• ستمبر 22, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 22, 2026 9:06 شام
  • پاکستان

یہ کیڑے عموماً ایسی جگہوں کا رخ کرتے ہیں جہاں نمی زیادہ ہو، روشنی کم ہو اور چھپنے کے لیے جگہ ہو

باتھ روم، نالیوں اور گھر کے دیگر نم مقامات پر کن کھجوروں یعنی سینٹی پیڈز کا دکھائی دینا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔

یہ کیڑے عموماً ایسی جگہوں کا رخ کرتے ہیں جہاں نمی زیادہ ہو، روشنی کم ہو اور چھپنے کے لیے دراڑیں یا دوسرے مقامات موجود ہوں۔ اگر باتھ روم میں یہ بار بار نظر آرہے ہیں تو صرف انہیں مارنے کے بجائے ان عوامل کو ختم کرنا زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے جو انہیں وہاں آنے کی طرف راغب کرتے ہیں۔

گھر میں نمی کم کرنے، پانی کے رساؤ کو روکنے اور کیڑوں کے داخل ہونے کے راستے بند کرنے سے اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے گھر میں دستیاب چند عام چیزیں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔

نمک ان میں سے ایک آسان طریقہ ہے۔ اگر باتھ روم کے کسی کونے یا مسلسل نم رہنے والی جگہ پر سینٹی پیڈز زیادہ دکھائی دیتے ہوں تو وہاں تھوڑی مقدار میں نمک چھڑکا جاسکتا ہے۔ نمک نمی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جس سے ایسی جگہ کیڑوں کے لیے کم موزوں ہوسکتی ہے۔ تاہم اگر فرش یا دیوار مسلسل گیلی رہتی ہو تو صرف نمک پر انحصار کرنے کے بجائے نمی کی اصل وجہ، مثلاً لیکیج یا سیلن، دور کرنا ضروری ہے۔

سفید سرکے کا محلول بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسپرے بوتل میں پانی اور سفید سرکہ ملا کر اسے باتھ روم کے کونوں، دروازے کے اطراف اور ان مقامات پر ہلکا سا اسپرے کیا جاسکتا ہے جہاں سے کیڑوں کے داخل ہونے کا امکان ہو۔ البتہ سرکے کو بلیچ یا کسی دوسرے صفائی کے کیمیکل کے ساتھ ہرگز نہ ملائیں، کیونکہ اس سے خطرناک گیس پیدا ہوسکتی ہے۔ کسی سطح پر استعمال سے پہلے چھوٹے حصے پر آزمانا بھی بہتر ہے۔

باتھ روم کو زیادہ سے زیادہ خشک رکھنا بھی اہم ہے۔ نہانے کے بعد فرش پر پانی کھڑا نہ رہنے دیں اور کھڑکی یا ایگزاسٹ فین کے ذریعے ہوا کی آمدورفت برقرار رکھیں۔ اگر مسلسل سیلن، پانی کا رساؤ یا پائپ کی لیکیج موجود ہے تو اسے درست کرنا ضروری ہے، کیونکہ اصل مسئلہ برقرار رہنے کی صورت میں صرف کیڑے بھگانے کے اقدامات مستقل حل نہیں دیں گے۔

نالی بھی سینٹی پیڈز سمیت مختلف کیڑوں کے لیے داخلے یا چھپنے کی جگہ بن سکتی ہے۔ نالی پر ایسی جالی یا ڈھکن لگانا مفید ہوسکتا ہے جو پانی کے گزرنے میں رکاوٹ نہ بنے لیکن کیڑوں کی آمدورفت کو محدود کرے۔ نالی کو صاف رکھنے کے ساتھ اس کے اطراف موجود دراڑوں اور خلا کو بھی بند کرنا چاہیے۔

باتھ روم کی دیواروں، فرش یا پائپوں کے گرد موجود باریک دراڑیں بھی ان کیڑوں کو چھپنے کی جگہ فراہم کرسکتی ہیں۔ اس لیے صفائی یا اسپرے کے ساتھ ساتھ ان جگہوں کو مناسب سیلانٹ سے بند کرنا بھی ضروری ہے۔

نیم کو بھی روایتی طور پر کئی کیڑوں کو دور رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ نیم کے پتے پانی میں ابال کر ٹھنڈا کیا ہوا پانی باتھ روم کے کونوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر نیم کا تیل استعمال کیا جائے تو اسے متعلقہ پروڈکٹ کی ہدایات کے مطابق ہی استعمال کرنا چاہیے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے