• ستمبر 12, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 12, 2026 5:39 شام
  • پاکستان

اس پروگرام کا بنیادی تصور ’الکوحلکس اینانیمس‘ کے 12 نکاتی طریقہ کار سے لیا گیا ہے

موبائل فون، سوشل میڈیا، آن لائن شاپنگ یا ویڈیو گیمز کا ضرورت سے زیادہ استعمال بعض افراد کے لیے روزمرہ زندگی کا سنجیدہ مسئلہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح کی عادات سے نمٹنے کے لیے انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے متاثرہ افراد کے لیے 12 نکاتی پروگرام متعارف کرایا گیا ہے۔

یہ پروگرام 2017 میں شروع ہوا تھا اور اب دنیا بھر میں اس کے ہزاروں ارکان موجود ہیں۔ مختلف ممالک میں اس کے شرکاء سات زبانوں میں آن لائن اور بالمشافہ 100 سے زائد میٹنگز میں حصہ لیتے ہیں، جہاں وہ اپنے تجربات بیان کرنے کے ساتھ ایک دوسرے کو ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے صحت مند حدود مقرر کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

اس پروگرام کا بنیادی تصور ’الکوحلکس اینانیمس‘ کے 12 نکاتی طریقہ کار سے لیا گیا ہے۔ الکوحلکس اینانیمس کی بنیاد 1935 میں رکھی گئی تھی اور بعد میں اس کے اصولوں کو ضرورت سے زیادہ کھانے، بے تحاشا خریداری، جوئے اور ٹیکنالوجی کے ضرورت سے زیادہ استعمال جیسی مختلف عادات سے نمٹنے کے لیے بھی اپنایا گیا۔

انٹرنیٹ سے متعلق اس پروگرام میں آن لائن خریداری کی عادت، مسلسل سوشل میڈیا اسکرول کرنا، ویڈیو گیمز کھیلنے کی لت اور ٹیلی ویژن شوز دیکھنے میں ضرورت سے زیادہ وقت صرف کرنا جیسے مسائل بھی شامل ہیں۔

پروگرام کے پہلے مرحلے میں فرد اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر اس کا اختیار کمزور ہوچکا ہے اور اس کی زندگی متاثر ہورہی ہے۔ اس کے بعد وہ اس یقین کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے کہ اپنی زندگی کو دوبارہ بہتر سمت میں لے جایا جاسکتا ہے اور اپنے فیصلوں کو زیادہ ذمہ داری سے کرنے کا عزم کرتا ہے۔

اگلے مراحل میں فرد اپنی ذات اور اپنی عادات کا بے خوفی سے جائزہ لیتا ہے، اپنی غلطیوں اور خامیوں کو تسلیم کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر کسی قابل اعتماد شخص کے سامنے ان کا اعتراف بھی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے عملی طور پر تیار ہونے اور ان پر کام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

پروگرام میں ایسے تمام افراد کی فہرست بنانے پر بھی زور دیا جاتا ہے جنہیں فرد کے رویے یا عادات سے نقصان پہنچا ہو، اور جہاں ممکن ہو ان سے براہ راست معذرت یا اصلاح کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم اگر ایسا کرنے سے کسی شخص کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو تو یہ قدم نہ اٹھانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

اس کے بعد فرد کو مسلسل اپنا جائزہ لینے اور غلطی سامنے آنے پر اسے فوری طور پر تسلیم کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ آخری مرحلے میں عبادت، مراقبے یا دیگر روحانی مشقوں کے ذریعے اپنے شعوری رابطے کو بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

پروگرام کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں حاصل ہونے والی روحانی بیداری اور تجربات کو ٹیکنالوجی یا انٹرنیٹ کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے دوچار دوسرے افراد تک پہنچانے اور روزمرہ زندگی میں ان اصولوں پر عمل جاری رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے