• ستمبر 11, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 11, 2026 6:46 شام
  • پاکستان

دنیا کی سب سے ’’ دُبلی پتلی کار‘‘، ریکارڈ بُک میں نام درج

اسلام آباد میں محبت کی یادگار، صوبیہ محل کی دلچسپ داستان

سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

(11 ستمبر 2026): روبوٹ کو انسانیت کا دشمن قرار دیا جا رہا ہے لیکن یہی روبوٹس انسانوں کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

جب سے اے آئی کا وجود ہوا ہے، اس کے انسانیت پر ہونے والے منفی اثرات زیر بحث ہیں اور ماہرین مستقبل میں اس کو انسانیت کے لیے زہر قاتل یا دشمن قرار دے رہے ہیں۔ تاہم مستقبل کا یہی دشمن آج انسانوں کے حق میں مظاہرہ کر رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق پولیند کے دارالحکومت وارسا میں 30 روبوٹس نے منفرد کارنامہ انجام دیا اور انسانوں کے حق میں سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

احتجاج کرنے والے روبوٹس نے نہ صرف اپنے مطالبات کے حق میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، بلکہ انہوں نے موقع پر موجود صحافیوں کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔

روبوٹس نے مطالبہ کیا کہ مصنوعی ذہانت و روبوٹائزیشن کے لیے مزید سخت ضوابط بنانے کا مطالبہ کیا۔

پولینڈ کی وزارتِ ڈیجیٹل امور کے سامنے کیے گئے اس احتجاج میں ہیومنائیڈ روبوٹس کے ساتھ چار ٹانگوں والے روبوٹس بھی شامل تھے اور وہ نعرے بھی لگا رہے تھے۔

مظاہرے میں ’ملازمتوں کا دفاع کرو‘، ’قواعد بنانے کا وقت ہے‘ اور ’انتظار مت کرو، ضوابط بناؤ‘ جیسے نعرے سنائی دیے۔ اس دلچسپ احتجاج نے ایک طرف روبوٹ ٹیکنالوجی کی موجودہ صلاحیتوں کی جانب توجہ دلائی تو دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر روبوٹس انسانوں کے لیے بنائے گئے کام انجام دینے لگیں تو مستقبل میں روزگار کی صورتِ حال کیا ہوگی۔

پولینڈ کے وزیرِ ڈیجیٹل امور کرسٹوف گاکوفسکی نے بھی احتجاج کے مقام کا دورہ کیا اور منتظمین سے ملاقات کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قابو سے باہر مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو انسان نما روبوٹس میں شامل کیا گیا اور یہ مشینیں کام کے دوران مسلسل اپنی صلاحیتیں بڑھاتی رہیں تو اس کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ مظاہرے کا اہتمام ’ڈیموکریٹزم‘ نامی تنظیم نے کیا تھا، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت اور روبوٹائزیشن کے لیبر مارکیٹ پر اثرات کے بارے میں بحث کو فروغ دینا ہے۔

تنظیم کے منتظم گریگورز کولیِش اس وقت اس بات پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے کہ انسان نما روبوٹس اور مصنوعی ذہانت نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی نوعیت کے کاموں میں بھی انسانوں کی جگہ لے سکتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے پر ابھی سے کوئی لائحہ عمل مرتب نہ کیا گیا تو مستقبل قریب میں ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ مستقبل کے خدشات سے نمٹنے کے لیے ایسے قوانین اور ضوابط ضروری ہیں جو ملازمین کے لیے حفاظتی ڈھال کا کردار ادا کریں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے