• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 5:18 شام
  • پاکستان

درجنوں پولیس افسران شامل ہوئے جس سے کرائم سین کا کباڑا کر دیا گیا، جوڈیشل کمیشن کے سخت ریمارکس

میر رضا کیس میں پولیس کی تفتیش کے دوران سامنے آنے والی اہم خامیوں پر جوڈیشل کمیشن نے سخت سوالات اٹھاتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیجز، گواہوں کے بیانات، مشکوک گاڑیوں، جیو فینسنگ، کرپٹو اکاؤنٹس اور دیگر شواہد سے متعلق تحقیقات پر وضاحت طلب کرلی۔

میر رضا کی موت کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا، سربراہ کمیشن جسٹس عمر سیال نے سی پی ایل سی نمائندہ کاشف کو طلب کیا۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ سی پی ایل سی معاملے میں کیسے شامل ہوئی؟

سی پی ایل سی کے نمائندہ کاشف نے بتایا کہ سی پی ایل سی کو پولیس اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے لیے بنایا گیا، ہمارے پاس میر رضا کا کیس مسنگ کے طور پر آیا تھا، سی پی ایل سی شکایت کنندہ اور پولیس کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔

کاشف نے بتایا کہ سی پی ایل سی نے اس کیس میں سی ڈی آر وغیرہ پر کام کیا ہے، لیکن ہم ابھی تک کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچے۔

کمیشن نے سوالات کیے کہ کیا کیس میں جیو فینسنگ بھی کی گئی؟ سی پی ایل سی ڈیٹا کے مطابق میر رضا کے فون سے آخری رابطہ کب ہوا؟ کیا کوئی آوٹ گوئنگ بھی ہوئی تھی؟ اگر واٹس ایپ پر کوئی رابطہ کیا ہو تو کیا اسکا ریکارڈ ہوتا ہے؟

نمائندہ سی پی ایل سی کاشف نے بتایا کہ 28 اور 29 جولائی سے جیو فینسگ کا آغاز کیا گیا تھا، میر رضا کی کالنگ 28 جولائی کی رات 4:22 تک ایس ایم ایس موصول ہوئے۔ میر رضا کی جانب سے کوئی آوٹ گوئینگ کا ریکارڈ موجود نہیں

کاشف نے بتایا کہ 4:07 پر آن لائن ٹیکسی ڈرائیور سے رابطہ ہوا، انٹرنیٹ کالنگ کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا، جیو فینسنگ کے لیے ہر کیس کا الگ پیٹرن ہوتا ہے، جیو فینسنگ میں کوئی مشکوک سرگرمی ریکارڈ نہیں ہوئی۔

کمیشن نے سوال کیا کہ ایسا کوئی نمبر ملا جس سے بہت رابطہ ہوا ہے؟ کاشف نے جواب دیا کہ ایسا کوئی نمبر نہیں ملا۔ کمیشن نے سوال کیا کہ جیو فینسنگ سے ملنے والے نمبرز کی شناخت کی گئی؟ یہ ڈیٹا پولیس کے پاس بھی ہوگا؟

سی پی ایل سی کے نمائندے نے بتایا کہ یہ ڈیٹا پولیس سے ہی حاصل کیا گیا، ہزاروں نمبرز کا ڈیٹا ملتا ہے اسکو فلٹر کیا جاتا ہے، سی پی ایل سی نے بھی جیو فینسگ اور سی ڈی آر کا اینالیسس کیا، میر رضا کا انٹرنیٹ چل رہا تھا جو 4:25 تک آن تھا، انٹرنیٹ استعمال ہونے کی صورت میں آئی پیز ظاہر ہوتی ہیں۔

نمائندہ سی پی ایل سی نے بتایا کہ پولیس نے آئی پیز کے لیے این سی سی آئی اے اور ایپل کو خطوط لکھے ہیں، کمپنیز آئی پیز کے ذریعے استعمال شدہ نمبر کا سراغ لگا سکتی ہے، میر رضا کے فون پر 4:10-4:20 کے درمیان ایپل میپ ایکسس کیا گیا تھا، ریکارڈ میں ایکٹیوٹی آتی ہے مواد نہیں۔

سی سی ٹی وی فوٹیجز اور مشکوک گاڑیوں کی تحقیقات

وکیل جبران ناصر نے پوچھا کہ کیا سی سی ٹی وی فوٹیجز سی پی ایل سی نے جمع کی ہیں؟ سی پی ایل سی نمائندہ کاشف نے بتایا کہ سی پی ایل سی نیبرہڈ کیئر کے تحت گلستان جوہر بلاک ون سے چار میں سی پی ایل سی کے اپنے کیمرے بھی لگے ہیں اور میر رضا صرف تین کیمروں میں نظر آیا ہے، سی پی ایل سی کے 46 کیمرے ہیں لیکن جہاں واقعہ ہوا وہ علاقہ کوریج سے تھوڑا باہر ہے۔

نمائندے کاشف نے مزید بتایا کہ ہم نے ذاتی حیثیت میں بھی فوٹیجز دیکھیں، زیادہ تر لوگوں کے پاس بیک اَپ نہیں تھا، زیادہ تر فوٹیج کی کوالٹی ایسی نہیں کہ کچھ شواہد مل سکیں۔

کمیشن نے سوال کیا کہ آپ نے بہت سارے کیمروں کی فوٹیجز دیکھی، کیا کوئی مشکوک چیز نظر نہیں آئی؟ سی پی ایل سی کے نمائندے نے بتایا کہ ابتدائی طور پر میر رضا کو تلاش کر رہے تھے، بعد میں دوسرے پہلوؤں کو دیکھا، 6 سے 7 اگست سے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز پر کام شروع کیا۔

کمیشن نے سوال کیا کہ آپ لوگ بعد میں کیس میں شامل ہوئے؟ نمائندے نے بتایا کہ ہم پہلے روز سے کیس پر کام کر رہے تھے۔ کمیشن نے کہا کہ ہمیں مشکوک گاڑیاں بھی نظر آئیں۔

کاشف نے بتایا کہ ہم نے ٹریکر کی معلومات پر بھی کام کیا ہے، ہم ابھی بھی کام کر رہے ہیں، کیمروں کی فوٹیج میں گاڑیوں کے نمبر نہیں مل سکے، جیو فینسنگ میں ملنے والے نمبر سے بھی گاڑیوں کی شناخت کی۔

مسجد خضرا کی 5 گھنٹے کی سی سی ٹی وی فوٹیج غائب

کمیشن نے کہا کہ مسجد خضرا کے سامنے بہت کیمرے لگے ہیں، ہم نے خود دیکھے ہیں۔ نمائندہ سی پی ایل سی نے بتایا کہ وہاں سی پی ایل سی کا کوئی کیمرے نہیں۔ کمیشن نے کہا کہ مسجد خضرا کے کیمرے کی بھی 5 گھنٹے کی فوٹیج غائب تھی۔ کاشف نے جواب دیا کہ مسجد میں لگے کیمرے کا نظام بہت پرانا ہے، ہم نے اپنے ٹیکنیشن کی مدد سے کچھ ریکارڈ لیا۔

میر رضا فیملی کے وکیل جبران ناصر نے سوال کیا کہ کیا موبائل فون پر سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں رد و بدل کیا جاسکتا ہے؟ سی پی ایل سی کے نمائندے نے بتایا کہ میری معلومات کے مطابق ایسا ممکن نہیں،

کمیشن نے سوال کیا کہ سی پی ایل سی کے کیمرے مخصوص مقامات پر ہیں، مشکوک گاڑیوں کی آمدورفت آپ کے کیمروں پر ریکارڈ نہیں ہوئی۔

نمائندہ سی پی ایل سی کاشف نے بتایا کہ جیو فینسنگ کا ہمارے پاس اڑتالیس گھنٹوں کا ڈیٹا ہے، اگر کوئی فرد واقعے کے وقت موجود نہیں تھا لیکن بعد میں آیا تو اسکا ڈیٹا بھی جیو فینسنگ میں آئے گا، ایک فرد کی دو گھنٹوں بعد علاقے میں ایکٹیوٹی ریکارڈ ہوئی، سی پی ایل سی پر کسی کا دباؤ نہیں تھا۔

تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری سے کمیشن کے سخت سوالات

سی پی ایل سی نمائندے کے بعد تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری کو بھی طلب کیا گیا۔ کمیشن نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ 13 اگست کو تفتیش ملنے کے بعد آپ کو علم تھا کہ 161 کے بیانات سابق تفتیشی افسر نے ریکارڈ نہیں کیے؟ گواہان کے 161 کے بیانات کے زیادہ تر حصے گواہان نے تسلیم کرنے سے انکار کیا۔

تفتیشی افسر سراج لاشاری نے بتایا کہ پولیس گواہان کے بیانات ریکارڈ کرتی ہے لیکن ایسا ممکن نہیں کہ متن ہی تبدیل ہو جائے۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ آپ کے ریکارڈ کیے گئے مزید بیانات میں بھی گواہان کے سابقہ بیانات کی تصدیق موجود ہے، گواہان کو معلوم ہی نہیں تھا کہ انکے بیان میں کیا لکھا ہے۔ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ ہمارے ریکارڈ کیے بیان میں بھی گواہان نے وہی باتیں کیں جو پہلے بیان دیا گیا۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ پولیس نے تو گواہان کے بیانات انکو پڑھ کر سنائے بھی نہیں، ہم نے مشاہدہ کیا کہ بیانات میں سوائے پیسوں کے کوئی اور سوالات نہیں تھے۔

ڈی ایس پی سراج لاشاری نے بتایا کہ انویسٹر کے بیانات ایسے ہی تھے، دیگر گواہان سے وقوعہ سے متعلق سوالات کیے، ہم نے رقم کی ادائیگی کے پہلو کو دیکھا کہ اس بنیاد پر واقعہ ممکن نہیں۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ آپ صرف خودکشی کے نظریے کی تحت تفتیش کر رہے تھے، تفتیشی افسر نے بتایا کہ ہم نے قتل کی تفتیش کر رہے ہیں۔

کمیشن نے سوال کیا کہ احمد بھاردے اور علی شاز کے بیانات میں صرف رقم سے متعلق سوالات کیے گئے، کیا تفتیش میں کوئی اور وجہ یا سوال نہیں تھا جو پوچھا جانا چاہیئے تھا؟ سراج لاشاری نے بتایا کہ ہم نے تمام پہلوؤں پر سوالات کیے۔ کمیشن نے کہا کہ بیانات سے تو ایسا نہیں لگتا۔

کمیشن نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ ٹرائل کے موقع پر اگر کوئی پہلو سامنے آئے تو گواہ کے بیان کی کیا حیثیت ہوگی؟ سراج لاشاری نے بتایا کہ 161 کے بیانات ٹرائل میں قابل قبول نہیں ہوتے۔

علی شاز کے کردار پر کمیشن کے سوالات

کمیشن نے سخت سوالات کرتے ہوئے کہا کہ گواہ علی شاز پر آپ کو کوئی شک نہیں ہوا؟ علی شاز کا بیرون ملک جانا، انکے بھائی کا کراچی آنا آپ کو نارمل لگا؟ ایسا شخص جو صرف تین بار میر رضا سے ملا، اسکو اتنی فکر ہونا آپ کو نارمل لگا؟ کیس میں دو مشکوک گاڑیاں سامنے آئی، ویسی ہی دو گاڑیاں علی شاز کے پاس ہیں، یہ سب باتیں آپ نے 161 کے بیان میں نہیں پوچھی، کیا علی شاز پر کوئی پولیس میں ریڈ فلیگ ہے؟

تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ فیملی کی طرف سے وائس نوٹ کے معاملے پر علی شاز کا نام آیا تھا، ہمیں تحقیقات میں کوئی کنکشن نہیں ملا، وقوعہ کے پاس علی شاز کی موجودگی کا ریکارڈ نہیں۔

کمیشن نے کہا کہ انکے پولیس والے بھائی کا سی ڈی آر کے مطابق وہ فیروز آباد تھانے کے پاس تھے۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ ہمارے پاس انکا کوئی ریکارڈ نہیں، میں نے اے ایس پی شاہ زیب کا نام کمیشن میں سنا ہے، علی شاز کی گاڑیوں میں ٹریکر غیر فعال تھے۔

کمیشن نے سوال اٹھایا کہ اگر توجہ دی گئی ہوتی تو ان پہلو پر سوالات ہونے چاہیئے تھے، 8 ماہ پرانے وائس نوٹ کو بنیاد بنا کر ایک فرد آپ کے پاس آیا، پھر وہ باکو چلا گیا، آپ کو عجیب نہیں لگا۔

تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ ہم ابھی تفتیش کر رہے ہیں، ضرورت پڑی تو علی شاز اور دیگر کو دوبارہ بلائیں گے۔ سیف سٹی کیمرے اور جیو فینسنگ میں کوئی لنک نہیں ملا، ان کا آپس میں کوئی عناد یا تنازع نہیں تھا۔

کمیشن نے سوال کیا کہ یہ آپ کو کیسے پتا کہ کوئی عناد نہیں تھا؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ اگر ایسا ہوتا تو کسی کو بتایا ہوتا۔ کمیشن نے سوال کیا کہ آپ نے اے ایس پی ندا سے علی شاز اور اے ایس پی شاہ زیب کے کنکشن کی تحقیقات کی؟ ایک وائس نوٹ کی بنیاد پر قرضے کا بیانیہ بنانے کی تحقیقات کی؟

وکیل فیملی جبران ناصر نے کہا کہ اے ایس پی ندا تاحال تفتیشی ٹیم کے ساتھ موجود ہیں۔ کمیشن نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے کمیشن کے ساتھ انا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے وہ ہمیں معلوم ہے، ہم اپنی سفارشات میں اس کے بارے میں لکھیں گے۔

کرائم سین اور پولیس تفتیش میں بے ضابطگیاں

تفتیشی افسر سراج لاشاری نے بتایا کہ کیس کی تحقیقات میں انویسٹی گیشن اور آپریشن پولیس دونوں کام کرتے ہیں، زیادہ تر کیس آپریشن پولیس حل کرتی ہے، انویسٹی گیشن پولیس اس کو قانونی بناتی ہے۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ یہ غیر قانونی نہیں ہے؟ پھر تو پولیس رولز ختم کرنے چاہیئے، ہمیں تو قانون کے مطابق چیزیں دیکھنی ہیں، اس کیس میں درجنوں پولیس افسران شامل ہوئے تو کرائم سین کا کباڑا کر دیا، آپ لوگ کہتے ہیں کرائم سین یونٹ 15 منٹ میں پہنچ جاتی ہے، کیا آئی جی سندھ جھوٹ بولتے ہیں؟ کرائم سین تباہ کرنے والے ذمہ داروں کے خلاف قانون مقدمہ درج کرنے کا نہیں کہتا؟

تفتیشی افسر نے بیان دیا کہ اب تک کی تفتیش میں بے ضابطگی تو سامنے آئی لیکن بدنیتی سامنے نہیں آئی، جس پر کمیشن نے کہا کہ اگر بدنیتی نہیں تھی تو قانون کے مطابق کارروائی کیوں نہیں کی گئی، دورے میں دیکھا کتنے کیمرے لگے تھے، آپ فہرست دے سکتے ہیں کہ کتنے کیمروں کی مکمل فوٹیج حاصل کی اور فرانزک کے لیے بھیجی گئی؟

ڈی ایس پی سراج نے بتایا کہ مجھ سے پہلے تفتیشی ٹیم نے بتایا کہ 60 مقام کی فوٹیجز دیکھی، جو متعلقہ فوٹیجز تھیں وہ سیل کر دی گئیں۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ مخصوص فوٹیجز پر ہم بنیاد نہیں بنا سکتے، ایس ایچ او عدیل افضال نے موبائل فون پر ویڈیو ریکارڈ کرکے بھیجی، ایسی فوٹیج کیسے قابل قبول ہو سکتی ہے، آپ نے یہ پہلو بھی تفتیش میں نہیں دیکھے، یہ کوتائیاں کیسے ہوئیں؟ گیسٹ ہاؤس کا ڈی وی آر عدیل افضال کی گاڑی کی ڈگی میں پڑا تھا، کمیشن میں یہ سب باتیں سامنے آئیں، ڈی آئی جی عامر فاروقی بھی اپنے ماتحت افسران کی نگرانی نہیں کر سکے۔

وکیل فیملی جبران ناصر نے بتایا کہ پولیس نے اپنے افسران کے 161 کے بیانات بھی ریکارڈ نہیں کیے۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ سابق تفتیشی افسر شبیر لغاری کے مطابق 33 میں سے 10 بیانات اس نے خود ریکارڈ کیے، اگر پروسیجر فالو نہیں کرتا اسکے خلاف کارروائی نہیں کی۔

ایپل واچ، موبائل فون اور فرانزک رپورٹ کا معاملہ

دوران کارروائی کمیشن نے فوکل پرسن سندھ حکومت سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی کو فوکل پرسن کی تقرری کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن ابھی تک فوکل پرسن کی تقرری نہیں ہوئی۔

وکیل فیملی جبران ناصر نے بتایا کہ ایس ایس پی علی رضا کا اس سلسلے میں فون آیا تھا، ہم نے سی پی ایل سی کو اپنی جانب سے فوکل پرسن مقرر کیا تھا۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ فوکل پرسن کی تقرری کی ہدایت کمیشن کی جانب سے کی گئی تھی، میر رضا کے فون جن افراد کو ملے وہ آپ کو مشکوک نہیں لگے؟ اے ایس آئی فیصل نے فون کا میمو بنایا جس کا کیس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

تفتیشی افسر سراج لاشاری نے بتایا کہ ایک لڑکے کو فون ملا تھا، اس نے بھائی کو بتایا تھا، اس نے سم لگائی تو فون ٹریس ہوا، ہائی پروفائل کیس میں آپریشن اور تحقیقات مل کر کام کرتے ہیں۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ ایپل واچ کی فرانزک رپورٹ ہمارے سامنے پیش نہیں کی گئی۔

سراج لاشاری نے بتایا کہ کمیشن نے رپورٹ مانگی نہیں، سات یا آٹھ ستمبر کو فرانزک رپورٹ ہمیں مل گئی تھی۔

وکیل جبران ناصر نے کہا کہ فیملی نے 29 جولائی کے بعد واچ کی رسائی اور ردوبدل سے متعلق تفصیلات مانگی تھیں، واچ اس دوران بہت سے لوگ دیکھتے رہے تھے، پولیس نے فرانزک کے لیے خط میں صرف 28 جولائی تک کا ریکارڈ مانگا۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ ہم نے مکمل ریکارڈ کے لیے خط لکھا تھا، فرانزک رپورٹ میں ہمارے پاس دستیاب تمام ڈیٹا موجود ہے، میر رضا کی واچ میں آخری ایکٹیویٹی 4:22 کی تھی، موبائل فون سے ڈیٹا ریکور ہی نہیں ہو سکا۔

وکیل جبران ناصر نے کہا کہ اگر موبائل فون میں کسی نے سم لگائی جس سے اسکی لوکیشن پتہ چلی، تو اسکی ایکٹیوٹی فرانزک رپورٹ میں نہیں۔ تفتیشی نے بتایا کہ ہم نے ایپل کو خط لکھا ہے۔

میر رضا کی والدہ مریم نے کمیشن کو بتایا کہ بار بار کھولنے کی کوشش کے دوران فون بلاک ہوا۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ دوسرے کیسز میں ایک اور فون اَن لاک کرنے کے لیے معلوم ہوا کہ پاکستان میں اس ماڈل میں اَن لاک کرنے کا کوئی طریقہ کار نہیں، موبائل فون کو اَن لاک کرنے کے ٹولز بہت مہنگے ہوتے ہیں۔

وکیل جبران ناصر نے کہا کہ 31 جولائی کو اسمارٹ واچ پر ای میل آئی کہ آئی کلاؤڈ کھولا گیا، علیشباہ نے ایکسس کے کوشش کی تو پتہ چلا کہ آئی ڈی پر احمد بھاردے کی ای میل اور موبائل نمبر تھا، احمد بھاردے کے فون کے ذریعے آئی کلاؤڈ تک رسائی کیوں نہیں کی گئی، 18 اگست کو تمام تفصیلات پولیس کو دی تھیں۔

تفتیشی افسر سراج لاشاری نے بتایا کہ مسجد خضرا کے 14 کیمرے ہیں جس میں سے 10 کیمرے فعال ہیں، مسجد خضرا میں بجلی کا متبادل انتظام نہیں تھا۔

میر رضا کی نجی چیٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کا معاملہ

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ پوسٹ مارٹم کی دونوں رپورٹ میں ایم ایل او کا انتظار کیے بغیر تفتیشی افسر نے اپنی رائے دی، میر کی منگیتر سلویٰ کا فون پولیس نے لیا، پھر اس کی چیٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ ہم نے فون لیا تھا، ہم نے پرائیویٹ چیٹ نکالی اور پھر فون میرے پاس ہے۔

کمیشن نے سوال اٹھایا کہ دیگر چیٹ سوشل میڈیا پر وائرل کیسے ہوئی، یہ کون ہے آپ کے ہاں جو لیک کر رہا ہے، دونوں لائف پارٹنر ہونے والے تھے، ان کی کوئی پرائیویٹ چیٹ بھی ہو سکتی ہے، یہ جرم ہے۔

کمیشن نے تفتیشی افسر سراج لاشاری کو ہدایت کی کہ آپ اس کو دیکھیں اگر کوئی ایسی پرائیویٹ چیٹ ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کیس داخل کریں۔

مشکوک گاڑی اور اینستھیسیا سے متعلق تحقیقات

جوڈیشل کمیشن نے سوال کیا کہ مشکوک گاڑیوں سے متعلق آپ نے کیا تحقیقات کیں؟

تفتیشی افسر نے بتایا کہ میر رضا کے گھر کے باہر نظر آنے والی گاڑی ٹریس کرلی تھے، متعلقہ شہری ڈی ایچ اے کا شہری ہے، متعلقہ تھانے سے اس سے معلومات لی، شہری نے بتایا کہ پارکنگ نا ملنے پر وہاں گاڑی کھڑی کی۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ ہم نے وہ سی سی ٹی وی دیکھی ہے، وہ گاڑی تو کہیں پارک نہیں ہوئی، وہ گاڑی بہت تیزی سے انکی گاڑی کے پیچھے جاتی نظر آئی، میر رضا کے جسم سے ملنے والے انیستھیسیا سے متعلق کچھ معلومات ملی؟ ہمیں بتایا گیا کہ یہ اینستھیسیا ڈینٹسٹ استعمال کرتے ہیں۔

تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ ہم نے فیملی سے بھی پوچھا کہ کہیں علاج کروایا ہو؟ کمیشن نے سوال کیا کہ آپ کے کسی گواہ کا کسی ڈینٹسٹ سے کوئی تعلق ہے؟ وکیل جبران ناصر نے بتایا کہ ایک گواہ نے بتایا تھا کہ انکے قریبی فرد میں ڈینٹسٹ ہے۔ کمیشن نے ہدایت کی کہ اس پہلو کو آپ مزید دیکھیں۔

جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کے کرپٹو اکاؤنٹس سے متعلق پولیس کی تحقیقات پر سوالات اٹھاتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا پولیس نے میر رضا کے کرپٹو اکاؤنٹس کی تحقیقات کی ہیں؟ تفتیشی افسر سراج لاشاری نے بتایا کہ 9 کروڑ روپے کی تین اکاؤنٹس کے ساتھ ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں، تفصیلات کے لیے این سی سی آئی اے کو خط لکھا ہے۔

جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ صحافیوں کے پاس ان اکاؤنٹس کی تفصیلات موجود ہیں، سراج لاشاری نے کہا کہ اگر صحافیوں کے پاس معلومات ہیں تو ہمیں فراہم کر دیں۔ جبران ناصر نے بتایا کہ بینک اکاؤنٹس کے جائزے سے تین افراد کی نشاندہی ہوئی ہے، میر رضا کے بینک اکاؤنٹ میں کرپٹو اکاؤنٹ کی ٹرانزیکشنز کی پیمنٹس بھی آئی ہیں۔ جسٹس عمر سیال نے یہ معلومات پولیس کو فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

سراج لاشاری نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست منظور کی ہے، کیس سے پہلے انہیں کرپٹو ٹریڈنگ پلیٹ فارم کا علم نہیں تھا۔ کرپٹو اکاؤنٹ کے جائزے میں تقریباً 3 کروڑ روپے کی کمی سامنے آئی ہے، پلیٹ فارم کے مطابق یہ رقم اکاؤنٹ میں واپس نہیں آئی، ممکنہ طور پر یہ نقصان کی رقم ہے۔

جبران ناصر نے کہا کہ پرافٹ اینڈ لاس لیجر سے اصل نقصان کی تصدیق ہوسکے گی۔ جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ یہ تفصیلات پولیس کو کیوں نہیں ملیں؟ سراج لاشاری نے بتایا کہ این سی سی آئی اے فوکل ادارہ ہے اور کمپنی سے رابطے میں ہے۔ جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ پرافٹ اینڈ لاس لیجر کا حصول لازمی ہے۔

جبران ناصر نے بتایا کہ کمپنی کے مطابق لیجر کی تفصیلات کے حصول کا قانونی طریقہ موجود ہے، جس پر جسٹس عمر سیال نے ہدایت کی کہ پولیس لیجر کے حصول کے لیے این سی سی آئی اے سے بات کرے۔

منگیتر سے تفتیش اور چیٹ کے اسکرین شاٹس کا معاملہ

جوڈیشل کمیشن نے بتایا کہ میر رضا کی منگیتر نے شکایت کی تھی کہ ان سے غیر مناسب سوالات کیے گئے۔ میر رضا کی بہن علیشبہ نے بتایا کہ منگیتر نے عدیل افضال کی جانب سے فون طلب کرنے پر انکار کیا، تحقیقاتی ٹیم کے ایک رکن نے منگیتر سے فون اَن لاک کرکے دینے کا کہا۔

علیشبہ کے مطابق جبران ناصر کی مداخلت پر میمو بنایا گیا، منگیتر کے لیپ ٹاپ سے معلوم ہوا کہ ان کی چیٹ تفتیشی افسر کو بھیجی گئی تھی۔ جبران ناصر نے بتایا کہ انہیں کہا گیا تھا کہ فون بعد میں فرانزک کے لیے بھیجا گیا، جبکہ مذکورہ چیٹ ایک صحافی نے اپنے پوڈ کاسٹ میں بھی دکھائی۔

سراج لاشاری نے بتایا کہ میر رضا کی گمشدگی کی اطلاع سب سے پہلے ان کی منگیتر کو ملی، اسی لیے میر رضا سے منگیتر کی گفتگو خود کو بھیجی گئی۔ جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ گفتگو کے اسکرین شاٹس میڈیا تک کیسے پہنچے؟

جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ کیا میر رضا کو این سی سی آئی اے فیصل آباد کے نوٹس کا علم تھا؟ سراج لاشاری نے کہا کہ انہیں ابھی معلوم ہوا ہے کہ میر رضا کو کوئی نوٹس ملا تھا۔

ڈاکٹر اسامہ اور پولیس تفتیش پر کمیشن کے سخت سوالات

کمیشن نے استفسار کیا کہ ڈاکٹر اسامہ کو دوبارہ کیوں بلایا گیا؟ تفتیشی افسر سراج لاشاری نے بتایا کہ ایک آڈیو لیک ہوئی تھی، جس کے بعد ڈاکٹر اسامہ کو دوبارہ بلایا گیا۔ کمیشن نے سوال کیا کہ آڈیو میں پولیس سرجن بھی موجود تھیں، انہیں کیوں نہیں بلایا گیا؟ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ کسی بیانیے کی تشکیل کے لیے ڈاکٹر اسامہ کو بلایا گیا۔

سراج لاشاری نے بتایا کہ ڈاکٹر اسامہ سے یہ پوچھنا مقصود تھا کہ کیا وہ اپنی پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر قائم ہیں۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر اسامہ بظاہر مشکوک تھے اور پولیس کا اقدام بھی مشکوک محسوس ہوتا ہے، ان سے یہ پوچھا جانا چاہیے تھا کہ انہوں نے حلف پر کمیشن اور پولیس کو الگ الگ بیان کیوں دیے۔ کمیشن نے کہا کہ ڈاکٹر اسامہ نے کبھی میر رضا کی موت کو خودکشی قرار نہیں دیا، پھر ان کی پہلی یا دوسری رپورٹ سے کیا فرق پڑتا ہے؟ چند صحافیوں اور پولیس نے ڈاکٹر اسامہ کو بہت زیادہ اہمیت دی۔

کمیشن نے مزید ریمارکس دیے کہ ایک عزت دار خاتون کی تضحیک کی گئی لیکن انہیں بیان کے لیے نہیں بلایا گیا۔ جبران ناصر نے بتایا کہ ڈاکٹر اسامہ کے بیان کی بنیاد پر سپر میڈیکل بورڈ کی درخواست دائر کی گئی۔ کمیشن نے کہا کہ ڈاکٹر اسامہ ہر دوسرے تیسرے دن دستاویزات بھیج رہے ہیں اور پولیس سرجن و سندھ حکومت کو اسکینڈلائز کررہے ہیں، پھر سوال کیا کہ ڈاکٹر اسامہ کے بیان کے بعد نئے میڈیکل بورڈ کی درخواست دائر کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی اور ڈی آئی جی عامر فاروقی کو ڈاکٹر اسامہ کی بات میں اتنا وزن کیوں محسوس ہوا؟

سراج لاشاری نے بتایا کہ پولیس سرجن نے ایس ایس پی کو خط لکھا تھا۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ آپ وکٹ بلیمنگ کررہے ہیں۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ دو مختلف ورژن سامنے آنے پر سپر میڈیکل بورڈ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ کمیشن نے سوال کیا کہ آٹھ رکنی کمیٹی کے بعد سنگل پوسٹ مارٹم کی کیا حیثیت ہے؟ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ سب یہ ثابت کرنے میں لگے ہیں کہ آٹھ رکنی بورڈ غلط تھا اور ڈاکٹر اسامہ درست تھے، سندھ حکومت کو ڈاکٹر اسامہ کی وجہ سے شرمندگی کا سامنا ہے، ایک اسامہ سب پر بھاری ہے۔

سراج لاشاری نے بتایا کہ دونوں رپورٹس میں ابہام کی وجہ سے سپر میڈیکل بورڈ بنانے کا فیصلہ کیا گیا، واقعات اور شواہد دونوں رپورٹس کی نفی کررہے ہیں۔ کمیشن نے سوال کیا کہ جب آپ بتا چکے ہیں کہ قتل کی تحقیقات کررہے ہیں تو نئے میڈیکل بورڈ سے ایسا کیا ملے گا؟ کیا صرف یہ معلوم ہوگا کہ گولی آگے سے لگی یا پیچھے سے؟ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ پولیس کے رویے نے بہت کچھ بتا دیا ہے۔

کمیشن نے سپر میڈیکل بورڈ کی پیش رفت سے متعلق سوال کیا تو سراج لاشاری نے بتایا کہ ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ شاید سیکریٹری صحت انتظامات کررہے ہیں کہ کمیشن ختم ہو تو کارروائی کریں۔ کمیشن نے سوال کیا کہ ڈاکٹر اسامہ کون ہیں اور اتنے بااثر کیسے ہیں؟ کمیشن نے مزید کہا کہ لیبارٹری کی رپورٹ میں تیزاب سے متعلق شواہد بھی تسلیم نہیں کیے جارہے، کیا لیبارٹری بھی جھوٹی ہے، آٹھ ڈاکٹر بھی جھوٹے ہیں اور صرف ایک ڈاکٹر اسامہ سچے ہیں؟

کمیشن نے سوال اٹھایا کہ خودکشی اور رقم کے لین دین کے بیانیے کے لیے کس کا دباؤ تھا؟ سراج لاشاری نے جواب دیا کہ ہم پر کسی کا کوئی دباؤ نہیں تھا۔

دوران سماعت جبران ناصر نے بتایا کہ اہل خانہ نے جائے وقوعہ پر کچھ بوتلوں کی نشاندہی کی تھی، کرائم سین یونٹ نے دو بوتلیں جمع کیں جو دوسری بوتلیں تھیں۔ سراج لاشاری نے بتایا کہ یہ بوتلیں گھر سے پھینکی گئی تھیں اور ان سے متعلق افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ اگر کمیشن نہ ہوتا تو فیملی کو کچھ نہیں بتایا جاتا، پھر سوال کیا کہ کسی پولیس افسر کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ کمیشن نے کہا کہ عبوری چالان میں کسی پولیس افسر کو غفلت کا مرتکب قرار نہیں دیا گیا، اگر فوجداری کارروائی نہیں تو کم از کم محکمانہ کارروائی تو بنتی ہے۔

سراج لاشاری نے بتایا کہ ابتدائی طور پر غفلت کے ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ ایس ایچ او عدیل افضال نے بنیادی طور پر شواہد ضائع کیے، معلوم نہیں ایس ایچ او عدیل افضال کس کا لاڈلا ہے، وہ آج بھی عہدے پر موجود ہے۔ کمیشن نے کہا کہ پولیس حکام نے چھوٹے افسران کو معطل کیا، اصل کام تو اوپر کی سطح پر ہوا۔

کمیشن نے سوال کیا کہ ملزمان کو کب گرفتار کیا جائے گا؟ سراج لاشاری نے کہا کہ پولیس کے لیے بہت آسان تھا کہ کسی کو پکڑ کر ٹھوک دیتی، لیکن ہم کیس میں انصاف چاہتے ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ ہم نے کارروائی سب کے سامنے کی ہے اور رپورٹ وزیر اعلیٰ کی صوابدید پر رکھ رہے ہیں۔

کمیشن نے اہل خانہ سے مکالمے کے دوران کہا کہ ہم نے اپنے طور پر ہر ممکن کوشش کی کہ فیملی کے سوالات کے جواب مل سکیں۔ کمیشن نے کہا کہ آپ کا حکومت پر اعتماد نہیں تھا، لیکن ہم سے کسی حکومتی فرد نے نہ رابطہ کیا نہ ملاقات کی۔ کمیشن نے اہل خانہ سے کہا کہ آپ کے خدشات درست ثابت ہوئے، آپ کو معلومات نہیں دی گئیں، اگر آپ کو بروقت آگاہ کیا جاتا رہتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔

کمیشن نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اس کیس کو لسانی رنگ دینے کی کوشش کی، ایسے لوگوں کو شرم آنی چاہیے۔ کمیشن نے کہا کہ جبران ناصر کو سوالات کی اجازت دینے پر بھی تنقید کی جاتی رہی، لیکن ہم سچ کی تلاش کررہے تھے، فیملی سے زیادہ معلومات کسی کے پاس نہیں۔ اگر فیملی بھی معلومات نہ دے تو ہمارا ضمیر مطمئن نہیں ہوگا۔

کمیشن نے کہا کہ ہم مطمئن ہیں کہ فیملی کو سوالات پوچھنے کا موقع دیا گیا۔ موذن سے سوال پوچھنے پر بھی تنقید ہوئی، لیکن موذن یا مفتی قانون سے بالاتر نہیں۔ ہمیں جو لوگ مشکوک لگے، ہم نے ان سے سوالات کیے، صرف مسجد کی بنیاد پر سوال نہ کرنے کی بات درست نہیں۔ کمیشن نے تنقید کرنے والوں کو بھی سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں شرم آنی چاہیے۔

کمیشن نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، وزیراعلیٰ سندھ، فریال تالپور اور ضیا لنجار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون پر شکر گزار ہیں۔ کمیشن نے اہل خانہ کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم جانتے ہیں ان کے سامنے لوگوں نے جھوٹ بولا، لیکن فیملی نے تحمل کے ساتھ کارروائی میں شرکت کی۔

عدالتی کمیشن نے سندھ حکومت کی فوکل پرسن اور عملے کے لیے دو اضافی تنخواہوں کی سفارش بھی کردی۔

میر رضا کیس کی عدالتی کمیشن کی آج کی سماعت مکمل ہوگئی، عدالتی کمیشن اگلے مرحلے میں رپورٹ اور سفارشات پیش کرے گا۔ عدالتی کمیشن کا قیام 24 اگست عمل میں آیا تھا اور یکم اکتوبر کو سندھ کابینہ نے عدالتی کمیشن کی مدت میں توسیع کی منظوری دی تھی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے