کیا دن رات کا دورانیہ ہمیشہ 24 گھنٹے ہی رہتا ہے؟ تحقیق میں نیا انکشاف
نیپال میں پہاڑ چند سیکنڈز میں ٹوٹ کر دریا میں گر گیا، ویڈیو وائرل
ٹریفک ای چالان اب بجلی کے بل میں لگ کر آئیں گے؟ تجویز پیش کر دی گئی
ایک ملک کے وزیراعظم پر موبائل فون چوری کا الزام، پارلیمنٹ نے استثنیٰ ختم کر دیا!
الخلیل(30 ستمبر 2026): مقبوضہ فلسطین کے شہر الخلیل میں واقع تاریخی مسجدِ ابراہیمی کو یہودی عید کی تقریبات کے موقع پر مسلمانوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
انتہا پسند اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر نے سیکڑوں غیر قانونی یہودی آبادکاروں کے ہمراہ مسجدِ ابراہیمی پر دھاوا بول دیا۔ اسرائیلی فوج نے یہودی تہوار کے نام پر مسجد میں مسلمانوں کے داخلے پر دو روز کے لیے مکمل پابندی عائد کر دی ہے، اور اس دوران صرف یہودیوں کو ہی مسجد میں داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ 1994 میں ایک یہودی آبادکار نے اس مسجد میں داخل ہو کر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں 29 نمازی شہید ہو گئے تھے۔
مسجدِ ابراہیمی میں حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السلام کے مزارات واقع ہیں، اسی وجہ سے یہ مقام مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کے لیے مقدس مانی جاتی ہے۔
اس وقت الخلیل شہر میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں، جبکہ اس کے برعکس یہاں صرف چند سو غیر قانونی یہودی آبادکار رہائش پذیر ہیں۔
