• ستمبر 11, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 11, 2026 8:57 شام
  • پاکستان

ملزمان میں مکان کا مالک، ایک موچی، ایک مزدور اور سعودی عرب سے واپس آنے والا شخص شامل تھا، تفتیشی ذرائع

پشاور کے علاقے گڑھی موسم خان میں گینگ ریپ کیس کی تحقیقات کے دوران نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے چاروں ملزمان کی میڈیکل رپورٹس مثبت آگئیں۔

پولیس نے بتایا کہ گڑھی موسم خان گینگ ریپ کیس میں گرفتار چاروں ملزمان کی ابتدائی میڈیکل رپورٹس مبینہ طور پر مثبت آگئیں، جن کی شناخت عامر افتخار، جلال عرف راجا، چچے قدوس اور امداس کے نام سے ہوئی ہے۔

تفتیش کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان نے دو شادی شدہ خواتین کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے کے علاوہ ایک معذور بچی کو بھی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، تاہم خواتین کی منت سماجت پر بچی کو چھوڑ دیا گیا۔

پولیس کے مطابق گڑھی موسم خان میں رات کی تاریکی میں گھر کی دیوار پھلانگ کر داخل ہونے والے ملزمان نے اسلحے کے زور پر گھر میں موجود افراد کو یرغمال بنایا اور دونوں خواتین کو مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان میں مکان کا مالک، ایک موچی، ایک مزدور اور سعودی عرب سے واپس آنے والا شخص شامل تھا جبکہ ابتدائی تفتیش میں دو ملزمان کے آئس کے عادی اور دو کے مبینہ طور پر ڈانسنگ گولیاں استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

پولیس نے کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ اور متاثرہ خواتین کے چھینے گئے موبائل فون بھی برآمد کرلیے۔

تفتیشی ٹیم نے بتایا کہ متاثرہ خواتین کے ساتھ وکٹم سپورٹ آفیسر تعینات ہے اور دونوں خواتین کو تقریباً ایک ماہ تک ذہنی و نفسیاتی کونسلنگ فراہم کی جائے گی۔

ایکسپریس کو ایک سینئر انویسٹی گیشن افسر نے بتایا کہ متاثرہ معذور بچی سے متعلق سامنے آنے والے معاملے کے باعث مقدمے میں چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعات شامل کی گئیں تاکہ بچی کے تحفظ اور واقعے کے تمام پہلوؤں کو قانونی دائرے میں شامل کرکے تحقیقات آگے بڑھائی جاسکیں۔

پولیس نے بتایا کہ چاروں گرفتار ملزمان کو جائے وقوع کی نشان دہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ تھانہ رحمان بابا کی حدود میں نامعلوم مسلح ملزمان نے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کردی، جس کی زد میں آکر چاروں زیرحراست ملزمان ہلاک ہوگئے جبکہ پولیس اہلکار محفوظ رہے۔

واقعے کا مقدمہ 6 ستمبر 2026 کو تھانہ رحمان بابا میں مقدمہ علت 754 کے تحت درج کیا گیا تھا، جس میں مختلف دفعات کے علاوہ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعہ 50 بھی شامل ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے