• اکتوبر 3, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 3, 2026 3:58 صبح
  • پاکستان

ایک ماہ کے شیر خوار کو کئی بار بیچ دیا گیا، والدین سمیت 7 افراد گرفتار

باپ کی لاش چار سال تک فریج میں کیوں رکھی؟ خاندان نے حیران کن وجہ بتادی

خلائی مخلوق یا دیوہیکل جہاز؟ اسٹار شپ کی لائیو اسٹریم میں پُراسرار’یو ایف او‘ کی جھلک وائرل

امریکا میں 200 سال بعد سزائے موت پانے والی خاتون نے 2 بار موت کو چکما دے دیا

اردو کے جدید غزل گو شعرا میں ایک اہم نام قابل اجمیری کا ہے۔ قابل اجمیری ایک پختہ گو شاعر تھے جن کی زندگی مشکلات کا شکار رہی اور اس کا انجام درد ناک ہوا۔ وہ اردو کے جواں مرگ شعرا میں سے ایک ہیں جنھیں بعد از مرگ افسانوی شہرت ملی۔

مشہور ہے کہ جگر مراد آبادی نے حیدرآباد سندھ میں منعقدہ ایک مشاعرہ میں قابل اجمیری کو حاضرین سے متعارف کروایا تھا۔ قابل نے اس مشاعرے میں کلام سنایا اور شعرا و باذوق سامعین سبھی سے خوب داد پائی۔ یہ سلسلہ آگے بڑھا اور قابل مشاعروں میں مدعو کیے جانے لگے جس نے ان کی شہرت میں‌ اضافہ کیا۔

قابل اجمیری کو اردو زبان کا بے مثل شاعر کہا جاتا ہے جو جوانی میں‌ یہ دنیا چھوڑ گئے تھے۔انھیں ٹی بی کا مرض لاحق تھا۔ قابل اسپتال میں زیر علاج بھی رہے اور بظاہر ان کی صحت بہتر ہو رہی تھی، لیکن اس روز اچانک مرض نے اپنا اثر دکھایا اور قابل کو اپنے ساتھ لے گیا۔

قابل اجمیر نے ہندوستان کے مشہور شہر اجمیر میں 1931ء میں آنکھ کھولی۔ ان کا اصل نام عبد الرّحیم تھا۔ انھوں نے مولانا عبدالباری معنی کے کتب خانے سے استفادہ کیا اور جگر جیسے اساتذہ کی صحبت میں رہنے کا شرف حاصل کیا۔ قابل کی زندگی میں‌ ان کا کوئی شعری مجموعہ شایع نہیں ہوسکا تھا، البتہ پہلے مجموعۂ کلام دیدۂ بیدار میں شامل غزلیں قابل کی ہی یکجا کردہ تھیں۔

کہتے ہیں کہ قابل اجمیری کی زندگی پر ان کی ایک ناکام محبت نے بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ قابل کے دادا کے اجمیر کے مکان کے دو حصّے تھے۔ گھر کا بالائی حصہ پر عبد الرّحمٰن عرب کرائے پر مقیم تھے جن کی ایک لڑکی عطیہ قابل کی ہم عمر تھی۔ قابل نے جب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو وہ اس لڑکی کے حسن و جمال پر فدا ہو گئے۔ رشتہ مانگا گیا مگر عرب صاحب نے قابل کی بے روزگاری کا بہانہ کرکے ٹال دیا اور اپنے رشتہ داروں میں بیٹی کو بیاہ دیا۔ قابل کا دل بہت تڑپا اور عرب صاحب کے لیے بھی ان کے دل میں میل آگیا۔ ممکن تھا کہ قابل کچھ عرصہ بعد اس ناکام محبت کو فراموش کرکے زندگی کے راستے پر چل پڑتے لیکن ایک عجیب بات ہوئی۔ دراصل قابل کے استاد مولانا عبد الباری معنی انھیں بہت چاہتے تھے۔ معنی صاحب اپنے شاگرد خاص کو تڑپتا ہوا نہ دیکھ سکے اور اُنھوں نے عرب صاحب کے خلاف ایک پوسٹر چھوا کر یہ مشہور کر دیا کہ وہ عبدالرّحمن عرب دراصل یہودی ہیں اور انھوں نے مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ اسی طرح لوگوں میں چند اور باتیں‌ بھی پھیلا دی گئیں جن کی وجہ سے عبد الرحمن عرب کو سر بازار پیٹا گیا اور ان پر عدالت میں مقدمہ ہوگیا۔ عرب صاحب کا تعلق عراق سے تھا، وہ بڑے زبردست عالم تھے اور مسجد میں امامت کرتے تھے اور مصنف بھی تھے۔ الغرض ان کی بڑی رسوائی ہوئی بلکہ ان کی جان کو بھی خطرہ پیدا ہوگیا۔ عبد الرحمن عرب پر ایک الزام مدینہ فنڈ کا تھا۔ اہل مدینہ کے لیے لوگوں سے یہ کہہ کر رقم اکٹھی کی گئی تھی کہ یہ مدینہ بھجوائی جائے گی۔ معنی صاحب نے کسی طرح امام مسجد نبوی سے اس کی تحریری طور پر تصدیق کرائی کہ ایسی کوئی رقم سرکاری یا غیر سرکاری طور پر اہل مدینہ کو نہیں بھجوائی گئی۔ اس پر لوگوں نے عرب صاحب کو جو عطیات دیے تھے، ان کی واپسی کا مطالبہ شروع کر دیا اور بات طول پکڑ گئی۔ اب عرب صاحب کا اجمیر میں رہنا مشکل ہو گیا اور ان کا خاندان سب کچھ چھوڑ کر عراق لوٹ‌ گیا۔

قابل اجمیری تقسیم کے فوراً بعد تنِ تنہا پاکستان چلے آئے۔ والدین دنیا میں‌ رہے نہیں‌ تھے اور انھیں کوئی روکنے ٹوکنے والا بھی نہ تھا۔ وہ مہاجرین کے ہمراہ حیدر آباد سندھ کے ریلوے اسٹیشن پر اترے ایک اسکول میں قائم مہاجر کیمپ میں آگئے۔ کچھ عرصہ بعد قابل کے دادا دادی اور بھائی بھی ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور قابل کو اپنا خاندان مل گیا۔ اب مستقل رہائش کے لیے رقم چاہیے تھی جو کہ ان کے پاس نہ تھی۔ قابل نے بھی چھوٹی گھٹی کے ایک سہ منزلہ خالی گھر پر قبضہ جما لیا۔ پھر کچھ سوچ کر یہ مکان چھوڑا اور اسٹیشن روڈ پر سیمنٹ بلڈنگ کے ایک خالی مکان میں جا کر رہنے لگے۔ ان کی غیر موجودگی میں کسی خاندان کی خواتین اس مکان پر قابض ہو گئیں اور اس طرح انھیں اس مکان سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔ آزاد میدان حیدر آباد میں گرو سنگت کی وسیع عمارت خالی پڑی تھی۔ اس عمارت کا ایک بیرونی کمرہ مکان نما بیٹھک تھا جس کے سامنے چائے کا اسٹال تھا اور یہاں سے پان بھی ہر وقت مل جاتا تھا۔ سکھوں نے جوں ہی اس عمارت کو خالی کیا قابل نے ایک کمرے پر قبضہ جما لیا۔ اب قابل صاحب کو چند کرسیاں اور ایک پلنگ بھی مل گیا تھا اور گرو سنگت کے عقب میں اختر ہوٹل بھی کھل چکا تھا۔ نہ کھانے کا مسئلہ نہ چائے پان کی دستیابی کی فکر۔ ایک شاعر کو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اس ہوٹل کا مالک قابل صاحب کی شاعری کا قدر دان بن چکا تھا اور وہ قابل صاحب کو ادھار پر کھانا مہیا کرنے میں تامل نہ کرتا۔ قابل اجمیری نے 15 سال تک اس گھر میں قیام کیا۔ بعد ازاں وہ سرفراز کالونی اردو بازار لطیف آباد منتقل ہو گئے جہاں وہ اپنی زندگی کے آخری دن تک رہے۔

لڑکپن میں عشق کے ساتھ ساتھ قابل کو ادا کاری کا بھی جنون رہا۔ ایک دفعہ وہ مولانا ماہر القادری کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فلمی لائن اختیار کرنے کے لیے ان سے مدد مانگی جو کسی زمانے میں بمبئی میں فلمی دنیا سے وابستہ رہے تھے اور کام یاب گیت نگار تھے۔

قابل اجمیری کو تپِ دق کا مرض ورثے میں ملا تھا۔ ان کے والدین بھی اس مرض میں مبتلا ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ 1949ء میں قابل کو اس بیماری کی تشخیص ہوئی۔ ابتدائی مرحلے میں فورا علاج کیا گیا اور قابل رو بہ صحت ہونے لگے۔ علاج چلتا رہا اور کچھ افاقہ بھی ہو جاتا لیکن قابل مکمل طور پر صحت یاب نہ ہو سکے۔ اس وقت قابل کی بطور شاعر شہرت اور مقبولیت اتنی تھی کہ حکومت سندھ نے ان کے علاج کے لیے مالی امداد کا یقین دلایا تھا لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ وہ کئی مرتبہ اسپتال میں زیر علاج رہے۔ اسی دوران ان کی ملاقات نرگس سوسن سے ہوئی جو نرس تھیں اور عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی تھیں۔ انھوں نے قابل کا بیماری کے دوران بہت خیال رکھا تھا۔ نرگس ان سے مانوس ہوتی چلی گئیں۔ وہ ان کی شخصیت اور شاعری سے متاثر ہوگئی تھیں۔ نرگس کی توجہ اور دیکھ بھال نے قابل کو بھی جینے کا حوصلہ بخشا۔ وہ اپنے دُکھ بھول کر زندگی کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے لگے اور نرگس کے قبولِ اسلام کے ساتھ ہی ان کی شادی ہوگئی۔ قابل کو جینے کا حوصلہ نرگس نے دیا مگر اولاد ہو جانے کے بعد قابل میں جینے کی امنگ پیدا ہو گئی تھی کیونکہ اب ان کی زندگی سے دو اور زندگیاں وابستہ ہو چکی تھیں۔ بیٹے کا نام قابل نے روشن ضمیر رکھا لیکن اس کی سالگرہ پر ٹھیک ایک سال بعد 3 اکتوبر 1962ء کو قابل کا انتقال ہو گیا۔ یوں لوگوں کے کہنے سننے پر بیٹے کا نام تبدیل کر دیا گیا۔ قابل اجمیری نے اپنے آخری دن حیدر آباد میں ہی اپنے گھر میں‌ گزارے اور وہیں وفات پائی۔

قابل تمام عمر غم جاناں اور غم روزگار کو ساتھ ساتھ لیے پھرتے رہے۔ جب بیماری کی تشخیص ہوئی تو قابل کسی کام کرنے کے قابل ہی نہیں رہے۔ اس کے باوجود انھوں نے جسم و جاں کا ربط برقرار رکھنے کے لیے کچھ عرصہ عرائض نویسی کی اور صحافت میں بھی ہاتھ پاؤں مارتے رہے۔ قابل کی گزر اوقات زیادہ تر مشاعروں کے معاوضوں پر ہوتی رہی۔ شادی کے بعد گھر کا خرچ ان کی شریک حیات اپنی تنخواہ سے چلاتی رہیں۔ بیٹے کی پیدائش کے بعد اخراجات میں اضافہ ہونے لگا مگر قابل اپنی بیماری کی وجہ سے کچھ زیادہ کام کرنے کی ہمّت نہیں‌ رکھتے تھے اور وہ تا عمر غم روزگار میں مبتلا رہے۔

والدین کے بعد قابل اجمیری کو ان کے دادا دادی نے سنبھالا تھا اور وہیں بچپن میں انھیں عبد الرحمن عرب جیسی شخصیت کی گود اور ان کے زیر سایہ تعلیم و تربیت بھی میسر رہی، جن سے بعد میں قابل کو رنجش ہوگئی تھی۔ قابل نے ابتدائی تعلیم اجمیر کے دار العلوم سے حاصل کی۔ قرآن ختم کیا اور دس سال کی عمر میں صرف و نحو کی تعلیم مکمل کی۔ کم عمری میں شعر کہنے لگے تھے۔ ان کے تعلیمی ریکارڈ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک محنتی اور لائق طالب علم تھے لیکن جلد تعلیم کو خیر باد کہہ دیا۔ تاہم قابل نے اجمیر کے جس ماحول میں آنکھ کھولی تھی وہاں ہر طرف علمی اور ادبی سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ قابل اجمیری پڑھائی سے کنارہ کش ہونے کے بعد اکثر شعرا و ادبا کے درمیان وقت گزارتے اور ان کی علمی گفتگو سے استفادہ کرتے رہے۔ اسی ماحول کا اثر تھا کہ وہ خود بھی مصرعے موزوں کرنے لگے تھے اور بعد میں بطور شاعر شہرت اور نام پایا۔

(اس مضمون کی تیاری میں خالد مصطفیٰ کی مرتب کردہ کتاب قابل اجمیری:‌ شخصیت و فن سے استفادہ کیا گیا ہے)

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے