• ستمبر 16, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 16, 2026 12:24 صبح
  • پاکستان

صوبائی بجٹ میں ترقیاتی حجم 23 ارب اور غیر ترقیاتی حجم 88 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے

گلگت بلتستان کی کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے لیے 218 ارب روپے حجم کا بجٹ منظور کر لیا، جس میں ترقیاتی 23 ارب اور غیرترقیاتی مد میں 88 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

محکمہ اطلاعات گلگت بلتستان سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ امجد حسین کی زیر صدارت مالی سال 27-2026 کے بجٹ پر اجلاس ہوا اور اس دوران صوبائی سیکریٹری خزانہ اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری ڈیولپمنٹ نے تمام اراکین کو بجٹ کے خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی اور صوبائی کابینہ نے بجٹ کی متفقہ منظوری دے دی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے صوبائی کابینہ کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود بجٹ کا بنیادی محور سوشل سیکٹر، مستحق افراد کی فلاح و بہبود، نوجوانوں، خواتین کو روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار غیرترقیاتی اخراجات کم کرنے کے لیے تمام محکموں کا غیر ترقیاتی بجٹ 30 فیصد تک کم کیا جارہا ہے، موجودہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ملک کو درپیش معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید کفایت شعاری کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں ملازمین کی کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 44 ہزار روپے کرنے تجویز ہے، اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تفریق کم کرنے اور متوسط و غریب طبقے کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صحت، تعلیم اور زراعت کے شعبوں کی بہتری کے لیے خطیر فنڈز تجویز گئے ہیں، جن میں ادویات کی خریداری کے لیے 17 کروڑ روپے کا اضافہ، ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ اور ہونہار طلبہ کے اسکالرشپس میں بڑا اضافہ شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کو فروغ دینے کے لیے واٹرمینجمنٹ کو 5 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، تاریخ میں پہلی مرتبہ سوشل پروٹیکشن کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور سوشل سیکٹر کے لیے 4 ارب روپے کا انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

امجد حسین نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں کلائمٹ فنڈ مختص ہوتا تھا لیکن عملی طور پر کلائمٹ فنڈ کی کٹوتی نہیں کی جا رہی تھی، پہلی مرتبہ ترقیاتی منصوبوں سے ایک فیصد کلائمٹ فنڈ کی کٹوتی کرکے کنسولٹیڈ اکاؤنٹ میں جمع کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبے میں ہائبرڈ گاڑیوں کو سرکاری محکموں کے لیے خریدا جائے، جو پرانی گاڑیاں زیادہ فیول استعمال کر رہی ہیں ان کی نیلامی کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تھرو فارورڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے ترقیاتی عمل بری طرح متاثر ہوا ہے، ڈیولپمنٹ سائیکل کی بحالی اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کے لیے تھرو فارورڈ میں کمی لائی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پہلی مرتبہ حکومتی اور اپوزیشن اراکین کو برابر ترقیاتی فنڈ دیے گئے ہیں تاکہ تمام علاقوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ترقی کے عمل کو مساوی بنیاد پر آگے بڑھایا جاسکے۔

وزیراعلیٰ نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ڈیولپمنٹ اور دیگر متعلقہ سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ پی سی ون ٹینڈر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے مراحل کو شفاف اور بہتر بنایا جائے تاکہ ترقیاتی حقیقی معنوں میں ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہوسکے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے