• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 11:28 صبح
  • پاکستان

جعلی ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد نے خواتین صحافیوں کے تحفظ کا مسئلہ مزید پیچیدہ بنا دیا ہے

پاکستان میں خواتین صحافیوں کو پیشہ ورانہ زندگی میں درپیش خطرات اب صرف نیوز روم یا فیلڈ رپورٹنگ تک محدود نہیں رہے۔ کام کی جگہ پر ہراسانی، فیلڈ میں بدسلوکی اور دھمکیوں کے ساتھ سوشل میڈیا پر کردارکشی، ٹرولنگ، بلیک میلنگ، نجی تصاویر کا غیر رضامندانہ استعمال، جعلی ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد نے خواتین صحافیوں کے تحفظ کا مسئلہ مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

خواتین صحافیوں کے ذاتی تجربات، ملکی و بین الاقوامی تحقیقات اور دستیاب اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مسائل ان کی رپورٹنگ، سوشل میڈیا پر اظہارِ رائے اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ تاہم قوانین اور مختلف ادارہ جاتی فورمز کی موجودگی کے باوجود خواتین صحافیوں سے متعلق الگ اور جامع قومی ڈیٹا دستیاب نہیں ہے

خاتون صحافی لائبہ زینب کہتی ہیں کہ خواتین صحافیوں کو نیوز روم، فیلڈ اور سوشل میڈیا تینوں جگہوں پر صنفی امتیاز، ہراسیت اور نامناسب رویوں کا سامنا رہتا ہے، جس سے ان کے پیشہ ورانہ مواقع اور آزادیِ اظہار متاثر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق صحافت میں نئی آنے والی خواتین کو اکثر کرائم، سیاست اور دیگر اہم بیٹس کے بجائے خواتین سے متعلق موضوعات تک محدود رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ملازمت کے انٹرویوز میں بھی شادی، شادی کے منصوبے اور حمل جیسے ذاتی سوالات کیے جاتے ہیں۔

لائبہ زینب نے فیلڈ کے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور میں موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی کا پیچھا کیا، قریب آکر گھورا اور فحش اشارے کیے، جبکہ نیوز روم کے ایک مرد ساتھی نے ان کی گاڑی میں بیٹھ کر نامناسب انداز میں ان کے گال پر چٹکی کاٹی۔ ان کے مطابق ایسے واقعات اور مسلسل نامناسب رویوں کے باعث انہوں نے نجی چینل سے استعفیٰ دے دیا۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی رپورٹر فاخرہ خلیل نے بھی فیلڈ رپورٹنگ کے دوران ہراسانی کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق بعض اوقات مرد رپورٹرز سمیت دیگر افراد نامناسب نظروں سے دیکھتے ہیں جبکہ خواتین رپورٹرز کے لباس اور شکل وصورت پر جملے کسنا معمول بن چکا ہے۔

نارووال کی فری لانسر صحافی صبا چوہدری نے ایک حساس تحقیقاتی رپورٹ کے دوران مقامی سطح پر دباؤ کا سامنا کرنے کا بتایا۔ ان کے مطابق ایک بڑے ٹی وی چینل سے وابستہ سینئر رپورٹر نے انہیں خبر کی کوریج سے باز رہنے کی تاکید اور علاقے میں جانے کی صورت میں ضلع میں کام نہ کرنے کی دھمکی دی۔ تاہم انہوں نے متاثرہ علاقے میں جاکر رپورٹنگ مکمل کی اور اسٹوری شائع ہوئی۔

نیوز روم میں امتیازی سلوک

خواتین صحافیوں کو نیوز روم میں بھی اسائنمنٹس اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے حوالے سے امتیازی رویوں کا سامنا رہتا ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹر عمارہ خان کے مطابق سابق ادارے میں احتجاج اور جلسوں سمیت اہم اسائنمنٹس کے لیے بعض ذمے داران کا مؤقف تھا کہ وہ یہ کام نہیں کرسکتیں۔ ایک موقع پر شدید گرمی میں نہر میں قربانی کے جانور نہلانے والوں کی فوٹیج بنانے کے لیے بھیجا گیا۔ مطلوبہ فوٹیج نہ ملنے پر ان پر کام نہ کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ معاملہ ڈائریکٹر نیوز کے سامنے اٹھانے کے بعد ان کے لیے ادارے میں کام کرنا مزید مشکل ہوگیا اور بالآخر انہیں ملازمت چھوڑنا پڑی۔

سابق ایڈیٹر ایکسپریس ٹربیون اور سینئر صحافی کمال صدیقی کے مطابق ورک پلیس ہراسمنٹ صرف جنسی نوعیت کے واقعات تک محدود نہیں۔ کسی ملازم کو دھمکانا، مسلسل چیخنا چلانا، بُلنگ کرنا یا اسے کام کی جگہ پر خوف زدہ اور غیر محفوظ محسوس کرانا بھی ہراسانی کے دائرے میں آسکتا ہے۔

صحافتی تحقیق کے دوران دباؤ

ڈی ڈبلیو سے وابستہ صحافی اور نیوز پورٹل دی رپورٹر کی سربراہ سعدیہ مظہر نے بتایا کہ رائٹ ٹو انفارمیشن کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کے دوران انہیں دباؤ، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کے مطابق 2023 میں ساہیوال کلب سے معلومات طلب کرنے پر کلب انتظامیہ نے ان کے خلاف کارروائی کی درخواست دی، جبکہ لاہور ایکسائز دفتر سے معلومات حاصل کرنے کے بعد ایک اہلکار کی جانب سے مختلف نمبروں سے پیغامات موصول ہوئے۔ 2024 میں سیاسی معاملات سے متعلق ایک پوسٹ کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر نازیبا پیغامات اور مسلسل ٹرولنگ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

سوشل میڈیا پر کردار کشی اور دھمکیاں

سوشل میڈیا نے خواتین صحافیوں کے لیے عوام تک معلومات پہنچانے کے مواقع بڑھائے ہیں، تاہم یہی پلیٹ فارم ہراسانی، ٹرولنگ، کردار کشی اور دھمکیوں کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔

لائبہ زینب کے مطابق ایک کم عمر بچی سے زیادتی کی خبر رپورٹ کرنے اور عورت مارچ کی ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد انہیں شدید تنقید، کردار کشی، موت اور ریپ کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی تصاویر میں ردوبدل کرکے توہین آمیز میمز بھی بنائے گئے۔ انہوں نے آن لائن ہراسانی کے خلاف ایف آئی اے میں دو شکایات درج کرائیں، تاہم ان کے مطابق مؤثر کارروائی نہ ہوسکی۔

نجی ٹی وی سے وابستہ رپورٹر دعامرزا کے مطابق اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے میں نومولود بچوں کی ہلاکت کی رپورٹنگ کے دوران انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض صارفین نے میڈیا کو بکاؤ قرار دیا، ان کے لباس پر تنقید کی اور رپورٹرز پر فالورز بڑھانے کے لیے غلط معلومات دینے کے الزامات لگائے۔

سینئر ملٹی میڈیا جرنلسٹ ثمن خان کے مطابق پاکستان میں خواتین صحافیوں کے خلاف آن لائن ہراسانی اور ٹرولنگ کا کوئی جامع سرکاری یا نجی ڈیٹا موجود نہیں۔

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کے مطابق خواتین صحافیوں کی جانب سے آن لائن تعاقب، بلیک میلنگ، براہ راست دھمکیوں، جعلی پروفائلز، ذاتی معلومات کے غیر مجاز پھیلاؤ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے سے متعلق شکایات موصول ہوتی رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد اور نجی تصاویر یا ویڈیوز کی بغیر اجازت شیئرنگ کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔

ڈی آر ایف کے اعدادوشمار کے مطابق خواتین صحافیوں کی جانب سے ڈیجیٹل سیکیورٹی اور آن لائن ہراسانی سے متعلق 2023 میں 23 درخواستیں موصول ہوئیں۔ 2024 میں یہ تعداد 65، 2025 میں 47 جبکہ 2026 میں اب تک 26 رہی۔ چار سال کے دوران ایسی درخواستوں کی مجموعی تعداد 161 بنتی ہے۔ فاؤنڈیشن متاثرہ صحافیوں کو شواہد محفوظ کرنے، اکاؤنٹس محفوظ بنانے، متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شکایات درج کرانے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے رجوع کرنے میں معاونت فراہم کرتی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹس اور اعدادوشمار

ویمن جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان اور فریڈم نیٹ ورک کی 2024 کی رپورٹ میں اسلام آباد کے 15 نیوز اداروں کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق صرف دو اداروں میں ہراسانی کی شکایات کی تحقیقات کے لیے خصوصی انکوائری کمیٹیاں موجود تھیں، حالانکہ قانون کے تحت ایسی کمیٹی کا قیام لازم ہے۔

جائزے میں چھ ٹی وی چینلز، چار اخبارات، تین خبر رساں اداروں اور دو نیوز ویب سائٹس شامل تھیں۔ ان اداروں میں خواتین صحافیوں کی اوسط نمائندگی 11 فیصد تھی جبکہ زیادہ تر اداروں میں قیادت کے عہدوں پر کوئی خاتون صحافی موجود نہیں تھی۔ تقریباً 75 فیصد ادارے صنفی معاملات کے حوالے سے غیر حساس پالیسیوں پر عمل کررہے تھے۔

پاکستان پریس فاؤنڈیشن کے مطابق 2024 میں ملک بھر میں صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے خلاف کم از کم 162 تصدیق شدہ حملے یا آزادی اظہار محدود کرنے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں 14 آن لائن ہراسانی اور پانچ دھمکیوں کے واقعات شامل تھے۔

فاؤنڈیشن کی 2026 کی جائزہ رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 سے اپریل 2026 کے دوران صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے خلاف تشدد، دھمکیوں، قانونی کارروائیوں اور دیگر پابندیوں کے کم از کم 233 واقعات دستاویزی شکل میں ریکارڈ کیے گئے۔ رپورٹ میں خواتین صحافیوں کو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے ذریعے نشانہ بنانے اور کردار کشی پر مبنی حملوں میں اضافے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

یونیسکو کی معاونت سے انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس کی 2022 میں شائع ہونے والی عالمی تحقیق میں 714 خواتین صحافیوں کے تجربات کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق 73 فیصد نے آن لائن تشدد کا سامنا کیا، 38 فیصد نے اپنی پیشہ ورانہ یا آن لائن موجودگی محدود کی، 11 فیصد نے کام سے چھٹی لی، چار فیصد نے ملازمت چھوڑی جبکہ دو فیصد نے صحافت ترک کردی۔

سال 2025 میں 351 خواتین صحافیوں پر کی گئی ایک اور تحقیق میں 25 فیصد نے آن لائن تشدد کے باعث اضطراب یا ڈپریشن، 13 فیصد نے پی ٹی ایس ڈی، 45 فیصد نے سوشل میڈیا پر خود سنسرشپ اور 22 فیصد نے کام کی جگہ پر خود سنسرشپ کی اطلاع دی۔ نو فیصد خواتین صحافیوں کی نجی تصاویر رضامندی کے بغیر شیئر کی گئیں جبکہ پانچ فیصد کو ڈیپ فیک یا تبدیل شدہ تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

قانون موجود، مکمل ڈیٹا غائب

پاکستان میں کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ کے لیے 2010 کا قانون موجود ہے، جس کے تحت اداروں کے لیے تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دینا لازم ہے اور کم از کم ایک خاتون رکن شامل ہونا ضروری ہے۔ وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی کے مطابق اداروں کو مجاز اتھارٹی مقرر کرنے، ہراسانی کے خلاف ضابطۂ اخلاق نمایاں کرنے، شکایت کنندہ کو انتقامی کارروائی سے تحفظ دینے اور کارروائی کے دوران رازداری برقرار رکھنے کی ذمہ داری بھی حاصل ہے۔

فوسپاہ کے مطابق 2024-25 کے دوران اسے ہراسانی کی ایک ہزار 119 شکایات موصول ہوئیں جبکہ ایک ہزار 47 شکایات کے فیصلے کیے گئے۔ شکایات کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 375 فیصد بڑھی۔ تاہم ان اعدادوشمار میں میڈیا اداروں یا خواتین صحافیوں کے کیسز کی الگ تعداد دستیاب نہیں ہے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق 2023 سے 2026 تک سائبر کرائم کی شکایات میں اضافہ ہوا۔ قومی اسمبلی میں پیش کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2023 میں 1 لاکھ 34 ہزار 710، 2024 میں 1 لاکھ 61 ہزار 828 اور 2025 میں 1 لاکھ 57 ہزار 465 شکایات موصول ہوئیں جبکہ 2026 میں اب تک 77 ہزار 23 شکایات درج ہوچکی ہیں۔ تاہم ان میں خواتین صحافیوں، اینکرز یا میڈیا ورکرز کی شکایات الگ شماریاتی زمرے میں موجود نہیں ہے۔

پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021 صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کا قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے، تاہم خواتین صحافیوں کو نیوز روم، فیلڈ یا آن لائن ہراسانی سے متعلق شکایات اور ان پر کارروائی کا الگ جامع ڈیٹا عوامی سطح پر دستیاب نہیں ہے۔

ایکسپریس نیوز، جیو نیوز اور سما نیوز میں ایچ آر کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ثاقب ڈوگر کے مطابق ہراسانی کے خلاف پالیسی کا ہونا محفوظ اور باوقار کام کے ماحول کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ مؤثر پالیسی میں ہراسانی کی مختلف شکلوں، شکایت کے واضح طریقہ کار، غیر جانب دارانہ تحقیقات، رازداری اور شکایت کنندہ کے تحفظ کی ضمانت شامل ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اصل اہمیت پالیسی کے عملی نفاذ کی ہے۔ کمال صدیقی کے مطابق ہراسمنٹ کمیٹی کو انتظامی معاملات سے آزاد رکھنا ضروری ہے تاکہ شکایات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوسکیں۔

نیشنل ویمن جرنلسٹس فورم کی صدر فرزانہ چوہدری کے مطابق خواتین صحافیوں کو خصوصی خطرات کے پیش نظر نیوز رومز میں مؤثر حفاظتی نظام اور داخلی احتساب ضروری ہے۔ ان کے مطابق شکایات کو جنس کے ساتھ ساتھ پیشے، میڈیا ادارے، شکایت کی نوعیت، تحقیقات، ایف آئی آر، گرفتاری، چالان، فیصلے اور سزا کے مراحل کے اعتبار سے بھی ریکارڈ کیا جانا چاہیے۔

لاہور پریس کلب کے جنرل سیکرٹری افضال طالب کہتے ہیں آن لائن حملوں کی صورت میں ڈیجیٹل سکیورٹی، قانونی معاونت اور شواہد محفوظ کرنے کا نظام ضروری ہے۔ ریاستی اداروں کو خواتین صحافیوں کی شکایات کا الگ اور باقاعدہ ریکارڈ مرتب کرنا چاہیے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کتنی شکایات درج ہوئیں، کتنی تحقیقات مکمل ہوئیں، کتنے مقدمات درج ہوئے اور کتنے کیسز میں کارروائی نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔

ثمن خان کا کہنا اگر کوئی خاتون رپورٹر کردار کشی، دھمکی یا ہراسانی کے خوف سے اپنی آن لائن موجودگی محدود کردے یا کسی موضوع پر رپورٹنگ سے گریز کرے تو اس کا اثر صرف اس صحافی تک محدود نہیں رہتا بلکہ معلومات کے آزادانہ بہاؤ اور عوام کے حقِ معلومات پر بھی پڑتا ہے۔

فرزانہ چوہدری سمجھتی ہیں خواتین صحافیوں کے تحفظ کا اصل امتحان قوانین اور اداروں کی موجودگی نہیں بلکہ ان کے مؤثر نفاذ، شکایات کے بروقت ازالے، متاثرہ صحافیوں کے تحفظ اور قابل اعتماد اعدادوشمار کی دستیابی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے