میڈیکل بورڈ کی سربراہی ڈاؤ اسپتال کی پروفیسر ڈاکٹر صبا سہیل کررہی ہیں
گزشتہ سال جولائی میں سی ویو پر گاڑی سے گر کر جاں بحق ہونے والے نوجوان سلطان ظفر کی قبر کشائی کے لیے میڈیکل بورڈ پہنچ گیا۔
میڈیکل بورڈ کی سربراہی ڈاؤ اسپتال کی پروفیسر ڈاکٹر صبا سہیل کررہی ہیں جبکہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید بھی موقع پر پہنچ گئی ہیں۔
سلطان ظفر مبینہ حادثے کے دوران شدید زخمی ہوئے تھے اور حادثے کے 7 روز بعد انتقال کر گئے تھے۔ اہل خانہ کی درخواست پر سلطان ظفر کی موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے عدالت نے قبر کشائی کے احکامات جاری کیے تھے۔
سلطان ظفر کی تدفین کوہی گوٹھ میں واقع آبائی قبرستان میں کی گئی تھی۔ والدہ کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ ساحل تھانے میں درج کیا گیا تھا۔
سلطان ظفر کی خالہ مہر فیروز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سلطان کو گزشتہ سال جولائی میں حادثہ پیش آیا، وہ زخمی ہوئے تھے تاہم 7 دن بعد انتقال ہوگیا۔ سلطان نے اپنے اعضا عطیہ کرنے کا بھی کہا تھا۔
مہر فیروز کے مطابق سلطان کے دوستوں کا کہنا تھا کہ وہ 20 کی رفتار پر گاڑی سے اترا تھا۔ ایف آئی آر درج کرانے میں ہمیں 6 ماہ لگے اور مقدمہ عدالتی حکم کے بعد درج کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں شبہ ہے کہ سلطان کو مارا گیا تھا، عدالتی احکامات کے بعد ہی قبر کشائی کی گئی ہے اور امید ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا۔ حادثے کے وقت سلطان کے 7 دوست ان کے ساتھ تھے۔
مہر فیروز کا کہنا تھا کہ قبر کشائی کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا کہ سلطان کے ساتھ کیا ہوا۔ سلطان کے سر پر کئی فریکچر تھے جبکہ پولیس ہمیں حادثے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کر رہی۔
انہوں نے کہا کہ پولیس سے تفتیش کی درخواست کی تھی، تاہم اتنے عرصے بعد قبر کشائی سے میڈیکل ٹیم کو کیا نتائج ملیں گے، کچھ معلوم نہیں۔
