• ستمبر 21, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 21, 2026 10:53 شام
  • پاکستان

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے محمد رضوان کی درخواست پر 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا

لاہور ہائیکورٹ نے کرکٹر محمد رضوان کی این سی سی آئی اے انکوائری کے خلاف درخواست مسترد کرنے کا پانچ صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے محمد رضوان کی درخواست پر 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، عدالتی فیصلے کے مطابق عدالت نے محمد رضوان کو این سی سی آئی اے کی انکوائری میں شامل ہونے اور تعاون کرنے کی ہدایت کردی، عدالت نےاین سی سی آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ محمد رضوان کو ہراساں یا غیر ضروری زحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے،این سی سی آئی اے انکوائری قانون کے مطابق کرے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق این سی سی آئی اے کے مطابق انکوائری الیکٹرانک فراڈ کے الزامات سے متعلق ہے، سرکاری وکیل کے مطابق معاملہ پیکا ایکٹ 2016 کی دفعہ 14، ناجائز مالی فائدے، کے دائرہ کار میں آتا ہے۔

این سی سی آئی اے کے مطابق سائبر پٹرولنگ کے دوران حاصل ہونے والی معلومات سے محمد رضوان کا معاملے سے تعلق سامنے آیا، فیصلہ کے مطابق اس مرحلے پر متعلقہ ادارے کو دفعہ 14 کے تحت الزامات کی انکوائری جاری رکھنے کا موقع دینا مناسب ہے۔

محمد رضوان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کو رپورٹ نہیں کیا گیا، وکیل کے مطابق آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ کرکٹ میں کرپشن کے خلاف کارروائی کا متعلقہ فورم ہے، عدالت نے آئی سی سی اینٹی کرپشن کوڈ کی شق 1.11 کا حوالہ بھی دیا۔

فیصلہ کے مطابق آئی سی سی اینٹی کرپشن کوڈ فوجداری قوانین قائم نہیں کرتا بلکہ کرکٹ سے وابستہ افراد کے لیے پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق ہے،آئی سی سی کا اینٹی کرپشن کوڈ دیگر قابل اطلاق قوانین کی کارروائی کو متاثر یا ختم نہیں کرتا۔

آئی سی سی کے ضابطے کو بنیاد بنا کر فوجداری کارروائی سے بچنے کی کوشش نہیں کی جاسکتی، آئی سی سی کا اپنا ضابطہ بھی متعلقہ فوجداری یا ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ تعاون کا تقاضا کرتا ہے،آئی سی سی کے ڈسپلنری فریم ورک کی موجودگی ریاستی مجاز ادارے کی قانونی انکوائری میں رکاوٹ نہیں۔

فیصلے کے مطوب کال اپ نوٹس بذات خود کسی شخص پر جرم کا الزام عائد نہیں کرتا، کال اپ نوٹس انکوائری یا تفتیش میں معلومات حاصل کرنے اور متعلقہ افراد کا مؤقف جاننے کا ایک طریقہ کار ہے،محمد رضوان نوٹس کے مطابق پیش ہوچکے اور اپنا تحریری مؤقف بھی جمع کراچکے ہیں۔

این سی سی آئی اے کی انکوائری نہ دائرہ اختیار سے باہر ہے نہ بدنیتی پر مبنی ہے، انکوائری کا مقصد کھیلوں میں کرپشن کا پتہ لگانا اور اسے ختم کرنا ہے، ،انکوائری مکمل ہونے اور مزید کارروائی کی ضرورت کا تعین ہونے سے قبل عدالت اس ابتدائی مرحلے پر مداخلت نہیں کرسکتی۔

انکوائری کے حتمی نتیجے سے شکایت کی صورت میں محمد رضوان قانون کے مطابق مناسب داد رسی حاصل کرسکتے ہیں،محمد رضوان سے ضبط یا قبضے میں لی گئی اشیاء کی واپسی کا معاملہ متعلقہ عدالت سے رجوع کرکے اٹھایا جاسکتا ہے، عدالت، فیصلہ کے مطابق محمد رضوان نے این سی سی آئی اے کا کال اپ نوٹس اور انکوائری کارروائی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کی تھی۔

این سی سی آئی اے نے محمد رضوان کو 8 ستمبر کو طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا،نوٹس کے ذریعے محمد رضوان کو 10 ستمبر کو پیش ہوکر اپنا مؤقف اور الزامات کی وضاحت کرنے کی ہدایت کی گئی۔

محمد رضوان نے 10 ستمبر کو این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہوکر اپنا مؤقف پیش کیا،محمد رضوان نے 14 ستمبر کو تحریری جواب بھی جمع کرایا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے