• ستمبر 25, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 25, 2026 7:10 شام
  • پاکستان

آرم ریسلر نے بچی کے والد سے جان بوجھ کر ہار کر سب کے دل جیت لیے

2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت

ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی

شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی

اداکارہ فاطمہ ثنا شیخ نے اعتراف کیا ہے کہ اداکار پیسوں کے لیے اکثر ایسا کام کرتے ہیں جو وہ کرنا نہیں چاہتے۔

ایک دہائی پر محیط کیریئر میں فاطمہ ثنا شیخ نے گیتا پھوگاٹ سے لے کر وزیر اعظم اندرا گاندھی تک کئی طرح کے کردار ادا کیے ہیں اس کے باوجود، وہ کہتی ہیں کہ چند استثنیٰ کے علاوہ ہندی تفریحی صنعت میں خواتین کے لیے گہرائی اور تہوں والے اچھے کردار بہت کم ہیں۔

نئی ویب سیریز ‘ہنکار’ میں پولیس افسر کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ اپنے کردار اور اس بات پر گفتگو کرتی ہیں کہ کیوں اداکار بعض اوقات ایسے کردار ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو وہ نہیں کرنا چاہتے۔

جیو ہاٹ اسٹار پر نشر ہونے والی سیریز ‘ہنکار’ ایک ایسی نوعمر لڑکی کی کہانی ہے جو خود ساختہ ‘گڈ مین’ (مذہبی پیشوا) پر جنسی زیادتی کا الزام لگاتی ہے۔

فاطمہ اس کیس کی تفتیشی افسر اے سی پی جسلین سنگھ سوئن کا کردار ادا کر رہی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ اس کردار کے لیے شکر گزار ہیں لیکن افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ لڑکیوں کے لیے اچھے کردار بہت کم آتے ہیں ایسے کردار جن میں گہرائی اور تہیں ہوں۔ مرد اداکاروں کو اپنی حقیقی صلاحیتوں کو آزمانے کا موقع ملتا ہے۔

فاطمہ کا کہنا ہے کہ خواتین کے لیے اچھے مواقع کا فقدان صرف تفریحی صنعت تک محدود نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنیما معاشرے کا عکاس ہے، صنفی کردار بہت واضح طور پر متعین ہیں۔

اداکارہ کا مزید کہنا تھا کہ وہاں آپ کو کسی ایسے فرد کی ضرورت ہوتی ہے جو کہے، ‘نہیں میں کچھ مختلف کرنا چاہتی ہوں’۔ جب ایسا ہوتا ہے اور قسمت ہمارا ساتھ دیتی ہے تب ہی ہمیں وہ مواقع ملتے ہیں۔

یہ پڑھیں: فاطمہ ثنا کا خوفناک بیماری میں مبتلا ہونے کا انکشاف

اداکارہ کا کہنا ہے کہ مردوں اور خواتین کی عکاسی میں فرق اس باریکی تک پھیلا ہوا ہے جس کے ساتھ کرداروں کو پیش کیا جاتا ہے۔ وہ دلیل دیتی ہیں، "بدقسمتی سے جب خواتین کو ‘گرے شیڈ’ (مثبت اور منفی خصوصیات کے امتزاج) والے کرداروں میں دکھایا جاتا ہے تو انہیں یا تو ‘فتنہ گر’ یا ‘چڑیل’ سمجھا جاتا ہے۔ ہم اب بھی ‘ویمپ’ (منفی کردار) کے دقیانوسی تصور میں پھنسے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ صورتحال بدلے گی کیونکہ ایک خاتون کا کردار شاندار بھی ہو سکتا ہے اور ساتھ ہی وہ الجھن کا شکار بھی ہو سکتی ہے لیکن ہم ابھی اس مقام تک نہیں پہنچے۔

اپنے کیریئر میں فاطمہ نے ایک درجن فلموں اور تین ویب سیریز میں کام کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ آج بہت سے اداکار محدود مواقع کی وجہ سے زیادہ کام نہیں کر پاتے وہ صاف گوئی سے کہتی ہیں کہ "کبھی کبھی انتخاب محدود ہوتے ہیں ایسے اوقات بھی آتے ہیں جب آپ کو ایسا کام کرنا پڑتا ہے جو آپ نہیں کرنا چاہتے لیکن پھر ایسی کیا مجبوری ہے جو اداکاروں کو ان پراجیکٹس کے لیے ’ہاں‘ کہنے پر آمادہ کرتی ہے جو انہیں پسند نہیں ہوتے؟

فاطمہ اس کا جواب دیتی ہیں کہ ہم کوئی امیر گھرانوں سے تو تعلق نہیں رکھتے ایسے لمحات آتے ہیں جب آپ کو سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے اور جو بھی کام ملتا ہے اس میں سے بہترین کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ اس میں وقت اور حالات (ٹائمنگ) کا بھی عمل دخل ہوتا ہے۔ اگر کوئی شو یا فلم کامیاب ہو جائے تو آپ کو مزید 10 کام مل جاتے ہیں۔ اگر وہ کامیاب نہ ہو تو آپ کے پاس مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے