عدالت نے واضح کردیا کہ معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کیا جاسکتا ہے، نہ ہی اس میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے
31 اگست 2026 کا دن بین الاقوامی قانون اور پاکستان کی آبی سلامتی کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ عالمی عدالتِ ثالثی نے سندھ طاس معاہدے کی حیثیت اور ’راتلے ہائیڈرو پراجیکٹ‘ سے متعلق اپنے تاریخی فیصلے میں پاکستان کے مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے بھارت کے یکطرفہ اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
عدالت نے متفقہ طور پر کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو "معطل" نہیں کر سکتا۔ عدالتِ ثالثی کے مطابق: " سندھ طاس معاہدہ نہ ختم ہوا ہے اور نہ ہی معطل بلکہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت اس کی تمام شرائط و پابندیوں کی پاسداری کرنے کا پابند ہے"۔ یہ پاکستان کے لیے سب سے بڑی قانونی جیت ہے۔ کیونکہ 2023 میں بھارت نے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا تھا۔ عالمی عدالت کے اس فیصلے سے دنیا کے سامنے یہ واضح ہو گیا کہ طاقت کے بل پر بین الاقوامی معاہدے توڑے نہیں جا سکتے۔
عدالت ثالثی نے بھارت کی جانب سے پیش کیے گئے تمام دلائل کا تفصیلی جائزہ لیا اور ایک ایک کرکے ان کی قانونی حیثیت واضح کی۔
عدالت نے واضح کیا کہ ریاستی خودمختاری کسی ملک کو یہ اختیار نہیں دے دیتی کہ وہ یک طرفہ طور پر کسی بین الاقوامی معاہدے کی شرائط سے انحراف کرے۔ بھارت اپنے اس مؤقف کے حق میں کوئی ٹھوس اور قابلِ قبول ثبوت پیش نہیں کر سکا کہ معاہدے کی ایسی بنیادی خلاف ورزی ہوئی ہے جو اس کے خاتمے یا معطلی کا جواز بن سکے۔ بھارت نے اپنے دلائل میں دہشت گردی کو بھی ایک وجہ کے طور پر شامل کیا تھا، تاہم عدالت نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ "اگر الزامات کو درست بھی مان لیا جائے تب بھی انہیں معاہدے کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا جا سکتا۔" چنانچہ پانی کے معاہدے کو دہشت گردی کے الزامات سے جوڑنا قانونی طور پر قابلِ قبول نہیں۔ بھارت کی جانب سے جو دلائل پیش کئے گئے اُن میں یہ بھی کہا گیا کہ اب حالات میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان مسلح تصادم اور جوابی اقدامات کا تذکرہ بھی کیا گیا۔ عدالت نے ان تمام دلائل کا بھی جائزہ لیا اور قرار دیا کہ ان میں سے کوئی بھی بنیاد سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کے لیے کافی نہیں۔ فیصلے کا بنیادی پیغام واضح ہے کہ سندھ طاس معاہدہ سیاسی دباؤ یا یک طرفہ فیصلوں کی بنیاد پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اس معاہدے کی سب سے بڑی شق فریقین کی دوطرفہ رضا مندی ہے۔ عدالت نے معاہدے کی شق نمبر 12 کی یاد دہانی کراتے ہو کہا کہ معاہدے کی واضح شرائط کے مطابق سندھ طاس معاہدہ نہ تو یکطرفہ طور پر ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس میں تبدیلی ممکن ہے۔ اس کی ترمیم کے لیے بھارت اور پاکستان کا باہمی اتفاق رائے سے ایک نئے معاہدے پر دستخط کرنا ضروری ہے۔ یعنی ایک فریق اکیلا اسے معطل نہیں کر سکتا۔ یہ شق اب دنیا بھر کے لیے ایک مثال بن گئی ہے کہ سرحد پار دریاؤں کے معاہدے کتنے نازک اور اہم ہوتے ہیں۔ راتلے ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ پر پاکستان نے 5 عبوری اقدامات کا تقاضہ کیا تھا۔ عدالت نے ان میں سے 3 منظور کر لیے۔
اقدام A اور B کے مطابق بھارت کو ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک پر ایک مخصوص سطح سے اوپر کنکریٹ ڈالنے سے روک دیا گیا۔ یہ پابندی جولائی 2027 میں آنے والے نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے 90 دن بعد تک رہے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارت اب ڈیم کو اپنی مرضی سے مکمل نہیں کر سکتا۔ اقدام C: بھارت کو مجبور کیا گیا کہ وہ تعمیراتی شیڈول میں کوئی بھی تبدیلی عدالت، نیوٹرل ایکسپرٹ اور پاکستان کو بتائے۔ شفافیت کو یقینی بنایا گیا۔ اقدام D اور E مسترد کر دیے گئے کیونکہ عدالت نے کہا کہ ان کی فوری ضرورت نہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ 3 اقدامات پاکستان کے لیے "پروسیجرل جیت" ہیں۔ اس سے بھارت کی یک طرفہ تعمیر کو روک دیا گیا ہے۔
ثالثی عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں جو تین اہم فوائد حاصل ہوئے ہیں ان کے مطابق یہ بات طے ہو گئی کہ بین الاقوامی معاہدے طاقت کے بل پر نہیں بلکہ قانون اور باہمی رضامندی کے اصولوں کے تحت قائم رہتے ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے معاملے میں پاکستان کا مؤقف بھی درست ثابت ہوا۔ دوسرے یہ کہ اب پاکستان ہر بین الاقوامی فورم پر یہ کہہ سکتا ہے کہ ایک غیر جانبدار عدالت نے ہمارے موقف کی تائید کی ہے۔ تیسرے نمبر پر یہ ہوا کہ اگر بھارت کو یہ اجازت مل جاتی تو کل چین، نیپال، ترکی سمیت تمام بالائی ممالک بھی یہی کرتے۔ عدالت نے پانی کو بلیک میلنگ کا ہتھیار بننے سے روک دیا۔
اب بال بھارت کے کورٹ میں ہے۔ اس کے پاس 2 آپشنز ہیں یا تو عدالت کے فیصلے کو مان کر مذاکرات کی میز پر آئے یا مزید الگ تھلگ ہونے کے لئے تیار ہو جائے۔ دوسری طرف پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ
1۔ نیوٹرل ایکسپرٹ کے عمل کو تیز کرے تاکہ جولائی 2027 کا فیصلہ جلد آئے۔
2۔ عالمی بینک اور اقوام متحدہ کو شامل رکھے تاکہ دباؤ برقرار رہے۔
3۔ اندرونی طور پر آبی ذخائر اور کینال سسٹم کو بہتر کرے تاکہ کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کیا جا سکے۔
31 اگست 2026 کا فیصلہ صرف ایک قانونی دستاویز نہیں ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ 24 کروڑ پاکستانیوں کا پانی کوئی سیاسی سودا نہیں ہے۔
1960 سے قائم سندھ طاس معاہدہ دو جنگوں کے باوجود برقرار رہا ہے۔ عدالت کے فیصلے نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اور دشمنی سے کہیں زیادہ مضبوط قانونی فریم ورک رکھتا ہے۔ اس معاہدے کا تحفظ خطے میں تعاون اور استحکام کے امکانات کو زندہ رکھ سکتا ہے جبکہ اس کا خاتمہ عدم اعتماد، کشیدگی اور تصادم کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔
اب دنیا کے سامنے قانونی مؤقف واضح ہو چکا ہے۔ اگلا قدم فیصلے پر عمل درآمد اور معاہدے کی پاسداری کا ہے۔
سندھ طاس معاہدہ اور ’راتلے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ‘
سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائے سندھ کے آبی وسائل کی تقسیم سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی معاہدہ ہے۔ یہ معاہدہ 19 ستمبر 1960ء کو بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو اور پاکستانی صدر ایوب خان نے ورلڈ بینک کی معاونت سے کراچی میں طے کیا۔
معاہدے کے تحت دریائے سندھ کے نظام کے چھ بڑے دریاؤں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا:
مغربی دریا: سندھ، جہلم اور چناب — ان کے پانیوں کے بنیادی استعمال کا حق پاکستان کو دیا گیا۔
مشرقی دریا: راوی، بیاس اور ستلج — ان کے پانیوں کا بنیادی حق بھارت کو دیا گیا۔
معاہدے میں دونوں ممالک کے لیے بعض مخصوص شرائط اور محدود استعمال کی اجازت بھی رکھی گئی، مثلاً بھارت کو مغربی دریاؤں پر مخصوص نوعیت کے آبپاشی اور پن بجلی منصوبے بنانے کی اجازت ہے، بشرطیکہ وہ معاہدے کی مقررہ شرائط کے مطابق ہوں۔
معاہدے کے تحت اختلافات کے حل کے لیے ایک مستقل سندھ کمیشن (Permanent Indus Commission) بھی قائم کیا گیا۔ بڑے اختلافات کی صورت میں ثالثی یا ماہرین کے ذریعے تنازع حل کرنے کے طریقء کار کی بھی گنجائش رکھی گئی۔
سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی وسائل کے انتظام کا بنیادی فریم ورک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری آبی تنازعات میں اس کی مرکزی حیثیت ہے۔
راتلے (Ratle) ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا تنازع بنیادی طور پر یہ ہے کہ بھارت دریائے چناب پر اس منصوبے کو کس ڈیزائن اور پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے ساتھ تعمیر کر سکتا ہے، اور یہ ڈیزائن سندھ طاس معاہدے کی شرائط سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ عالمی بینک بھی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان راتلے اور کشن گنگا منصوبوں کی تکنیکی خصوصیات پر اختلاف ہے۔ پاکستان نے 2016ء میں معاملہ Arbitration of Court میں لے جانے کا طریقہ اختیار کیا۔ جبکہ بھارت نے اسی نوعیت کے تکنیکی اختلافات کے لیے Expert Neutral کا طریقہ اختیار کیا۔ ورلڈ بینک نے 2022ء میں دونوں طریقء کار کے لیے بالترتیب Sean Murphy کوArbitration کا چیئرمین اور Michel Lino کو Neutral Expert مقرر کیا۔ اسی عرصے میں بھارت نے اس ثالثی عمل اور اس کے بعض فیصلوں کو مسترد کیا، جبکہ پاکستان نے عدالت کے عمل کو معاہدے کے تحت جائز قرار دینے والے مؤقف کی حمایت کی۔ اس لیے راتلے کا تنازع اب صرف ڈیم کے انجینئرنگ ڈیزائن تک محدود نہیں رہا بلکہ سندھ طاس معاہدے کی تشریح، تنازعات کے حل کے طریقء کار اور معاہدے کی موجودہ قانونی حیثیت سے بھی جڑ گیا ہے۔
