پروٹین پر مبنی یہ جیل قدرتی طور پر دانتوں کا اینامل بننے کے عمل کی نقل کرتا ہے
برطانیہ کی یونیورسٹی آف ناٹنگھم کے محققین نے ایک ایسا جیل تیار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جو خراب یا متاثرہ دانتوں کے اینامل کو چند ہفتوں میں دوبارہ بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تحقیق دانتوں کی حفاظت اور علاج کے شعبے میں ایک نئی حکمتِ عملی متعارف کرا سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق پروٹین پر مبنی یہ جیل قدرتی طور پر دانتوں کا اینامل بننے کے عمل کی نقل کرتا ہے اور لعابِ دہن میں موجود کیلشیم اور فاسفیٹ کی مدد سے خراب دانتوں کی سطح پر منظم کرسٹل دوبارہ بننے میں مدد دیتا ہے۔
لیبارٹری تجربات میں جیل سے بحال کیے گئے اینامل نے برش کرنے، چبانے اور تیزابی غذاؤں کے اثرات کے خلاف مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔
محققین کے مطابق اس کی کارکردگی صحت مند اینامل سے ملتی جلتی رہی جبکہ یہ دانتوں کی حساسیت کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوا۔
نیچر کمیونیکیشنزمیں شائع ہونے والی اس تحقیق سے وابستہ پروفیسر الوارو ماتا کے مطابق یہ جیل محفوظ ہے اور مختلف عمر کے افراد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس کا مقصد دانتوں میں موجود باریک دراڑوں اور سوراخوں کو بھرنے کے ساتھ ساتھ اسے قدرتی دانت کی ساخت کے ساتھ مربوط کرنا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال صرف کیویٹیز تک محدود نہیں ہوگا۔ یہ جیل دانتوں کی وہ اندرونی تہہ (جسے ڈینٹین کہا جاتا ہے) کے سامنے آ جانے کی صورت میں بھی مدد دے سکتا ہے۔ اس طرح دانتوں کی حساسیت کم کرنے اور مستقبل میں ڈینٹل ریسٹوریشنز کو دانتوں کے ساتھ بہتر طور پر جوڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو 2026 کے آخر یا 2027 تک مارکیٹ میں پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، عام استعمال سے قبل مزید تحقیق، آزمائش اور متعلقہ منظوریوں کا مرحلہ مکمل ہونا ضروری ہوگا۔
