• ستمبر 14, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 14, 2026 11:01 صبح
  • پاکستان

اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری موجودہ انتظامی تقسیم عام آدمی کی زندگی آسان بنا رہی ہے؟

پاکستان میں نئے صوبوں کی بات کوئی نئی بات نہیں۔ کبھی جنوبی پنجاب کا نعرہ سنائی دیتا ہے، کبھی ہزارہ صوبے کی بات ہوتی ہے اور کبھی ملک کے دوسرے حصوں سے بھی انتظامی بنیادوں پر نئی اکائیوں کی آواز اٹھتی ہے۔ اس بحث میں سیاست بھی شامل ہے، شناخت کا سوال بھی اور اقتدار کی تقسیم کا معاملہ بھی۔ لیکن میرے خیال میں اس وقت ہمیں اس بحث کو ایک اور زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں صوبے چار ہوں، چھ ہوں یا دس۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری موجودہ انتظامی تقسیم عام آدمی کی زندگی آسان بنا رہی ہے؟ کیا اس سے روزگار پیدا ہو رہا ہے؟ کیا دور دراز علاقوں میں صنعت، کاروبار اور سرمایہ کاری پہنچ رہی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر انتظامی ڈھانچے پر دوبارہ غور کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ایک پرانی حکایت ہے کہ ایک بہت بڑے محلے میں کھانا پکانے کی ذمہ داری ایک ہی باورچی کے پاس تھی۔ وقت گزرتا گیا، محلہ پھیلتا گیا، گھروں کی تعداد بڑھتی گئی، مگر باورچی وہی ایک رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ گھروں تک کھانا وقت پر پہنچتا اور کچھ انتظار ہی کرتے رہ جاتے۔ لوگ باورچی کو برا بھلا کہنے لگے۔ ایک بزرگ نے کہا کہ شاید مسئلہ باورچی نہیں، انتظام کا ہے۔ جب ذمے داری بہت بڑے حصے پر ڈال دی جائے تو اچھا آدمی بھی ہر شخص تک نہیں پہنچ سکتا۔ پاکستان کے بڑے صوبوں کے بارے میں بھی یہ مثال کچھ نہ کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ آج پاکستان کو جن معاشی مشکلات کا سامنا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق مالی سال 2025-26 میں ملکی معیشت کی حقیقی شرح نمو 3.70 فیصد رہی، جبکہ فی کس آمدنی تقریباً 1,901 ڈالر ہے۔ بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد اور اوسط ماہانہ اجرت تقریباً 39 ہزار روپے رپورٹ ہوئی۔ یہ اعداد صرف اعداد نہیں، ان کے پیچھے لاکھوں گھرانوں کی پریشانی ہے۔ ایک نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت ڈھونڈ رہا ہے، ایک چھوٹا کاروباری شخص بجلی، ٹیکس اور سرمایہ کی مشکلات سے دوچار ہے اور ایک کسان اپنی پیداوار کی مناسب قیمت کے لیے پریشان ہے۔ ایسے حالات میں اگر نئے صوبوں کی بات ہو تو اسے صرف سیاسی مطالبہ بنا دینا شاید ہمارے مسئلے کا حل نہیں ہوگا۔ نئی اکائی بنانی ہے تو اس کے ساتھ نئی سوچ بھی لانی ہوگی۔ ایک ایسا صوبہ کیوں نہ بنایا جائے جس کے قیام کے پہلے دن ہی یہ طے ہو کہ اگلے دس سال میں اس نے اپنی برآمدات کہاں تک لے کر جانی ہیں، کتنی نئی صنعتیں قائم کرنی ہیں، کتنے نوجوانوں کو ہنر دینا ہے اور کتنے نئے کاروبار پیدا کرنے ہیں؟ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو نئی اسمبلی، نیا سیکریٹریٹ، نئی گاڑیاں اور نئے سرکاری عہدے تو بن جائیں گے، لیکن عام آدمی کی زندگی شاید وہیں کی وہیں رہے گی۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ صوبوں کو ایک دوسرے سے سیاسی نہیں بلکہ معاشی مقابلے میں لایا جائے۔ جس صوبے نے زیادہ سرمایہ کاری حاصل کی، زیادہ صنعتیں لگائیں، زیادہ نوجوانوں کو روزگار دیا اور زیادہ برآمدات کیں، اسے کامیاب سمجھا جائے۔ اس وقت ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ترقی کو اکثر سرکاری منصوبوں اور بجٹ کے حجم سے ناپتے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ نجی شعبے میں کتنی نئی معاشی سرگرمی پیدا ہوئی۔ مثلاً کسی علاقے میں زراعت زیادہ ہے تو وہاں صرف گندم، پھل یا سبزیاں پیدا کرنا کافی نہیں۔ وہیں فوڈ پروسیسنگ کے کارخانے لگیں، پیکنگ ہو، کولڈ اسٹوریج بنیں، برانڈ تیار ہوں اور یہی مصنوعات بیرون ملک جائیں۔ جہاں معدنیات ہیں وہاں صرف خام مال نکال کر باہر بھیجنے کے بجائے مقامی سطح پر اس کی پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن ہونی چاہیے۔ جہاں نوجوان اور تعلیمی ادارے موجود ہیں وہاں آئی ٹی، سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل سروسز کو برآمدی صنعت بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ٹیکسٹائل، گارمنٹس، انجینئرنگ، سیاحت اور دستکاری کے شعبوں میں بھی مقامی خصوصیات کو عالمی منڈی سے جوڑا جا سکتا ہے۔ یہاں ایک اور بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت ہر نوجوان کو ملازمت نہیں دے سکتی، اور شاید اسے اپنا بنیادی مقصد بھی نہیں بنانا چاہیے۔ حکومت کا کام ایسا ماحول بنانا ہے جہاں نوجوان ملازمت تلاش کرنے کے بجائے اپنا کاروبار شروع کرنے کا سوچ سکے۔ اسے تربیت ملے، آسان قرض ملے، مارکیٹ تک رسائی ملے اور اگر وہ برآمد کرنا چاہے تو کاغذی کارروائی اور قانونی معاملات میں سہولت ملے۔ ایک نوجوان اگر اپنے کاروبار میں پانچ یا دس لوگوں کو روزگار دے رہا ہے تو وہ خود بھی روزگار حاصل کر رہا ہے اور دوسروں کے لیے بھی راستہ بنا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حکومت غریب آدمی کو اس کے حال پر چھوڑ دے۔ جو لوگ بنیادی ضروریات پوری نہیں کر سکتے، ان کے لیے سماجی تحفظ اور ریلیف ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ریلیف کے ساتھ راستہ بھی دینا ہوگا۔ صرف راشن یا نقد رقم کسی خاندان کو وقتی سہارا دے سکتی ہے، مستقل خوشحالی نہیں۔ مستقل خوشحالی تب آئے گی جب اس خاندان کا ایک فرد ہنر سیکھے، کاروبار کرے، اچھی نوکری حاصل کرے یا اپنی پیداوار کو کسی بڑی مارکیٹ تک پہنچا سکے۔ پاکستان کی صنعت میں بھی کچھ بہتری کے آثار سامنے آئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں صنعتی صلاحیت موجود ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اسے چند بڑے شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے مختلف علاقوں کی اپنی معاشی صلاحیتوں کے ساتھ جوڑا جائے۔ نئے صوبے بنانا آسان کام نہیں۔ اس کے مالی اخراجات ہیں، سیاسی پیچیدگیاں ہیں اور انتظامی مسائل بھی ہیں۔ اس لیے یہ فیصلہ جذبات میں نہیں بلکہ اعداد و شمار کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ جہاں انتظامی طور پر ضرورت ہو وہاں نئی اکائی بنائی جائے، مگر اس کے ساتھ واضح معاشی ذمہ داریاں بھی طے ہوں۔ ہر صوبے کے لیے یہ سوال لازمی ہو کہ وہ اپنے لوگوں کے لیے کتنے نئے روزگار پیدا کرے گا، کتنی سرمایہ کاری لائے گا اور قومی برآمدات میں کتنا حصہ ڈالے گا۔ ہمیں یہ سوچ بھی بدلنا ہوگی کہ ہر مسئلے کا حل اسلام آباد سے مانگنے میں ہے۔ صوبوں کو اپنے وسائل پیدا کرنے اور اپنی معیشت مضبوط کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کرنا ہوگی۔ وفاق سے وسائل کا مطالبہ اپنی جگہ، لیکن اصل کامیابی تب ہوگی جب صوبے یہ کہیں کہ ہم اپنے لوگوں کے لیے ایسے مواقع پیدا کریں گے کہ وہ خود کمائیں، کاروبار کریں اور ملک کے لیے زرمبادلہ لائیں۔ آخر میں بات پھر وہیں آتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ نئے صوبے اگر صرف نئی سرحدیں، نئی اسمبلیاں اور نئے سرکاری دفتر بننے کا نام

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

بلاگر کا تعلق آزاد کشمیر ہے، اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم ایس ڈگری کے حامل ہیں۔ اس وقت اسلام آباد کے ایک نجی ادارے میں ملازم ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے