• ستمبر 22, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 22, 2026 7:24 شام
  • پاکستان

پرانا سامان خریدنے والی فیملی کو سوٹ کیس سے کیا ملا؟ دل دہلا دینے والا واقعہ

مرغیوں کی پُراسرار گمشدگی کا معمہ حل ہوگیا

عمر بڑھنے کے ساتھ دن چھوٹے ہونے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ تحقیق

شادی کی تقریب میں دولہا کی مشین گن سے فائرنگ

میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ آخر یہ پُراسرار امبرین کون ہے؟

اے آر وائی نیوز کے مطابق میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے اے ایس پی ندا جنید سے کہا کہ آپ کو نہ تو فون ملا اور نہ ہی فون آپ کی تحویل میں تھا، آپ کو اس صورت حال پر تھوڑی شرم آنی چاہیے۔

آج جوڈیشل کمیشن نے پانچ اہم گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جن میں سب سے اہم صارم ساحر کا تھا، انہوں نے بتایا کہ میر رضا نے تین کروڑ روپے مانگے تھے، انہوں نے میر کے کاروبار کے بارے میں بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

اس کے علاوہ اے ایس پی ندا جنید کا بیان بہت اہم تھا، وہ تفتیشی ٹیم کی باقاعدہ ممبر نہیں ہیں لیکن کمیشن نے دیکھا کہ وہ ہر اہم جگہ پر موجود ہیں، خاتون افسر نے بتایا کہ خواتین سے پوچھ گچھ کے لیے مجھے ساتھ رکھا جاتا تھا۔

کمیشن نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ کو اس بات کا علم ہے کہ میر رضا کی جانب سے صارم کو میسج کیا گیا جواب میں ندا نے کہا کہ وہ اسکرین شاٹ میڈیا تک کیسے اور کس طرح پہنچے مجھے اس بات کا علم نہیں ہے۔

جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کی ٹیم خودکشی پر کام کررہی تھی یا قتل پر؟ خاتون افسر نے بتایا کہ میری ذاتی رائے کے مطابق ٹیم کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی تھی اس لیے کیس منتقل ہوگیا، تحقیقاتی ٹیم اس وقت صرف ابتدائی نوعیت کے شواہد ہی جمع کررہی تھی۔

کمیشن نے پوچھا کہ کیا آپ نے اس ہائی پروفائل کیس کے گواہ صارم کے ساتھ بھی رابطہ کیا تھا؟ ندا جنید نے کہا کہ میں خاتون پولیس افسر ہونے کے ناطے صرف معاونت کے لیے ان کے پاس گئی تھی۔

جوڈیشل کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے وہاں جاکر کسی امبرین نامی خاتون کے بارے میں بھی کوئی پوچھ گچھ کی کہ آخر یہ پراسرار امبرین ہے کون؟

یہ پڑھیں: میر رضا کیس میں ڈاکٹر سمعیہ اور ڈاکٹر اسامہ کی آڈیو سامنے آگئی

ندا جنید نے کہا کہ مجھے ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کی جانب سے کل تین نام دیے گئے تھے، کمیشن نے کہا کہ مطلب یہ ہوا تب تک سمیع اللہ کی ٹیم نے اسے خودکشی قرار نہیں دیا تھا، خاتون پولیس افسر نے کہا کہ تفتیش کے لیے مجھے سب سے پہلے شیزا کا نام اور اس کا فون نمبر دیا گیا تھا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ شیزا کا نمبر ہے جو دراصل میر رضا کی والدہ کا ہی نمبر تھا۔

خاتون پولیس افسر نے کہا کہ مجھے تفتیش کے لیے مریم کا نام اور نمبر دیا گیا جو کہ درحقیقت کسی مرد کا تھا، تفتیش کے لیے مجھے تیسرا نام امبرین کا بھی باقاعدہ طور پر دیا گیا تھا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے