• ستمبر 11, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 11, 2026 10:08 شام
  • پاکستان

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟

روبوٹس کا انسانوں کے حق میں مظاہرہ!

دنیا کی سب سے ’’ دُبلی پتلی کار‘‘، ریکارڈ بُک میں نام درج

یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں پر حملوں اور آبنائے باب المندب کے قریب زمینی پیش قدمی نے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہونے والے اس آبی راستے کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

آبنائے باب المندب نہ صرف یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارتی راستے کا اہم حصہ ہے بلکہ مشرق وسطیٰ سے عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل کے لیے بھی انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

آبنائے باب المندب سے تیل کی عالمی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آبنائے باب المندب کے اطراف حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

باب المندب بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع ہے اور اسے عربی زبان میں ’’آنسوؤں کا دروازہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ تقریباً 100 کلومیٹر طویل اور اپنی کم ترین چوڑائی پر صرف 30 کلومیٹر کے لگ بھگ یہ آبنائے یمن کو افریقی خطے میں واقع جبوتی اور اریٹیریا سے جدا کرتی ہے اور بحیرہ احمر کو خلیج عدن کے ذریعے بحر ہند سے ملاتی ہے۔

یورپ اور ایشیا کے درمیان اہم تجارتی گزرگاہ

بحیرہ احمر یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندری تجارت کا اہم راستہ ہے، جس کے باعث باب المندب دنیا کی مصروف ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔

تیل بردار ٹینکرز اور تجارتی بحری جہاز اس راستے سے نہر سوئیز تک پہنچتے ہیں، جس سے ایشیا، یورپ اور شمالی امریکا کے درمیان بحری سفر میں ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ کم ہوجاتا ہے۔

غزہ جنگ کے دوران حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد نہر سوئیز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی۔

آئی ایم ایف پورٹ واچ کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں نہر سوئیز سے مجموعی طور پر 26 ہزار 895 بحری جہاز گزرے تھے، جو یومیہ اوسطاً 73.7 جہاز بنتے ہیں، تاہم 2024 میں یہ تعداد کم ہوکر 14ہزار 498 اور 2025 میں 14 ہزار 70 رہ گئی۔

جنوری سے اگست 2026 کے دوران اوسطاً 40.8 بحری جہاز روزانہ آبنائے باب المندب کے راستے سے گزرے، جو بحران سے پہلے کی سطح کے نصف سے کچھ زیادہ ہے۔

حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل سے مبینہ تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں، تاہم اب سعودی عرب کے خلاف اعلان کردہ بحری ناکہ بندی اور سعودی بحری جہازوں پر حملوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

سعودی تیل کی برآمدات کو بڑا خطرہ

باب المندب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2023 میں دنیا بھر میں بحری راستے سے منتقل ہونے والے تیل کا تقریباً 12 فیصد اس آبنائے سے گزرا تھا۔

مشرق وسطیٰ کی حالیہ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد باب المندب سعودی عرب سے تیل کی ترسیل کے لیے مزید اہم ہوگیا۔

سعودی عرب کی بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے خام تیل کی ترسیل میں جنگ شروع ہونے کے بعد غیر معمولی اضافہ ہوا اور مارچ سے جولائی تک اوسطاً تقریباً 38 لاکھ بیرل یومیہ تیل برآمد کیا گیا، جو جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا زیادہ تھا۔

تاہم جولائی میں حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کے بعد اگست میں سعودی خام تیل کی ترسیل کم ہوکر تقریباً 15 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی۔

ستمبر کے پہلے 9 روز کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق برآمدات تقریباً 24 لاکھ 40 ہزار بیرل یومیہ رہیں، تاہم اس میں بعد میں تبدیلی ممکن ہے۔

آبنائے باب المندب کی بندش سے غیر یقینی صورتحال

کنگز کالج لندن کے سیکیورٹی ماہر اینڈریاس کریگ کے مطابق باب المندب کی مکمل بندش سے زیادہ بڑا خطرہ مسلسل غیر یقینی صورتحال ہے۔

ان کے مطابق کشیدگی میں طویل عرصے تک اضافے سے نہر سوئیز کے ذریعے بحری ٹریفک مزید متاثر ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں مصر کو نمایاں معاشی نقصان اور یورپ و ایشیا کے درمیان تجارت کو اضافی وقت اور اخراجات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے پر مکمل علاقائی کنٹرول نہ ہونے کے باوجود حوثی پہلے ہی بحری جہازوں کے لیے خطرات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ ساحلی علاقوں پر مزید کنٹرول ان کی بحری کارروائیوں کو مزید مؤثر بناسکتا ہے۔

واضح رہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے باب المندب کے قریب جزیرے پر قبضہ کرلیا جس کے بعد جہاز رانی کو درپیش خطرات بڑھ گئے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثی باغیوں کی پیش قدمی جاری ہے اور یمنی فوج ذباب کے بعد جزیرہ میون سے بھی بھاگ نکلی ہے۔ ذباب پر قبضے کے بعد عملاً باب المندب حوثیوں کے زیرکنٹرول ہے۔

اپنے دفاع سے ہرگز گریز نہیں کریں گے، سعودی وزیرِ خارجہ

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے