• ستمبر 21, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 20, 2026 11:58 شام
  • پاکستان

اپنی جنم بھومی پشاور سے بے پناہ محبت کرنے والے اداکار کو پاکستان کے حق میں بات کرنے پر انتہا پسندوں کی نفرت کا سامنا رہا

سرزمین پشاورکی مٹی سے جنم لینے والے تھیٹر اورفلموں کے ناموراداکار اوتارکشن ہنگل 15 اگست 1915کو پشاور شہرکے علاقے ریتی بازارکے ایک کوچے میں پیدا ہوئے۔

ان کے والد پنڈت ہری کشن ہنگل کا تعلق کشمیری پنڈت گھرانے سے تھا،ان کے آباؤاجداد کشمیر سے نقل مکانی کرکے لکھنو میں آباد ہوگئے تھے۔ ہنگل کے دادا پنڈت دیاکشن ہنگل لکھنو سے پشاور آگئے تھے۔ وہ پشاورمیں اسسٹنٹ کمشنرتعینات رہے اوراپنی ڈائری فارسی زبان میں تحریرکیاکرتے تھے۔

ان کے کزن جسٹس شمبھوناتھ پنڈت بنگال ہائی کورٹ کے پہلے ہندوستانی جج تھے۔ ان کے نام سے کلکتہ میں ایک ہسپتال اورایک سڑک منسوب ہے۔ ہنگل کے والد پنڈت ہری کرشن ہنگل اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اورگورنر سیکرٹریٹ میں اعلیٰ عہدہ پرفائض تھے۔ ان کی شادی پشاورکے رسم و رواج کے مطابق نوعمری میں ہوگئی تھی۔ ان کے تین بچے ہوئے،بڑی بیٹی کا نام کرشن کماری، بیٹے کانام ہنگل اورچھوٹی بیٹی کانام بشن کماری تھا۔ ماں کے مرنے کے بعد بڑی بہن کرشن کماری نے ہنگل کا بہت خیال رکھا۔ ہنگل کی والدہ کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔ یہ خاندان اپنے ماموں سے ملنے سیالکوٹ جاتا رہتا تھا۔

ان کے ماموں کٹرنیشنلسٹ تھے،کھدرکا لباس پہنتے تھے،ان کی کوئی اولاد نہ تھی، اس لیے وہ ہنگل کوبہت چاہتے تھے۔ ہنگل کی والدہ کی وفات کے بعد رشتہ داروں کے سمجھانے کے باوجود ان کے والد نے دوسری شادی نہیں کی اور اپنے بچوں کو پالتے پوستے رہے۔ پنڈت ہری کشن موسیقی اورتھیٹر کے بے حد رسیا تھے۔ جب بمبئی کی پارسی تھیٹریکل کمپنی پشاورمیں اپنے ڈرامے سٹیج کرنے آتی تو وہ باقاعدگی سے کم عمر ہنگل کو ساتھ لے تھیٹر جایاکرتے تھے،ہنگل اگلی قطار میں بیٹھ کر بڑی محویت کے ساتھ ڈرامہ دیکھتے رہتے۔ بچپن کایہی ذوق وشوق تھیٹر سے ان کے والہانہ لگاؤ اوروابستگی کاسبب بنا۔ ہنگل نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر کے قریب ایک اسلامی مدرسہ سے حاصل کی جہاں ان کے تمام دوست مسلمان لڑکے تھے۔

پرائمری تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان کے والد نے انہیںقلعہ بالاحصار کے سامنے خالصہ ہائی سکول داخل کرادیا۔ اس جگہ اب فرنٹئیر وویمن کالج قائم ہے۔ ہنگل کے والد موسیقی کے بڑے شوقین تھے۔ وہ اکثر اپنے دوستوں کے ساتھ سیر و سیاحت کے لیے پشاورکے تفریحی مقام سخی چشمہ یاجیلانی کے چھپر چلے جاتے تھے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں ہنگل اپنے والد کے ساتھ سیاحتی مقام نتھیاگلی چلے جاتے جہاں انگریزگورنر اوران کا سٹاف چھٹیاں گزارنے جاتا تھا۔

ہنگل کویہ پر فضا پہاڑی مقام بے حد پسند تھا۔ وہ پڑھائی میں کم زورتھے اس لیے ان کے والد نے گھر پر پڑھانے کے لیے استاد کا بندوبست کر رکھا تھا۔ ہنگل اپنا تمام ہوم ورک بھی اس شریف النفس ٹیچر ہی سے کراتے تھے البتہ ان کی ڈرائنگ بہت اچھی تھی۔ ایک دفعہ سکول میں استاد نے بل اوجہ ان کے چہرے پر مکا مارکرانہیں زخمی کردیا اس دن کے بعد ان کی تعلیم سے رہی سہی دلچسپی بھی ختم ہوگئی۔

ایک روز ان کی سکول کے سامنے سرخ وردی میں ملبوس رضاکاروں کاجلوس گزرا۔ یہ رضاکارخدائی خدمت گارکہلاتے تھے۔ اس جلوس کا سربراہ ایک طویل قامت خوب صورت پٹھان نوجوان تھا۔ بعد میں ہنگل کومعلوم ہواکہ ان کے سربراہ باچاخان تھے جوگاندھی جی کے دست راست تھے۔ ہنگل باچاخان کے گرویدہ ہوگئے۔ وہ پشاورکی سیاسی اورسماجی شخصیات حکیم عبدالجیل ندوی،اچرچ رام گھمنڈی، امیرچند بموال اورنیکودیوی کے بھی بڑے مداح رہے۔

ہنگل نے آزادی کی جدوجہد میں برطانوی سامراج کے خلاف فعال حصہ لیا۔ اپنے والد کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا کنبہ پشاور سے کراچی منتقل ہوگیا جہاں انہیں 3 سال قید کی سزا ہوئی۔ ہندوہستان کی تقسیم کے بعد ان کو جیل سے رہائی ملی اور وہ ممبئی منتقل ہوگئے۔ ہنگل کا جھکاؤ بائیں بازو کی طرف رہا، وہ ایک راسخ العقیدہ کمیونسٹ تھے اور ان کی خواہش تھی کہ پاکستان اور ہندوستان میں کمیونزم نافذ ہو۔ وہ اپنے نظریات کی وجہ سے کراچی جیل میں قید وبندکی صعوبتیں برداشت کررہے تھے کہ اچانک یہ حکم صادرہواکہ انہیں حیدرآباد جیل منتقل کیا جائے۔ جب انہیں حیدرآباد جیل منتقل کیا گیا تو اس جیل منتقلی کا احوال انہوں نے اپنے انٹرویو میں کچھ یوں بیان کیا،

’’جب مجھے حیدرآباد جیل منتقل کیا گیا تو وہاں غنی خان بھی قید تھے، غنی خان غفار خان کے صاحبزادے اور ولی خان کے بھائی تھے، انہوں نے مجھے کہا کہ میں کیوں پاکستان میں رہ رہا ہوں، انہوں نے مزیدکہا کہ تم ایک ہندو ہو اورتمہارا یہاں کیا مستقبل ہے، میں نے جواباً کہا کہ آپ ایک مسلمان ہیں اورجیل میں ہیں، آپ کا یہاں کیا مستقبل ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم پختونوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے، گو کہ گانگریس نے ہم سے دھوکا کیا‘‘

کراچی میں اپنی رہائش کے دوران انہوں نے ایک درزی کی دکان پر ملازمت کی تھی۔ دکان کے مالک سے ان کی دوستی تھی بلکہ گانا سننے کے لیے بھی دونوں اکٹھے جایا کرتے لیکن اے کے ہنگل کیونکہ کمیونزم سے متاثر تھے، چنانچہ انہوں نے کراچی میں ٹیلرنگ ورکرز یونین کی بنیاد رکھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دوست نے ہنگل اور دیگر ملازمین کونکال باہر دیا۔

1946 میں انہیں کمیونسٹ پارٹی کا سیکریٹری منتخب کیا گیا، جیل جانے کے بعد حکومت پاکستان اور انڈیا کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت ان کی انڈیا منتقلی کے احکامات آئے تو انہوں نے جانے سے انکار کر دیا، اس کے بعد ان کی نظربندی کے احکامات میں مزید چھ ماہ کا اضافہ کر دیا گیا، قصہ مختصر آخرکار انہیں زبردستی ہندوستان بھیج دیا گیا۔

اوتار ایک آزاد خیال اور مذہبی ہم آہنگی کا پرچار کرنے والے انسان تھے، وہ پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار گاہے بہ گاہے کرتے رہتے تھے، انڈیا کے انتہا پسند مذہبی رہنما بال ٹھاکرے کو ان کی یہ ادا پسند نہ آئی، شیوسینا کے رہنمانے اے کے ہنگل پر غداری کا الزام لگایا، ان کی فلموں کا بائیکاٹ کیا گیا، شیوسیناکی طرف سے ان کے پتلے نذرآتش کیے گئے جب کہ متعدد فلموں سے ان کے سین بھی خارج کردیئے گئے۔

اوتار نے اس کا جواب یوں دیا۔ ’’بال ٹھاکرے نے 6 دسمبر 1992 میں بمبئی میں ہونے والے بم دھماکوں اور ایودھیا کے واقعے کے بعد بیان دیا کہ میں اینٹی انڈین ہوں، میں نے اسے بتایا کہ میں اس وقت سے دیش بھگت ہوں جب آپ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، ہم آزادی کی جدوجہدکے لیے لڑے اورجیل گئے، ہم نے قربانیاں بھی دیں، ہمیں آپ سے دیش بھگتی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے، مجھے روز رات کو قتل کی دھمکیاں ملتی رہیں لیکن میں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، آپ مہارا شٹر کا بڑا لیڈر ہونے کا دعوی کرتے ہیں جب کہ میں نے مہاراشٹرکے لیے قربانیاں دیں، میں جب بمبئی آیا تو میں نے مہاراشٹر موومنٹ میں حصہ لیا،جس میں میری بیوی بھی شامل تھی، اسے اُس جیل بھیجا گیا جہاں پر خطرناک مجرموں کو رکھا جاتا تھا۔‘‘

ہنگل پاکستان سے بہت محبت کرتے تھے، ان کی خواہش تھی کہ سال میں ایک بار پاکستان ضرور آئیں۔

وہ ہندوستان جاکر بھربلراج ساہنی اور کیفی اعظمی کے ساتھ تھیٹر گروپ اپٹا میں کام کرنے لگے۔1946 میں انہوں نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز 30 سال کی عمر میں بھاسو بھٹیا چاریہ کی فلم ’’ تیسری قسم ‘‘ سے کیا۔ ہنگل نے زیادہ تر عمر رسیدہ لوگوں کے کردار ادا کیے، فلم ’’شعلے ‘‘ میں ان کا امام صاحب کا کردار’’رحیم چاچا‘‘ ناقابل فراموش بن گیا۔ اے کے ہنگل نے لگ بھگ تین سو فلموں میں کام کیا، ان کی آخری فلم’’ ہم سے ہے جہاں ‘‘ تھی۔ انہوں نے8 ٹیلی وژن کے ڈراموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔

اے کے ہنگل نے زیادہ تر بھارت کے پہلے سپر اسٹار راجیش کھنہ کے ساتھ فلمیں کیں۔ دونوں فن کاروں نے ’’آپ کی قسم ، امردیپ، پھر وہی رات، قدرت، نوکری، تھوڑی سی بے وفائی‘‘ اور’’ سوتیلا بھائی‘‘ جیسی فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔ جس عمر میں لوگ خودکو بوڑھا کہہ کر ہر کام سے بری الذمہ ہوجاناچاہتے ہیں، اس عمر میں اے کے ہنگل نے پہلی مرتبہ کیمرے کا سامنا کیا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ 96سال کی عمر میں وہیل چیئر پر فیشن شو میں شرکت اور 97سال کی عمر میں ایک اینی میٹیڈ فلم اور ٹی وی شو کے لیے وائس اوورکرانا اس بات کا واضح پیغام ہے کہ بڑھاپا‘ اے کے ہنگل کے لئے کبھی رکاوٹ نہیں بنا۔ اے کے ہنگل آخری سانس تک کام کرتے رہے۔ وہ بہت خوددار انسان تھے۔ آخری دنوں میں انہیں پیسے کی سخت تنگی رہی۔ بیماری اور ضغیفی کے باوجود انہوں نے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔

پاکستان سے انڈیا ہجرت کرنے والے روشن خیال ہندودانشور انڈیا میں بھی انتہا پسندی کا شکار ہوئے۔ ان کے نہ چاہتے ہوئے بھی ان کو ہندوستان بھیج دیا گیا اور پھر اپنے وطن سے محبت کے جرم میں ان کے خلاف اشتعال انگیزی کی گئی۔ غسل خانے میں گرنے کے سبب ان کی ران کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی،جس سے ان کی صحت گرتی رہی، 26 اگست 2011 میں ان کے سینے میں تکلیف اورسانس لینے میں دشواری شروع ہوئیجس پرانہیں سینٹا کروس (ممبئی) کے آشا پاریکھ ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں 97 سال کی عمر میں ہنگل نے اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے