• ستمبر 20, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 20, 2026 8:48 شام
  • پاکستان

شادی کی تقریب میں دولہا کی مشین گن سے فائرنگ

24سال سے قید بچوں نے پہلی بار سورج کی روشنی دیکھی

آگ اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے کا بیگ، حیرت انگیز ایجاد

لندن سے بنگلادیش جانے والی پرواز میں مسافر لڑ پڑے، ویڈیو وائرل

برصغیر میں مغلیہ سلطنت کے قیام سے قبل فیروز شاہ تغلق کا نام ایک نیک سیرت اور عادل حکم راں کے طور پر تاریخ میں محفوظ ہوا وہ اپنے چچا زاد سلطان محمد بن تغلق کی وفات کے بعد سلطنتِ دہلی کے تاجدار بنے تھے۔ مؤرخین کے مطابق تغلق خاندان سلطنتِ دہلی کا چوتھا خاندان تھا، جس نے 1320ء سے 1414ء تک راج کیا۔ اس کا بانی غیاث الدین تغلق تھا۔

فیروز شاہ تغلق کا دورِ حکومت 1351ء سے 1388ء تک قائم رہا۔ فیروز شاہ 20 ستمبر کو انتقال کرگئے تھے۔ تاریخ کی کتب میں لکھا ہے کہ فیروز شاہ، محمد بن تغلق کے چچا زاد بھائی تھے جس نے بیماری کے دوران اپنی تیمار داری اور خدمت کرنے پر متأثر ہو کر فیروز شاہ کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ فیروز شاہ تغلق کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ نیک سیرت اور عادل حکم راں تھے۔ انھوں نے فلاحی کاموں کو ترجیح دی اور رعایا کو ابتری اور بدانتظامی سے نجات دلانے کے لیے اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ سلطنت میں اسلامی تعلیمات اور مسلم اقدار کے احیا و فروغ کی کوششیں کیں۔ فیروز شاہ تغلق کے والد کا نام رجب تھا جو سلطان غیاث الدّین تغلق کے بھائی تھے۔ نوعمری میں‌ فیروز شاہ اپنے والد کے سائے سے محروم ہوگئے تھے۔ ان کے بعد تغلق شاہ نے ہی فیروز شاہ کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داریاں نبھائی تھیں۔

مشہور ہے کہ جب فیروز شاہ کو یہ اطلاع دی گئی کہ وہ اقتدار سنبھالیں گے تو اُس وقت وہ محمد بن تغلق کی موت پر ماتمی لباس پہنے ہوئے تھے۔ تاریخی کتب میں آیا ہے کہ ‘فیروز شاہ نے ماتمی لباس اتارنے سے انکار کردیا اور شاہی لباس اس کے اوپر پہن لیا۔ سواری کے لیے ہاتھی آیا، ہاتھی پر جب وہ سوار ہوئے تو باجوں کا شور و غل تھا اور خوشی کے مارے خلقت آپے سے باہر ہوئی جاتی تھی۔ جیسے شادی کا ماحول ہو۔ بادشاہ ہاتھی پر سوار حرم میں گئے۔ اور وہاں جاکر خداوند زادہ کے قدموں پر سَر رکھا۔ اس نے سَر کو اٹھا کر اپنے گلے لگایا اور تاج، فیروز کے سر پر رکھا۔’

یحییٰ بن احمد سرہند اس امر کا ذکر کرتے ہیں کہ ’’بادشاہِ مغفور، محمد تغلق شاہ کے عہدِ سلطنت میں وجود میں آنے والی ہر طرح کی ستم گری، شقاوت، زیادتی، ملک تباہی و بربادی اور رعیّت کے اَمن و سکون اور راستوں کے امن وامان میں بدل گئی اور علماء و مشائخ کی تعداد اور فروغِ علم و فضل میں اضافہ ہوا۔‘‘

مؤرخین کے مطابق سلطان نے باغیوں کو وحشت ناک سزائیں نہ دینے کا جواز شریعت سے پیش کیا۔ فرشتہ کے بقول فیروز شاہ کہتا تھا کہ ’’مجھ سے پہلے کے بادشاہوں کی یہ کچھ عادت سی بن گئی تھی کہ معمولی معمولی جرائم پر اپنی رعایا یا اپنے ماتحت عملہ کو سخت سے سخت اور بیہودہ سے بیہودہ سزائیں دیا کرتے تھے۔ میرے نزدیک یہ سزائیں غیر مشروع بھی ہیں اور ظالمانہ بھی، میں نے یہ سب ممنوع قرار دے دیں اور بات بات پر مسلمانوں کا خون بہانا جرم ٹھہرایا۔‘‘ یہ فیروز شاہ تغلق کا ایک امتیازی وصف ہے کہ انھوں نے تخت کے حصول یا اس کے استحکام کے نام پر قتل و غارت گری نہیں کی۔

کئی روایات میں آیا ہے کہ سلطان کے دور میں غریب خاندان کی بیٹیوں کی شادی کے اخراجات بھی شاہی خزانے سے ادا کیے جاتے تھے۔ تغلق خاندان کے ایک مشہور مؤرخ سراج عفیف راوی ہیں کہ 38 سال میں ہزاروں غریب گھرانوں کی لڑکیوں کے نکاح اور شادی پر شاہی خزانے سے رقم خرچ کی گئی۔ سلطان فیروز شاہ نے ہندوستان میں رفاہِ عام کی غرض سے دریاؤں سے تیس نہریں نکالیں اور کوشش کی کہ زیادہ سے زیادہ زمین آباد ہو سکے۔ اس کے علاوہ مساجد، سرائیں، شفا خانے اور تعلیمی ادارے تعمیر کروائے۔ کہتے ہیں کہ سلطان کے دور میں تقریباً دو سو شہر آباد کیے گئے جن میں جون پور، فیروز پور اور فیروز آباد بہت مشہور ہیں۔

سلطان فیروز شاہ تغلق صوفیا اور مشائخِ کرام سے قلبی لگاؤ رکھتے تھے اور ان کے دور میں بعض علما اور درویشوں کو وظائف بھی جاری کیے جاتے تھے۔ آج بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع جونپور میں قدیم عمارتیں بھی اس دور کی یاد تازہ کرتی ہیں اور انہی میں سے ایک فیروز شاہ کا مقبرہ بھی ہے۔ یہ مقبرہ شہر کے محلّہ سپاہ میں لبِ سڑک موجود ہے۔ اسی حوالے سے ہندوستان کی تاریخ اور ثقافت پر تحریر کردہ ایک مضمون سے یہ اقتباس بھی ملاحظہ کیجیے:

ہندوستان کے تاریخی شہر کو جونپور کو فیروز شاہ تغلق نے بسایا تھا۔ اس حکم راں نے اپنے چچا زاد بھائی جونا شاہ کے نام پر 1361ء یہ شہر آباد کیا تھا۔ چودھویں صدی عیسوی کے اواخر میں ملکُ الشّرق خواجہ جہاں ملک سرور نے اسے ’’دارُ السرور‘‘ کا نام دیا۔ اس کے ڈھائی سو سال بعد مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے اسے ’’شیرازِ ہند‘‘ اور ’’دارُ العلم‘‘ جیسے لقب سے نوازا۔

تاریخی تذکروں میں لکھا ہے کہ فیروز شاہ تغلق اپنے دورۂ بنگال کے بعد دہلی واپس جارہا تھا تو موسم کی صعوبتوں سے بچنے کے لیے اس نے کچھ مدّت ظفرآباد میں قیام کیا۔ اس دوران دریائے گومتی کی دوسری جانب شمال مغرب کی سمت اس کو ایک ٹیلہ نظر آیا جسے جائے وقوع کے اعتبار سے اس نے بہت پسند کیا اور یہاں قلعہ تعمیر کرنے کا حکم دے دیا اور اسی قلعہ کے دامن میں شہر جونپور آباد کیا۔ وامق جونپوری لکھتے ہیں کہ فیروز شاہ تغلق نے نہ صرف اس شہر کو آباد کیا بلکہ اس کو مختلف علوم و فنون کا مرکز بنایا۔ ’’شہر کو باوقار اور با رونق بنانے کے لیے دور دراز مقامات سے عالموں، دانشوروں اور صنعت گروں کو بلوا کے یہاں بسایا۔ اس طرح تھوڑی ہی مدت میں جونپور ترقی کر کے ہندوستان کے مشہور و ممتاز شہروں میں شمار ہونے لگا۔‘‘

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے