• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 5:31 شام
  • پاکستان

یرسٹر گوہر نے وفاقی حکومت سے خیبر پختونخوا میں مداخلت بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومتی ہٹ دھرمی کے باعث مذاکرات کے مسودے پر حتمی اتفاق نہیں ہوسکا، حکومت نے مذاکرات میں سنجیدگی نہیں دکھائی اور کسی ایک بات پر بھی رضامندی ظاہر نہیں کی۔

سوات میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے وزیراعظم کے ساتھ اپوزیشن لیڈر کی ملاقات اور دہشت گردی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل کی تجویز دی تھی، خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں دہشت گردی کے خلاف متفقہ بیانیے پر بھی بات کی۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات جنگوں میں بھی ہوتے ہیں، حکومت مخلص ہے تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائے، ہم نے مخلصانہ کوششیں کیں مگر حکومت نہیں مانی۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہمارا لانگ مارچ رکا نہیں، ہم پرامن ہیں اور پرامن احتجاج ہمارا حق ہے، دہشت گردی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس ہے، دہشت گردی کا خاتمہ گورنر راج یا ایمرجنسی سے ممکن نہیں۔

بیرسٹر گوہر نے وفاقی حکومت سے خیبرپختونخوا میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے مداخلت کرکے کے پی میں لولی لنگڑی حکومت دے دی، جب چیف سیکریٹری اور آئی جی کسی اور سے احکامات لیں گے تو صوبے میں امن کیسے آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے کے ڈی سی کسی اور کے کہنے پر دفعہ 144 لگا رہے ہیں، آج صوبے میں ہمارے وزرا اور ایم پی ایز غائب ہیں، وہ کہاں گئے؟ گولی چلی تو تم سب ذمہ دار ہوں گے۔

بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ پنجاب میں ہمیں 2 کروڑ ووٹ ملے لیکن مینڈیٹ چوری کیا گیا، 76 ایم این ایز، 25 سینیٹرز اور پنجاب و خیبرپختونخوا کے 197 ایم پی ایز بائیکاٹ کریں گے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے