (Sub-Agent) یا Intermediary کے طور پر کام نہیں کر سکتے۔

بیرونِ ملک افرادی قوت کی بھرتی، امیدواروں کی جانچ (Screening)، انٹرویو، انتخاب اور تمام امیگریشن پراسیسنگ کی مکمل ذمہ داری صرف لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر کی ہے۔ یہ ذمہ داری کسی ٹریڈ ٹیسٹنگ سینٹر یا کسی دوسرے ادارے کو منتقل نہیں کی جا سکتی۔

اگر کوئی اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر دیگر تجارتی سرگرمیاں بھی انجام دیتا ہے تو انہیں الگ دفتر، الگ عملے اور الگ انتظام کے تحت چلانا ضروری ہے تاکہ قانونی تقاضوں کی مکمل پابندی یقینی بنائی جا سکے۔

بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے تمام پروٹیکٹرز آف ایمیگرنٹس کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ باقاعدگی سے دفاتر کا معائنہ کریں، قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں، اور مسلسل خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کریں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے