• ستمبر 28, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 28, 2026 2:18 شام
  • پاکستان

صوبائی حکومت دہشت گردوں سے لڑنے والی فرنٹ لائن پولیس فورس کو دانستہ کمزور کرکے صوبے کا امن و امان داؤ پر لگا رہی ہے

پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا پولیس کو دانستہ طور پر وسائل سے محروم رکھ کر اس کی استعدادِ کار کو شدید متاثر کیا جا رہا ہے۔

دستاویزات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاق اور این ایف سی سے 1000 ارب روپے ملنے کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کارنہ بڑھائی جا سکی، کثیر وسائل کے باوجود خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی کے پاس صرف 17 بلٹ پروف گاڑیاں اور 25 مستقل اہلکار موجود ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قبائلی اضلاع میں کمزور پولیس انفرا اسٹرکچر دہشت گردوں کے بارودی مواد اور کواڈ کاپٹر حملوں کے سامنے بے بس اور لاچار ثابت ہوا، دہشتگردی کے شکار صوبے میں ایک طرف 17 ہزار اہلکاروں کی کمی جبکہ دوسری طرف 13ہزار 500 اہلکار سیاسی اشرافیہ کی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت کی ناکام حکمت عملی کی قیمت 2026 میں 220 سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت سے چکانی پڑی، دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے ضروری ڈیٹا فرانزک کے ضمن میں خیبر پختونخوا سی ٹی ڈی کا تمام تر انحصار پنجاب کی ڈیٹا فرانزک لیبارٹری پر ہے۔

وسائل ہونے کے باوجود خیبر پختونخوا میں پولیس اور سی ٹی ڈی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں، جس پر صوبائی حکومت پر سوالات اٹھ گئے۔ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردوں سے لڑنے والی فرنٹ لائن پولیس فورس کو دانستہ کمزور کرکے صوبے کا امن و امان داؤ پر لگا رہی ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے