روبوٹس کا انسانوں کے حق میں مظاہرہ!
دنیا کی سب سے ’’ دُبلی پتلی کار‘‘، ریکارڈ بُک میں نام درج
اسلام آباد میں محبت کی یادگار، صوبیہ محل کی دلچسپ داستان
سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل
انڈہ ابالنا بظاہر تو ایک معمولی سا کام ہے، لیکن اسے مطلوبہ انداز میں پکانے کے لیے وقت کا درست تعین خاص اہمیت رکھتا ہے جس سے من پسند زردی حاصل ہوسکے گی۔
ماہرین کے مطابق صرف ایک دو منٹ کا فرق انڈے کی زردی کو مائع، نرم، کریمی، جیم جیسی یا مکمل سخت حالت میں تبدیل کرسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انڈہ ابالتے وقت گھڑی پر نظر رکھنا اس کے حتمی ذائقے اور ساخت میں نمایاں فرق پیدا کرتا ہے۔
اگر زردی کو بالکل پتلی اور مائع حالت میں پسند کیا جاتا ہے تو انڈے کو تقریباً 4 منٹ تک ابلتے پانی میں رکھنا مناسب ہے۔ اس مرحلے پر سفیدی ہلکی سی جم جاتی ہے، جبکہ زردی تقریباً مکمل طور پر مائع رہتی ہے۔
5 منٹ تک ابالنے پر سفیدی پوری طرح پک جاتی ہے، تاہم زردی کا اندرونی حصہ گاڑھا اور کریمی رہتا ہے۔ یہ انداز ان افراد کے لیے موزوں ہے جو نرم مگر قدرے گاڑھی زردی پسند کرتے ہیں۔
6 منٹ کا وقت انڈے کو ایک درمیانی کیفیت تک پہنچاتا ہے، اس دوران زردی کا بیرونی حصہ سخت ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ مرکز میں موجود حصہ نرم اور کسٹرڈ جیسی گاڑھی ساخت اختیار کرلیتا ہے۔
اگر انڈے کو مزید پکایا جائے اور 8 منٹ تک ابالا جائے تو زردی کا زیادہ تر حصہ جم جاتا ہے، تاہم اس کا درمیانی حصہ قدرے گہرا، نم اور جیم جیسی ساخت کا حامل رہتا ہے۔ یہ کیفیت نرم اور مکمل سخت انڈے کے درمیان ایک درمیانی مرحلہ سمجھی جاسکتی ہے۔
10 منٹ تک ابالنے کے بعد سفیدی اور زردی دونوں اچھی طرح جم جاتے ہیں اور انڈہ مکمل طور پر سخت ہوجاتا ہے۔ یہ انداز ان لوگوں کے لیے موزوں ہے جو زردی کو نرم یا مائع کے بجائے مکمل پکی ہوئی حالت میں پسند کرتے ہیں۔
اسی طرح 12 منٹ تک ابالنے پر زردی مکمل طور پر خشک اور سخت ہوجاتی ہے اور اس کا رنگ ہلکا پیلا نظر آتا ہے۔ ایسی زردی سلاد، سینڈوچ یا انڈے کا پیسٹ تیار کرنے کے لیے زیادہ موزوں رہتی ہے۔
ماہرین کے مطابق انڈہ ابالتے وقت صرف دورانیہ ہی نہیں بلکہ انڈے کے سائز، ابتدائی درجہ حرارت اور پانی کے ابلنے کی شدت بھی نتیجے پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ اسی لیے مطلوبہ ساخت حاصل کرنے کے لیے ایک ہی طریقہ استعمال کرتے ہوئے وقت کو مستقل رکھنا بہتر ہے۔
یوں انڈہ ابالنے کے لیے کوئی ایک ’’درست‘‘ وقت نہیں، بلکہ پسند کے مطابق مختلف اوقات میں مختلف نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ 4 منٹ سے 12 منٹ تک کا فرق زردی کو مائع سے مکمل سخت حالت تک پہنچا دیتا ہے، اس لیے گھڑی کا درست وقت ہی انڈے کی مطلوبہ کیفیت کا بنیادی راز ہے۔
