• ستمبر 22, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 22, 2026 10:38 شام
  • پاکستان

پرانا سامان خریدنے والی فیملی کو سوٹ کیس سے کیا ملا؟ دل دہلا دینے والا واقعہ

مرغیوں کی پُراسرار گمشدگی کا معمہ حل ہوگیا

عمر بڑھنے کے ساتھ دن چھوٹے ہونے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ تحقیق

شادی کی تقریب میں دولہا کی مشین گن سے فائرنگ

رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر ایک شیر دل قائد تھے۔ ان کے عزم میں ہمالہ کی سی عظمت، جذبے میں آتش فشاں لاوے کی سی گرمی اور ولولے میں سیل بے پناہ کی سی تندی و تیزی تھی۔ وہ کردار اور گفتار دونوں کے غازی تھے۔

بیسویں صدی کے دور اوّل میں انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنی تحریر و تقریر اور عبارت و اشارت سے قوت و توانائی کی ایسی آگ بھڑکا دی کہ پوری تحریک آزادی میں خود ارادی اور خود اعتمادی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ قومی رہنما دوسرے بھی تھے اور ان میں سے کئی مولانا محمد علی جوہر سے آگے اور ان سے بڑے تھے، لیکن آتش فشانی اور شعلہ سامانی کا منصبِ بلند گویا انہیں کو ودیعت ہوا تھا۔ ان کی مجاہدانہ شخصیت کے جوش و خروش نے چند ہی برسوں میں عمل کا ایسا صور پھونکا اور انگریزوں کی قاہرانہ طاقت سے ایسی ٹکر لی کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔ مسلمانوں میں ملّی بیداری پیدا کرنے اور انہیں ہندوستان کی سیاست میں مؤثر قوت بنانے میں مولانا محمد علی کا بڑا حصہ ہے۔

مولانا محمد علی جوہر کی تعلیم ہندوستان میں بھی ہوئی اور ہندوستان سے باہر بھی، لیکن ذہنی اعتبار سے وہ شبلی کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ شاعری پر اصلاح انہوں نے بھلے ہی داغ سے لی ہو۔ لیکن ذہنی مناسبت انہیں شبلی سے تھی۔ یہ مناسبت صرف تحریک آزادی کی وجہ سے نہیں بلکہ جمالیاتی اور شعری اعتبار سے بھی تھی۔ شاعری میں انہوں نے بڑی حد تک اسی طرز فغاں کو اپنایا جس کی طرح شبلی کے رچے ہوئے ذوق، احساس تغزل، رنگینیِ بیان اور مزیہ لے نے ڈالی تھی۔ محمد علی جوہر اگر چہ تحریک آزادی کے مجاہد تھے اور ان کی شخصیت کا عملی اور سیاسی پہلو ان کی شاعری سے کہیں زیادہ نمایاں ہے۔ لیکن مزاج چونکہ تخلیقی تھا، اس لئے عمل کی سیمابیت برابر جذبہ و احساس کی سرشاری کا پتہ دیتی ہے۔ حریت پسندی ان پر ختم تھی۔ یہ ان کی سب سے بڑی طاقت تھی اور شاید کمزوری بھی۔ وہ مکمل آزادی کے تصور میں معمولی سی تبدیلی کے روا دار نہ تھے۔ ان کی روح مجاہد کی تھی۔ لیکن دل شاعر کا تھا۔ ان کے شعری کر دار کا ذکر کرتے ہوئے شبلی کی یاد تو تازہ ہو ہی جاتی ہے۔ لیکن حسرت موہانی کا نقش بھی ساتھ ساتھ ابھرنے لگتا ہے جو مولانا کے معاصر تھے۔ غزل کی رمزیت اور ایمائیت میں قومی و سیاسی جذبات کے بیان کی گنجائش تو آغاز سے تھی لیکن جس انداز سے محمد علی جوہر اور حسرت موہانی نے پرانی مینا میں نئی شراب بھری اس سے ایک اور ہی دلنواز نقش سامنے آیا اور غزل میں ایک نئی معنیاتی جہت کا اضافہ ہو گیا۔ حسرت بیسویں صدی کے ایوان غزل کا ایک تابناک باب ہیں۔ ان کے رنگ تغزل کی کئی سطحیں اور کئی شانیں ہیں۔ جبکہ محمد علی جوہر کے یہاں پوری غزل اسی کیفیت میں ڈوبی ہوئی ہے۔ محمد علی جوہر کا تو اصل کارنامہ یہی ہے کہ ان کی غزلوں میں عاشقی و آزادی دونوں مل کر ایک ہو گئے۔ ان کا ذوق شعری اتنا بالیدہ، لطیف اور رچا ہوا ہے کہ عام طور پر ان کے کلام پر روایتی عاشقانہ رنگ کا دھوکا ہو سکتا ہے۔ لیکن در اصل ایسا نہیں۔ عاشقانہ لے کی رمزیت کے پردے میں وطنی لے ہے۔ جو عاشقانہ لے کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ لیکن سرسری پڑھنے والوں کو اس کی پوری قوت اور درد مندی کا اندازہ نہیں ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اردو کی قومی شاعری میں محمد علی جوہر کی غزل کا اتنا ذکر نہیں کیا جاتا جتنا اس کا حق ہے۔ مولانا غزل کی وضعداری کے قائل تھے۔ ان کی شعری میزان میں برہنہ گفتاری یا موضوع بندی کی سرے سے گنجائش تھی ہی نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو جتنے بڑے وہ قائد تھے، قومی اور سیاسی تقاضوں کی وجہ سے انہوں نے اتنی بڑی تعداد میں موضوعاتی نظمیں بھی کہی ہوتیں۔ لیکن ان کا کلام دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ انہوں نے نظم تقریباً نہیں کہی۔ دو چار نظمیں جو ان کے مجموعے میں ملتی ہیں۔ شاید فرمائشی ہیں اور ان کے شعری سرمائے میں کوئی خاص حیثیت نہیں رکھتیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ داغ کی شاگردی کی وجہ سے ابتدا غزل سے ہی کی تھی اور یہ بھی واقعہ ہے کہ ان کا تخلیقی جوہر تغزل سے عبارت تھا۔ انہوں نے اپنے ایام گرفتاری میں یا اس کے بعد جب جب شعر کو سخن کا پردہ کیا تو اپنے مزاج تغزل کی وجہ سے اشاریت اور ایمائیت کی بہترین روایتوں کی پاسداری کی۔ اردو تنقید کو دیوان جوہر کے رنگ تغزل کے اس پہلو کا حق شاید ابھی ادا کرنا ہے۔ انہوں نے اپنے قومی اور ملی احساسات تمام و کمال تغزل کے پیرا یے میں بیان کئے اور اس Heightened Emotion یعنی جذبہ و احساس کی اس شدت اور تندی کے ساتھ اس کی دوسری نظیر کم سے کم اس دور کی غزل میں نہیں ملتی۔

محمد علی جوہر کی شاعری میں مرکزیت، جذبہ عشق ہی کے ذریعہ پیدا ہوئی ہے۔ یہ عشق وطن کا، ملت اسلامیہ کا اور آزادی ہند کا عشق ہے۔ غیر مشروط اور ہر طرح کے تحفظات سے مبرا۔ لیکن یہ مشاہدۂ حق کی وہ گفتگو ہے جو بادہ و ساغر کے پیرایۂ رنگین میں بیان ہوئی ہے اور اس میں سرشاری اور سر مستی کی والہانہ اور بے تابانہ کیفیت ہے۔ یوں تو اس میں جیب و داماں کی شکایت بھی ہے اور زلف پریشاں اور ابر و مژگاں کی حکایت بھی ہے لیکن وحشی کو جس ناقۂ لیلیٰ کی تلاش ہے، اس کا راز غزل کی پوری فضا کو نظر میں رکھنے سے کھلتا ہے۔ ان غزلوں میں اکثر و بیشتر اشعار لخت لخت نہیں بلکہ ان میں ایک مسلسل کیفیت ہے، نہ صرف روانی اور بہاؤ اور جذباتی ترفع کی، بلکہ اس معنیاتی فضاء کی بھی جس کی شیرازہ بندی مولانا کے تصور ملی اور جذبہ حریت سے ہوئی ہے۔ ان غزلوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے ان کی مجموعی فضا اور قومی و سیاسی محرکات کو نظر میں رکھنا بہت ضروری ہے۔ یہ قومی عاشقانہ کیفیت اتنی عام ہے کہ محمد علی جوہر کی غزلوں کو کہیں سے بھی دیکھیے ان میں حدیث قوم و وطن کو سر دلبراں کے پیرایے میں بیان کرنے کا یہی دلنواز اور لطیف انداز ملے گا :

یہ نظر بندی تو نکلی ردِ سحر دیدہ ہائے ہو ش اب جا کر کھلے اب کہیں ٹوٹا ہے باطل کا فریب حق کے عقدے اب کہیں ہم پر کھلے فیض سے تیرے ہی اے قیدِ فرنگ بال و پر نکلے قفس کے در کھلے ٭٭٭

قید اور قید بھی تنہائی کی شرم رہ جائے شکیبائی کی قیس کو ناقۂ لیلیٰ نہ ملا گو بہت بادیہ پیمائی کی ہم نے ہر ذرے کو محمل پایا ہے یہ قسمت ترے صحرائی کی ٭٭٭

مولانا نے بیشتر غزلیں قید فرنگ کی تنہائی میں کہیں۔ نور الرحمن نے لاہور سے دیوان جوہر کا جو ایڈیشن شائع کیا تھا۔ اس میں مولانا کی نایاب تحریروں کا عکس بھی ہر غزل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے جو پاکستان قومی میوزیم میں محفوظ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان غزلوں کے اوراق جیلر کے دستخط اور مہر لگانے کے بعد باہر بھیجے جاتے تھے۔ ان غزلوں میں خاصی تعداد ایسے اشعار کی ہے جن میں ذوق شہادت، قتل یا واردات قتل کی کیفیت ہے۔ اس کیفیت کی روشنی میں کہنا غلط نہ ہو گا کہ مولانا کی غزل کا منظر نامہ اور ان کی شعری امیجری قتل و شہادت اور خون سے عبارت ہے۔ گویا یہ جذبہ کی سرفروشی کا لالہ زار ہے۔ جہاں سرخیِ خون شہدا سے آزادی کی تمناؤں کا رنگ سرخ ہو گیا ہے۔

وہ سر فروشی کے لئے ہمیشہ آمادہ رہے اور بالآخر انہوں نے وطن و قوم ہی کے لئے جان کھپا دی۔ سنہ 1931 میں جب وہ خرابی صحت اور احباب و اعزہ کے روکنے کے باوجود راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے لئے لندن گئے۔ تو انہوں نے غلام ملک میں واپس آنے پر مر جانے کو ترجیح دی اور وہیں جانِ جاں آفریں کو سپر د کر دی اور بیت المقدس میں دفن کئے گئے۔ وہ ایک سچے قائد اور جری مجاہد تھے۔ تاریخ میں جہاں وہ اپنے جوش و ولولے، عزم و استقلال، جرأت و بے با کی اور خدمت و ایثار کے لئے یاد رکھے جائیں گے۔ وہاں اردو شاعری میں وہ اپنے سخن کی دل نوازی اور جان کی پُرسوزی کے لئے فراموش نہ کئے جا سکیں گے۔

(پرو فیسر گوپی چند نارنگ کے مضمون سے اقتباسات)

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے