24سال سے قید بچوں نے پہلی بار سورج کی روشنی دیکھی
آگ اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے کا بیگ، حیرت انگیز ایجاد
لندن سے بنگلادیش جانے والی پرواز میں مسافر لڑ پڑے، ویڈیو وائرل
شوہر نے میکے سے واپس نہ آنے پر بیوی کی ناک کاٹ دی
تہران: عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار سلامتی باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی، اور فوجی مداخلت سلامتی پیدا نہیں کرتی۔
انڈونیشیا میں گلوبل ڈائیلاگ فورم (گلوبل ٹاؤن ہال 2026) سے ہفتے کو آن لائن خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا مشرق وسطیٰ میں کئی دہائیوں کی غیر ملکی مداخلت، فوجی دباؤ اور نہ ختم ہونے والی جنگوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ فوجی مداخلت سلامتی پیدا نہیں کرتی، دباؤ اور جبر امن کا باعث نہیں بنتے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اگر بڑی طاقتوں کے مفادات کے مطابق بین الاقوامی قانون کو نظر انداز کیا جاتا رہے تو پھر قانون کی حکمرانی کی بات نہیں کی جا سکتی، انٹرنیشنل لا اور بڑی طاقتوں کے مفادات کے تصادم کو نظر انداز کرنے سے قانون کی حکمرانی کمزور ہو جا تی ہے۔
حوثیوں نے ریاض پر بیلسٹک میزائل داغ دیا، سعودی اتحاد
انھوں نے کہا اگر اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی ادارے جارحیت کا جواب دینے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو جواب دہ ٹھہرانے میں ناکام ہوتے ہیں تو اس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔
عراقچی کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کو اپنی مشترکہ سلامتی، استحکام، ترقی اور مستقبل کے بارے میں باہمی طور پر بات چیت کرنے اور غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت کے بغیر اپنے حل تلاش کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔
