• ستمبر 25, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 25, 2026 10:18 شام
  • پاکستان

آرم ریسلر نے بچی کے والد سے جان بوجھ کر ہار کر سب کے دل جیت لیے

2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت

ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی

شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی

ڈاکٹروں نے ایجاد کیا۔ گرمی گرمی کو مارتی ہے۔ زہر زہر اتارتا ہے۔ سنا نہیں چیچک و طاعون کے ٹیکے انہی بیماریوں کے زہر سے بنائے جاتے ہیں۔ پھر یہ خدا پرست لوگ نیا علاج کیوں نہیں کرتے۔ میں عیسائیوں، آریوں اور مسلمانوں کو اپنی ایجادِ جدید سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں تاکہ وہ لوگوں کو خدا پرستی کی تندرستی اور روح کی درستی عطا کریں اور خدا کی بھول سے بندوں کو بچائیں۔ جو عافیت شکن مرض ہے۔

قرآن میں خدا نے فرمایا ہے، جب بندہ پر مصیبت آتی ہے یا وہ بیمار ہوتا ہے تو خلوصِ قلب سے خدا کو یاد کرتا ہے اور جب تندرست ہوتا ہے تو ایسا بے خبر ہو جاتا ہے۔ گویا کبھی خدا سے کام ہی نہ پڑا تھا۔ انجیل و تورات میں بھی انسان کی اس فطری خصلت کا ذکر آیا ہے۔ پس منطقیانہ نتیجہ یہ نکلا کہ آدمی کو بیمار ڈالنا اور مصیبت میں مبتلا کرنا چاہیے تاکہ وہ خدا پرستی کرے اور خدا سے غافل نہ ہو۔

اس حالت میں پادری صاحبان کو لازم ہے کہ شفا خانے بند کر دیں اور ایسی دوائیں تقسیم کریں جن سے انسان بیمار زیادہ ہوں۔ بیماریاں بڑھیں گی تو خدا پرستی بھی ترقی کرے گی۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کو بھی لازم ہے کہ وہ کونسلوں میں تجویز پیش کریں اور شہروں قصبوں سے سرکاری اسپتال اٹھوا دیں۔ کیونکہ ان عام دوا خانوں نے ہم کو ازحد تندرست کر دیا ہے اور اس تندرستی سے ہماری ایمان درستی میں فرق آرہا ہے۔ فطرت بدلتی رہتی ہے۔ تو ہم کو بھی بدلتا رہنا چاہیے۔ کیا ضرورت ہے کہ ہم وعظ کہہ کر اپنا دماغ خراب کریں اور کتابیں ہدایت و خدا پرستی کے لیے تصنیف کرکے اپنا روپیہ کھوئیں۔

بہت آسان علاج ہے۔ نہایت مزے دار نسخہ ہے۔ کھلی ہوئی بات ہے جس میں غور و خوض کی ضرورت ہی نہیں مگر میں کہ اس نسخہ کا موجد ہوں از راہ حفظ ماتقدم عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھ پر اس نسخہ کا تجربہ نہ کیا جائے۔ میں پریشانی و بیماری میں خدا کو اتنا یاد نہیں کرتا جتنا تندرستی میں جھک جھک کر اس کی عبادت بجا لاتا ہوں اور کہتا ہوں، اے مولیٰ اس بھول کے عالم گیر زمانہ میں میری یاد قبول کر، میں تجھ کو کیوں کر بھولوں کہ تیرے احسان اور تیری نعمتیں مجھ کو سر سے لے کر پاؤں تک دبائے ڈالتی ہیں اور تو مجھ کو اس قدر یاد آتا ہے کہ زندگی کے مزے میں کرکراہٹ ہونے لگتی ہے۔ ہر گھڑی خیال یہی کہتا ہے کہ زندگی کے تماشے ہیچ ہیں جو کچھ ہے زندہ خدا کی دید و شنید میں ہے۔

چونکہ میں اس کلّیہ سے مستثنیٰ ہوں۔ لہٰذا مجھ کو بیمار ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے۔ واجب جان کر عرض کیا۔

(اردو کے ممتاز انشا پرداز اور ادیب خواجہ حسن نظامی کا سماجی طنز اور ظرافت پر مبنی مضمون جو ان کی کتاب چٹکیاں اور گدگدیاں میں شامل ہے)

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے