• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 5:31 شام
  • پاکستان

یہ صورتِ حال اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور جامعات کی عالمی مسابقت کے دعوؤں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے

ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی عالمی درجہ بندی جاری ہوگئی، پاکستان کی 1 بھی جامعہ ٹاپ 400 میں شامل نہیں ہوسکی۔

ٹائمز ہائر ایجوکیشن نے عالمی جامعات 2027ء کی درجہ بندی کی فہرست جاری کر دی، پاکستان کی ایک بھی جامعہ دنیا کی ٹاپ 400 جامعات میں جگہ نہیں بنا سکی۔

ملک کی 2 سب سے بڑی جامعات جامعہ کراچی 1601 اور جامعہ پنجاب 1801 نمبر پر رہیں۔یہ صورتِ حال اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور جامعات کی عالمی مسابقت کے دعوؤں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔

درجہ بندی کے مطابق دنیا کی بہترین جامعہ کا اعزاز مسلسل گیارہویں سال برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی نے حاصل کیا۔

امریکا کی میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) دوسرے، پرنسٹن اور اسٹینفورڈ مشترکہ تیسرے، کیمبرج پانچویں اور ہارورڈ چھٹے نمبر پر رہیں۔

کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ساتویں، امپیریل کالج لندن آٹھویں جبکہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے اور ییل مشترکہ نویں نمبر پر رہیں۔ ٹاپ 10 میں امریکا کی 7 اور برطانیہ کی 3 جامعات شامل ہیں۔ایشیاء میں چین کی سنگھوا یونیورسٹی 11 ویں اور پیکنگ یونیورسٹی 13 ویں نمبر پر ہیں، چین کی مجموعی طور پر 17 جامعات ٹاپ 200 میں شامل ہوئیں۔

جاپان کی 5 جامعات اس فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں، یونیورسٹی آف ٹوکیو 27 ویں اور کیوٹو یونیورسٹی مشترکہ 62 ویں نمبر پر ہے، ملائیشیا کی یونیورسٹی آف ملایا پہلی مرتبہ ٹاپ 200 میں داخل ہوئی اور مشترکہ 194 ویں نمبر پر رہی۔

پاکستانی جامعات کی درجہ بندی کے مطابق قائدِاعظم یونیورسٹی 551 تا 600، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی 601 تا 650 اور کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد 651 تا 700، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد، یونیورسٹی آف لاہور 701 تا 800 کے گروپ میں شامل ہیں.

801 تا 1000 کے گروپ میں عبد الولی خان یونیورسٹی مردان، ایئر یونیورسٹی، غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، گومل یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد، اقراء یونیورسٹی، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، یونیورسٹی آف دی پنجاب، یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور، یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا، یونیورسٹی آف گجرات، یونیورسٹی آف مالاکنڈ اور یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی شامل ہیں۔

1001 تا 1200کے گروپ میں کیپیٹل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، ہزارہ یونیورسٹی، اسلامیہ کالج پشاور، خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS)، پی ایم اے ایس اریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، سکھر آئی بی اے یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ہری پور، ویمن یونیورسٹی ملتان، یونیورسٹی آف اوکاڑہ، یونیورسٹی آف پشاور، یونیورسٹی آف سواتی اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور شامل ہیں۔

1201 تا 1400 کے گروپ میں کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر، یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، یونیورسٹی آف سرگودھا، یونیورسٹی آف سوات، بحریہ یونیورسٹی شامل ہیں۔

1401 تا 1600 کے گروپ میں پاکستان کی انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو، ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان، سپیریئر یونیورسٹی شامل ہیں۔1601 تا 1800 کے گروپ میں بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی، جامعہ کراچی شامل ہیں۔

1801 تا 2000 کے گروپ میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی، این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، جبکہ 2001 سے آگے کے گروپ میں نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) شامل ہے۔

پاکستانی جامعات کی کوئی نمائندگی ٹاپ 400 میں نہ ہونا اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے معیار سے متعلق تشویش ناک سوالات اٹھاتا ہے۔

درجہ بندی میں 56 جامعات کو باقاعدہ درجہ ضرور ملا، مگر ملک کی بہترین جامعہ بھی 551 تا 600 کے گروپ میں ہے، یہ صورتِ حال تحقیق، علمی پیداوار اور عالمی مسابقت کے دعوؤں کا سنجیدہ جائزہ لینے کا تقاضہ کرتی ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے