• ستمبر 21, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 21, 2026 2:15 شام
  • پاکستان

میں نے اپنی صحافتی ذمہ داریوں کے دوران مختلف جماعتوں کے جلوسوں، ٹرین مارچ اور دھرنوں کی رپورٹنگ کی ہے۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے یہ تمام سرگرمیاں اپنے مخصوص مطالبات کے حق میں حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے اختیار کی جاتی ہیں۔ اسے جمہوری اور سیاسی عمل کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

سیاسی جماعتیں ٹرین مارچ یا حکومت کے خلاف دھرنے حکومت ہٹاؤ تحریک، جمہوریت کی بحالی کی تحریک، پارٹی کی رابطہ عوام مہم یا پارٹی قائد کی رہائی جیسے ایشوز پر کرتی رہی ہیں۔

البتہ حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں جماعت اسلامی کے گزشتہ 36 دن سے ملک بھر کے 42 شہروں میں جاری دھرنوں اور اب اسلام آباد کی جانب مارچ میں بجلی کے بلوں اور پیٹرول کی قیمتوں جیسے مسائل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

اپنی تین دہائیوں پر مشتمل صحافتی ذمہ داریوں کے دوران کئی تحریکیں دیکھی ہیں۔ اس تحریک کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ جماعت اسلامی عام لوگوں کے بنیادی مسائل کو ملکی سطح پر اپنی احتجاجی مہم کی بنیاد بنا رہی ہے۔

اس ٹرین مارچ سے پہلے جماعت اسلامی کراچی میں ٹوٹی سڑکوں کی تعمیر، پینے کے پانی کی فراہمی، گندے پانی کی نکاسی اور پبلک ٹرانسپورٹ جیسے عوامی مسائل کے حل کیلئے 29 دن تک سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا بھی دے چکی ہے۔ صوبے بھر میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے سندھ حکومت پر دباؤ ڈالنا بھی اس کی احتجاجی سرگرمیوں کا حصہ رہا ہے۔ بلا آخر سندھ سرکار کو انتخابات کروانے ہی پڑے۔

بجلی بنانے والے اداروں، آئی پی پیز، کے منافع اور کیپیسٹی پیمنٹ کے نام پر بجلی بنائے بغیر ہر سال اربوں روپے کی ادائیگیوں کا معاملہ جماعت اسلامی کی تحریک میں نمایاں طور پر اٹھایا گیا۔ ماہرین کے ڈرائنگ روم سے نکل کر عوام کی بیٹھکوں میں بھی آئی پی پیز گفتگو کا موضوع بننے لگیں۔ مری روڈ دھرنے سے پہلے حکومتی وزراء کا خیال تھا کہ آئی پی ایز سے مزاکرات ممکن نہیں ہیں اور ایسا کرنے کی صورت میں معاملات عالمی عدالت انصاف میں جاسکتے ہیں۔ پھر اسلام آباد کے دروازے پر 14 روز تک دھرنا دے کر ان معاہدوں پر نظرثانی کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔

ساتھ ہی جماعت اسلامی نے حکومت میں رہنے والے سیاسی خاندانوں اور اداروں کی ان کارخانوں میں ملکیت کا معاملہ بھی اٹھایا۔ بلاآخر محسن نقوی و دیگر وزراء کی موجودگی میں جماعت اور حکومت کا آئی پی ایز پر نظر ثانی کرنے کا معاہدہ ہوا۔ حال ہی میں حکومت نے بتایا کہ صرف پہلے مرحلے میں آدھی سے بھی کم تعداد میں آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات اور نئے معاہدوں کی صورت میں ملکی خزانے کو 4300 ارب سے زائد کا فائدہ ہوا ہے۔

حافظ نعیم نے ذکر کیا کہ کچھ ماہ قبل ملاقات میں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے کہا کہ بقیہ آئی پی پیز سے معاہدوں پر نظرثانی کرنے کیلئے مذاکرات کب کریں گے۔ ان کے بقول وزیراعظم صاحب کا جواب تھا کہ اس کیلئے تو آپ کو ایک اور دھرنا دینا پڑے گا۔ وزیر اعظم کی جانب سے ایسی بات ایوان میں کوئی سیٹ نہ رکھنے والی پارٹی کو ایک طرح سے خراج تحسین بھی تھا تو دوسری طرف اپنے کمزور ہونے کا اظہار بھی۔

میں اس وقت رپورٹنگ کیلئے اپنے ادارے کی جانب سے کیمرا پرسن عدنان علی کے ساتھ جماعت اسلامی کے ٹرین مارچ کا حصہ ہوں۔ مارچ کے شرکاء رات سکھر میں قیام کرکے پیر کی سہ پہر ملتان کے لیے روانہ ہوں گے۔

میرا مشاہدہ ہے کہ کراچی گورنر ہاؤس پر 36 دن کے دھرنے کے بعد حافظ نعیم الرحمان کا اتوار کی دوپہر کراچی سے اسلام آباد کیلئے شروع ہونے والا ٹرین مارچ بھی ان مسائل پر توجہ مرکوز کر رہا ہے جن کا سامنا عام آدمی اپنی روزمرہ زندگی میں کرتا ہے۔

کراچی میں تو جماعت اسلامی کا تنظیمی کام اور جڑیں گہری ہیں، اس لیے مارچ کی روانگی کے موقع پر کینٹ اسٹیشن پر خواتین سمیت لوگوں کی بڑی تعداد میں موجودگی پر حیرت نہیں ہوئی۔

لیکن کراچی اور حیدرآباد سے آگے ٹنڈو آدم، شہداد پور، نواب شاہ، بھریا سٹی، محراب پور اور روہڑی تک درمیان میں آنے والے ہر چھوٹے بڑے اسٹیشن پر جس طرح جماعت اسلامی کے ٹرین مارچ کے شرکاء اور حافظ نعیم الرحمان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، وہ میرے لئے حیرت انگیز تھا، کیوں کہ جماعت اسلامی عام طور پر شہری علاقوں کے پڑھے لکھے متوسط اور غریب متوسط لوگوں کی پارٹی سمجھی جاتی ہے۔ سندھ کے چھوٹے شہروں اور قصبات کے ریلوے اسٹیشنوں پر استقبال کیلئے آنے والوں میں ایک نمایاں تعداد خواتین کی بھی تھی۔

یہ منظر اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ بجلی کے بھاری بل اور مہنگا پیٹرول عام لوگوں کیلئے چاہے مرد ہوں یا خواتین، کس قدر اہم مسئلہ بن چکے ہیں۔

جب حافظ نعیم الرحمان یہ کہتے ہیں کہ حکومتوں میں شامل بجلی کارخانوں کے مالکان مشکوک معاہدوں کے ذریعے بجلی کے بلوں میں اضافہ کرکے اربوں روپے ناجائز منافع کماتے ہیں اور حکومت لیوی، کسٹم اور دیگر ٹیکس لگا کر ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے تک وصول کرتی ہے، تو وہ اپنی بات کو گھر کے کرائے ،بچوں کی فیس ، کھانے پینے کی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں جیسے ان اخراجات سے جوڑتے ہیں جن کا سامنا عام آدمی روزانہ کرتا ہے۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ایک بھی نشست نہ رکھنے والی جماعت اسلامی کے ان مطالبات میں ٹرین مارچ کے استقبال کیلئے آنے والوں کی دلچسپی نمایاں تھی۔ اس وقت جماعت اسلامی کے مطالبات میڈیا اور دانشوروں کی محفلوں میں بھی موضوعِ گفتگو بنے ہوئے ہیں۔

جماعت اسلامی کا ٹرین مارچ پیر کی رات ملتان میں جلسہ کرکے اسلام آباد جانے کیلئے سڑک کے راستے لاہور کی جانب بڑھے گا۔ سندھ میں ملنے والی غیر معمولی عوامی تائید کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب کے شہری اس تحریک میں کس حد تک شریک ہوتے ہیں۔

لیکن اس بات کے مضبوط اشارے مل رہے ہیں کہ جماعت اسلامی کے مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی حکومت پیٹرول لیوی کم کرنے اور پٹرول سستا کرنے کے عوامی مطالبہ کو ماننے پر مجبور ہو جائے گی۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کہتے ہیں کہ انہوں نے عوام کے بنیادی مسائل کو سیاست کی بنیاد بنا دیا ہے۔ اب عوام کے مسائل کو نظرانداز کرکے کسی سیاسی جماعت کیلئے آگے بڑھنا ممکن نہیں رہے گا۔

جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مکہ کی طرف بڑھتا ڈرون!

مریم نواز کا بیان اور زمینی حقائق

پاکستان کرکٹ: نظام کٹہرے میں

ننگشیا ریجن کا میڈیا کلاؤڈ پلیٹ فارم

صوبے یا انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت

صوبے نہیں بن رہے!!

نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹس

سپر ایل نینو: پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی

حیرتوں والی زمین بیجنگ کا سفر

بدلتا پاکستان، قیادت، خدمت اور عالمی اعتماد کا سفر

صوبے بعد میں پہلے شناخت طے کریں!

’’کشمیر فریب زدہ‘‘

تازہ ترین

• 2 منٹ پہلے "جماعت اسلامی کی آسان سیاست "

• 3 منٹ پہلے سلمان خان کترینہ کیف کا نام لیے بغیر ان کے دفاع میں سامنے آگئے

سلمان خان کترینہ کیف کا نام لیے بغیر ان کے دفاع میں سامنے آگئے

• 16 منٹ پہلے دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کے بھائی انتقال کرگئے

دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کے بھائی انتقال کرگئے

• 23 منٹ پہلے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ملک کی بقا کیلئے ناگزیر ہے: مصطفیٰ کمال

نئے انتظامی یونٹس کا قیام ملک کی بقا کیلئے ناگزیر ہے: مصطفیٰ کمال

• 36 منٹ پہلے مجھے اپنی پہلی اولاد، بیٹی سے تقریباً 30 سال تک جدائی کا درد برداشت کرنا پڑا: صباحت بخاری

مجھے اپنی پہلی اولاد، بیٹی سے تقریباً 30 سال تک جدائی کا درد برداشت کرنا پڑا: صباحت بخاری

• 58 منٹ پہلے بنگلادیش میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی، پیٹرول 160 ٹکا فی لیٹر ہوگیا

بنگلادیش میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی، پیٹرول 160 ٹکا فی لیٹر ہوگیا

• 1 گھنٹے پہلے امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو اس بار ایسے نئے ہتھیار استعمال کرینگے کہ دنیا حیران رہ جائے گی: ترجمان پاسداران انقلاب

امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو اس بار ایسے نئے ہتھیار استعمال کرینگے کہ دنیا حیران رہ جائے گی: ترجمان پاسداران انقلاب

• 1 گھنٹے پہلے مکہ مکرمہ: مسجد الحرام کے مؤذن شیخ ابراہیم المدنی انتقال کرگئے

مکہ مکرمہ: مسجد الحرام کے مؤذن شیخ ابراہیم المدنی انتقال کرگئے

ماخذ: Geo News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے