• ستمبر 11, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 11, 2026 10:28 شام
  • پاکستان

11 ستمبر 2001 کو امریکا کی تین حساس عمارتوں سے مسافر طیارے ٹکرائے گئے تھے جس میں 3 ہزار ہلاکتیں ہوئی تھیں

11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی ٹوئن عمارتوں اور پینٹاگون پر مسافر بردار ٹکر کر تباہ کرنے کے واقعے کو 25 سال مکمل ہونے پر رکھی گی تقریب میں صدر ٹرمپ ایران کا زکر کیے بغیر نہ رہ سکے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے یہ بات نائن الیون حملے کے 25 واں سال مکمل ہونے کے موقع پر پینٹاگون میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جہاں انھوں نے 9/11 حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کو خراج عقیدت پیش کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ایران جنگ میں امریکی فوجی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی اس وقت بھی دنیا میں دہشت گردی کے سب سے بڑے سرپرست ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے بنیادی مقاصد میں ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت اور پیداوار کو تباہ کرنا، ایرانی بحریہ کو کمزور کرنا، ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیموں کی صلاحیت محدود کرنا اور اسے جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا شامل ہے۔

دوسری جانب ایران امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کو جارحیت قرار دیتا آیا ہے اور یہی مؤقف اپناتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

نائن الیون حملوں کے 25 سال

11 ستمبر 2001 کو 4 مسافر طیاروں کو ہائی جیک کرکے دو طیاروں کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی جڑواں عمارتوں اور پینٹاگون کی عمارت سے ٹکرایا گیا تھا اور چوتھا جہاز پنسلوانیا میں گرگیا تھا جس میں 3 ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حملے کا الزام عائد القاعدہ پر عائد کرتے ہوئے امریکا نے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ شروع کی تھی جس میں افغانستان اور عراق میں فوجی کارروائیاں کیں اور اس کی خارجہ و سکیورٹی پالیسی میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے