• ستمبر 19, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 19, 2026 3:08 صبح
  • پاکستان

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ قومی معاملات کو اتفاق رائے سے حل کرنا ہوگا۔

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ قومی معاملات کو اتفاق رائے سے حل کرنا ہوگا۔ باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم سے ہی ملکی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ کراچی میں بی این پی مینگل کے زیر اہتمام شاہوانی اسٹیڈیم کے سانحہ کے سلسلے میں منعقدہ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں اختر مینگل، محمود اچکزئی، علامہ ناصر عباس، سلمان اکرم راجہ و دیگر کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کی اے پی سی بلائی جائے اور ڈائیلاگ سے مسائل حل کیے جائیں۔

اے پی سی میں آئین کی بالادستی، پارلیمان کی مضبوطی اور انصاف کی فراہمی، بلوچستان کے مسائل، ملک میں امن کے قیام، صوبوں کی وحدت اور قومی مسائل کے حل کیلیے مشترکہ بیانیہ بنایا جائے۔ حکومتی اتحادی چوہدری شجاعت اور اپوزیشن رہنماؤں کے خیالات سے کوئی انکار کر ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ جو مطالبات ہیں وہ انتہائی اہم اور ملکی صورتحال میں بہتری لانے کے لیے ضروری اور کسی تاخیر کے بغیر اے پی سی کے ذریعے ان کا حل نکالا جانا چاہیے۔

ان مطالبات و تقاریر میں ملکی وحدت، سیاسی استحکام کی بجائے صوبوں کی وحدت برقرار رکھنے کے لیے نئے صوبوں کے قیام کا کوئی فیصلہ قبول نہ کرنے کا بھی اعلان کیا گیا جب کہ حکومت نئے صوبوں کا مسئلہ پارلیمان میں لانے کا کہہ چکی ہے اور حکومتی وزراء یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی تجویز دینے والے وزیر داخلہ پارلیمان میں بولیں گے تو جواب لیں گے۔

اس وقت یوں تو ملک بے شمار مسائل اور دہشت گردی میں گھرا ہوا ہے جس کے حل پر تو حکومت اور اپوزیشن ایک آواز ہیں مگر سب سے اہم دہشت گردی پر پارلیمان میں غور ہوا نہ اس کا حل نکالا جا سکا اور آئندہ ماہ پارلیمان میں نئے صوبوں کے سلسلے میں سرکاری اعلان ضرور ہوا ہے جس کو اپوزیشن رہنما کراچی میں قبول نہ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں مگر اپوزیشن کی اتنی اکثریت پارلیمنٹ میں نہیں ہے کہ وہ سندھ اسمبلی کی طرح کا اکثریتی فیصلہ کرا سکیں۔

ملک میں اس وقت نئے صوبوں اور انتظامی یونٹوں کا ایشو سیاسی جماعتوں اور حکومتی حلقوں میں زیر بحث ہے اور ان دونوں ہی حلقوں میں اختلاف رائے بھی پایا جا رہا ہے سندھ اسمبلی اور پی پی کے وزیر اعلیٰ سندھ دونوں تجاویز سندھ کی حد تک مسترد کر چکے مگر پیپلز پارٹی پنجاب کی تقسیم کی حامی ہے جس پر (ن) لیگ کے رہنماؤں کا موقف ہے کہ اگر پنجاب تقسیم ہوا تو سندھ بھی ضرور تقسیم ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کہہ چکے ہیں کہ کوئٹہ میں بیٹھ کر صوبہ نہیں چلایا جا سکتا، اس لیے نئے صوبے اور انتظامی یونٹوں کا قیام ضروری ہے۔مولانا فضل الرحمن کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ دو صوبے آگ میں جل رہے ہیں اور نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے۔

پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کی اور مسلم لیگ (ن) پنجاب کی تقسیم کے خلاف ہیں تو پی ٹی آئی بھی کے پی کی تقسیم اور وہاں ہزارہ صوبہ کا قیام کبھی نہیں چاہے گی، اس طرح نئے صوبوں کے قیام پر تو اختلافات واضح ہو چکے ہیں۔کراچی میں اپوزیشن رہنماؤں نے جو مطالبات کیے ہیں ،ان میں دہشت گردی کے خاتمے سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور دکھاوے کے لیے ہر پارٹی آئین کی پاسداری کی حمایت تو ضرور کرے گی مگر آئین کی پاسداری پر حقیقی طور عمل اتحادی حکومتی جماعتوں کے مفاد میں نہیں ہے اور اپوزیشن حکومت کو غیر قانونی اور فارم 47 کی پیداوار قرار دے چکی ہے جو حکومتی جماعتوں کے نزدیک درست نہیں اور اگر تمام جماعتوں کی اے پی سی منعقد ہو بھی گئی تو وہاں اپوزیشن شرکت کرکے حکومت کے غیر قانونی ہونے پر اصرار اور نئے انتخابات کا مطالبہ ضرور کرے گی جو حکومت کو قبول نہیں ہوگا۔

حکومت نئے انتخابات فوری کرانے پر کبھی راضی نہیں ہوگی کیونکہ ابھی تک نئے چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے لیے ابتدا ہی نہیں ہوئی اور موجودہ کے خلاف اپوزیشن متحد ہے کہ ان کی موجودگی میں منصفانہ انتخابات ممکن نہیں۔ پارلیمان کی مضبوطی اور انصاف کی فراہمی کا جو اپوزیشن کا مطالبہ ہے اس پر پارلیمان کے مضبوط نہ ہونے کی تمام ہی پارٹیاں ذمے دار ہیں جو پارلیمنٹ کو خود مضبوط کرنا نہیں چاہتیں اور قومی اسمبلی میں کورم مستقل مسئلہ بنا ہوا ہے جہاں تمام ارکان اجلاسوں میں شریک نہیں ہوتے اور 342 کے ایوان میں اکثر کورم پورا نہیں ہوتا اور چند ارکان کی موجودگی میں غیر قانونی کارروائی سے ملک و قوم کے فیصلے کیے جاتے ہیں جو ملک و قوم کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی ہے۔

ارکان پارلیمنٹ اپنی قومی ذمے داری سے انصاف نہیں کر رہے اور اپوزیشن انصاف کی فراہمی پر اے پی سی چاہتی ہے جب کہ موجودہ حالات میں حکومت کو فائدہ ہو رہا ہے جس نے آئینی ترامیم خود کرائی تھیں جن کی وجہ سے بقول اپوزیشن عدلیہ کمزور ہوئی ہے جہاں سے انھیں انصاف نہیں مل رہا اور حکومتی اقدامات اعلیٰ عدالتی احکامات کے برعکس ہیں اور حکومت خود انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ہے اور حالات سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ ملک میں سیاسی استحکام نہ ہونے کی ذمے داری حکومت اور اپوزیشن پر عائد ہوتی ہے اور دونوں کے اپنے اپنے مفادات اور مطالبات ہیں اور مجوزہ اے پی سی میں کوئی فریق اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور اپنی اپنی انا پر ڈٹے رہ کر ملکی مفاد کے لیے متفق نہیں ہوں گے۔

اپوزیشن اور حکومت ملک کو درپیش دہشت گردی پر اگر خصوصی توجہ دیں اور مل کر کوئی فیصلہ کر سکیں تو یہ سب کے مفاد میں ہوگا۔ آئین کی بالادستی سیاسی جماعتوں کے ہاتھ میں ہے نہیں اور نہ اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف حکومت کا ساتھ دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت اور فورسز کی حکمت عملی مشترکہ ہے اور دونوں کو اپوزیشن کے تعاون کی بھی ضرورت ہے اور ایسے حالات میں قومی معاملات پر اتفاق رائے ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ حکومت اور اپوزیشن کے اپنے اپنے سیاسی مفادات ہیں مگر ملک کی سلامتی پر اگر دونوں فریق اتفاق رائے کر لیں اور اپنی ترجیحات عارضی طور تبدیل کر لیں تو ایک مسئلہ تو حل ہو سکتا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے