امریکا میں ’شارک‘ سڑکوں پر تیرنے لگیں
درخت کی ٹہنی گرنے سے زخمی شہری کو 8 کروڑ معاوضہ دینے کا حکم
بھارت میں کیا اب گدھے نرس کی ذمہ داریاں نبھائیں گے؟ نرسنگ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری
کیا دن رات کا دورانیہ ہمیشہ 24 گھنٹے ہی رہتا ہے؟ تحقیق میں نیا انکشاف
نیٹ فلکس کی نئی کرائم ڈراما فلم ’یونابومبر‘ ’UNABOMBER‘ نے آتے ہی دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا۔ یہ یونابومبر آخر تھا کون؟
اپنے وقت کے انتہائی ذہین طالب علم تھیوڈور جان کازنسکی نے غیر معمولی ذہانت سے ’یونابومبر‘ بننے تک کا سفر کیسے طے کیا؟ زیر نظر مضمون میں اس دہشت گرد کی زندگی سے متعلق تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
اس دہشت گرد نے 1978ء سے 1995ء کے درمیان امریکی معاشرے میں جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی نظام کے خلاف ایک طویل اور مہلک مہم چلائی۔
ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے خلاف نفرت کی بنا پر کازنسکی نے مینوفیکچررز، یونیورسٹیوں، اور ایئر لائنز کو بم حملوں کا نشانہ بنایا۔
17 سال میں دہشت گردی کی 16 وارداتیں
اس نے 17 سال کے دوران مجموعی طور پر 16 پارسل اور ہینڈ میڈ بم بھیجے یا نصب کیے، ان دھماکوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جن میں سے کئی معذور ہوگئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی تاریخ کے بدنام زمانہ دہشت گرد ’ٹیڈ کازنسکی‘ کا معاملہ اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ وہ ابتدائی عمر میں ایک ذہین اور سماجی طور پر متوازن بچے کے طور پر سامنے آیا۔
اسکول میں اس کا آئی کیو ٹیسٹ لیا گیا جس میں اس نے 167 نمبر حاصل کیے، جبکہ 140 یا اس سے زیادہ آئی کیو اسکور کو غیرمعمولی ذہانت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اسکول کی سفارش پر اسے 10 سال کی عمر میں ایک جماعت چھوڑ کر براہِ راست اگلی جماعت میں بھیج دیا گیا، تاہم بڑے اور اجنبی بچوں کے درمیان جانے کے بعد وہ بتدریج سماجی طور پر الگ تھلگ ہوتا چلا گیا۔
کازنسکی نے 20 سال کی عمر میں 1962 میں ہارورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور بعد ازاں یونیورسٹی آف مشی گن سے ریاضی میں پی ایچ ڈی کی۔ اس نے ریاضی کے ایک ایسے مسئلے کو حل کیا جسے کئی دہائیوں سے حل طلب سمجھا جاتا تھا۔
کم عمر ترین اسسٹنٹ پروفیسر
بعد ازاں وہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے میں طلبا و طالبات کو ریاضی پڑھانے لگا اور وہاں کا کم عمر ترین اسسٹنٹ پروفیسر بنا، تاہم طلبہ اور ساتھیوں کے ساتھ اس کے تعلقات اچھے نہ رہے۔
بالآخر کچھ عرصے بعد ہی کازنسکی نے برکلے کی ملازمت چھوڑ دی اور مونٹانا کے جنگلات میں ایک چھوٹے سے کیبن میں رہنے لگا، جہاں نہ بجلی تھی اور نہ وافر مقدار میں پینے کا پانی۔
وہیں اس نے ایسے بم تیار کیے جن کا سراغ لگانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ناممکن تھا، وہ بم بنانے کے لیے کباڑ کے ٹکڑے، لکڑی اور عام دستیاب دھاتوں کا استعمال کرتا تھا تاکہ فارنزک لیب اس کے اجزاء کا سراغ کسی دکان تک نہ لگا سکے۔ اس کے بموں پر اکثر "ایف سی” (فریڈم کلب) کے حروف کندہ ہوتے تھے۔
فلم ’یونابومبر‘ میں کازنسکی کا کردار ادا کرنے والے اداکار جیکب ٹریمبلے کے مطابق وہ اس کردار کو صرف ایک مجرم کے طور پر نہیں بلکہ حقیقی جذبات رکھنے والے انسان کے طور پر پیش کرنا چاہتے تھے۔
فلم سازوں نے کازنسکی کی زندگی کے مختلف مراحل اس کے خیالات اور ایف بی آئی کی جانب سے اس کی تلاش کو کہانی کا حصہ بنایا ہے۔
کازنسکی نے ٹیکنالوجی اور جدید صنعتی معاشرے کے خلاف شدید خیالات اختیار کیے اور بالآخر بم تیار کرکے حملے شروع کیے۔ 1978 میں نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کو بم پارسل بھیجنا اس کے پہلے حملے کے طور پر سامنے آیا۔ تقریباً دو دہائیوں کے دوران اس نے مجموعی طور پر 16 بم حملے کیے۔
امریکی میڈیا کو بلیک میل
1995ء میں کازنسکی نے امریکی میڈیا کو بلیک میل کیا اور دھمکی دی کہ اگر اس کا 35ہزار الفاظ کا مینی فیسٹو جس کا عنوان "Industrial Society and Its Future” (صنعتی معاشرہ اور اس کا مستقبل) تھا، اخبارات میں شائع نہ کیا گیا تو وہ بم دھماکوں کی وارداتیں تیز کر دے گا۔
ایف بی آئی کی اجازت سے یہ مینی فیسٹو ستمبر 1995ء میں ‘دی واشنگٹن پوسٹ’ اور ‘دی نیویارک ٹائمز’ میں شائع ہوا اور یہی مینی فیسٹو اس کی گرفتاری کا سبب بنا۔
کازنسکی کا یہ مطالبہ بالآخر اس کی شناخت تک پہنچنے میں کارگر ثابت ہوا۔ اس کے بھائی ڈیوڈ کازنسکی نے منشور پڑھتے ہوئے بعض مخصوص الفاظ اور غیر معمولی املا کو پہچان لیا اور اسے اپنے بھائی کا ہونے پر شبہ ظاہر کیا۔
ڈیوڈ اور اس کی اہلیہ نے بعد ازاں ایف بی آئی سے رابطہ کیا، جس کے نتیجے میں 3 اپریل 1996 کو ایف بی آئی نے مونٹانا میں کازنسکی کے کیبن سے اسے گرفتار کرلیا۔
فلم ’یونابومبر‘ پر تبصرہ
فلم کے ہدایت کار جانس میٹز کے مطابق شیلین ووڈلی کا کردار جوآن ملر ناظرین کو بتانا چاہتے ہیں کہ یونابومبر کون تھا، اس کے محرکات کیا تھے اور اس کے ذہن میں کیا چل رہا تھا۔
فلم کے اسکرپٹ رائٹرز سام چالسن اور نیلسن گریوز نے کازنسکی کی ہارورڈ میں تعلیم اور وہاں ہونے والے نفسیاتی مطالعات کے پس منظر کو کہانی کی بنیاد بنایا ہے۔
فلم میں اداکار رسل کرو نے پروفیسر ہنری مرے کا کردار ادا کیا ہے، جن کے ساتھ نوجوان کازنسکی کے ہارورڈ دور کے مطالعات کو کہانی میں اہمیت دی گئی ہے۔
نیٹ فلکس کی کرائم تھرلر دنیا میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فلم بن گئی!
