• ستمبر 14, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 14, 2026 2:30 صبح
  • پاکستان

اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور ان کے باہمی رابطوں سے ہی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ بااختیار طرز حکمرانی اور پائیدار مالیاتی نظام اسلام آباد کی ضرورت ہے اور محصولات کا جائز حصہ شہر پر خرچ ہونا چاہیے۔ اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور ان کے باہمی رابطوں سے ہی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

راجہ پرویز اشرف نے جو کہا وہی جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کا موقف ہے اور دونوں کے خیال میں صوبوں میں شہروں کے معاملے میں برابری کا سلوک نہ کیے جانے سے ہی صوبوں اور انتظامی یونٹس کے مطالبات شروع ہو جاتے ہیں اور سندھ کی حکومت سے بھی یہی شکایات ہیں کہ وہ کراچی سے انصاف کر رہی ہے نہ کراچی کے لوگوں کو ان کے جائز حقوق دے رہی ہے۔

پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کی غیر متوقع طور پر سندھ اسمبلی میں پیش ہونے والی تحریک التوا پر ایم کیو ایم نے انتہائی مسرت کا اظہار کیا کہ اس موقع پر کھل کر اظہار رائے کا موقعہ ملا اور پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کے برعکس ایم کیو ایم کے تقریباً تمام ہی ارکان نے فائدہ اٹھایا جب کہ پی پی کے بعض ارکان ہی بول سکے اور اکثر خاموش رہے۔

حکومتی ارکان نے سندھ کی وحدت برقرار رکھنے اور سندھ کی تقسیم پر جب کہ اپوزیشن کے سب ہی ارکان نے کراچی ہی نہیں بلکہ اندرون سندھ کے عوام کی حالت زار، سندھ حکومت کی بیڈ گورننس، ناانصافیوں پر تقاریر کیں اور سب نے ہی سندھ کی وحدت برقرار رکھنے اور سندھ کو یہاں کے رہنے والوں کے لیے مقدس قرار دیا کہ وہ بھی سندھ کو ماں سمجھتے ہیں مگر اس ماں کے نام پر سندھ حکومت سب سے یکساں سلوک نہیں کر رہی اور کراچی سے حاصل ہونے والی آمدنی اور وفاق سے ملنے والے فنڈز کے غلط استعمال اور کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی اور کہا کہ کراچی کی آمدنی بھی کراچی کی ترقی اور عوام کے مسائل کے حل پر خرچ کی جانی چاہیے۔

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کے مطالبات نئے نہیں، 4 عشروں سے ہو رہے ہیں اور جنرل ضیا الحق کے دور میں بھی ملک کے تمام 18 ڈویژنوں کو صوبائی درجہ دینے کی سرکاری طور پر بات شروع ہوئی تھی مگر فضائی حادثے کے بعد ان کی حکومت ختم اور 1988 میں ہی بے نظیر بھٹو کے اقتدار میں آنے کے باعث اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی، البتہ بے نظیر بھٹو نے سکھر میں ضلعی گورنروں کی بات ضرور کی تھی مگر 1990 میں بے نظیر حکومت کے خاتمے سے قبل اندرون سندھ اور کراچی میں لسانی ہنگامے اور کراچی اور حیدرآباد کی طرف اندرون سندھ سے نقل مکانی ہوئی تھی اور پی پی کے وزیر اعلیٰ کو ہٹا کر جام صادق وزیر اعلیٰ بنائے گئے تھے جن کے دور میں سندھ سے لسانی کشیدگی ختم ہو گئی تھی۔

جام صادق اور نگران وزیر اعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کے دور میں سندھ پرامن رہا اور کراچی کے ساتھ ناانصافیوں کی شکایات کم تھیں مگر 1993 میں بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں عبداللہ شاہ وزیر اعلیٰ بنے اور 1991 سے کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن بھی جاری رہا ۔ ایم کیو ایم کی بنیاد ہی سندھ کے شہری علاقوں خصوصی طور کراچی و حیدرآباد سے ناانصافیوں پر ہی ڈالی گئی تھی جس کا بڑا فائدہ شہری علاقوں کو نہیں بلکہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے بھرپور اٹھایا اور سندھ میں گورنر راج بھی وزیر اعظم نواز شریف نے ایم کیو ایم کے باعث ہی لگایا تھا۔

اس وقت بھی کوٹہ سسٹم کے خاتمے اور شہری علاقوں کے ساتھ ناانصافی کی شکایات تھیں مگر سندھ کی تقسیم یا نئے انتظامی یونٹوں کا مطالبہ اس لیے نہیں ہوا کہ 2001 میں جنرل پرویز مشرف نے ملک میں بااختیار ضلعی حکومتیں قائم کرا کر ضلعی ناظمین کو مالی اور انتظامی اختیارات دے کر اور بیورو کریسی کو ان کا ماتحت کرکے ملک کو ضلعی حکومتوں کا بااختیار نظام دے کر ناانصافیوں کی شکایات کا ازالہ کرا دیا تھا۔جنرل پرویز کے بعد 2008 میں اقتدار میں آ کر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ضلعی حکومتوں کو ختم کرکے جنرل ضیا دور کا 1979 کا بے اختیار بلدیاتی نظام بحال کیا اور صوبائی حکومتوں نے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے اور ملک میں 2015 میں بلدیاتی الیکشن سپریم کورٹ کے حکم پر ہوئے تھے اور اس سے قبل پیپلز پارٹی نے 2011 میں 18 ویں ترمیم کرا کر صوبوں کو انتہائی بااختیار اور وفاق کو کمزور کرایا تھا اور صوبے اس قدر بااختیار اور وزرائے اعلیٰ بادشاہ بنے ہوئے ہیں جنھوں نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت اختیارات اضلاع میں منتقل کیے نا ضلعوں کو فنڈز دیے۔

پنجاب، کے پی، بلوچستان کے برعکس سندھ میں پیپلز پارٹی کی پالیسی کی وجہ سے کراچی اور اندرون سندھ کے اضلاع میں پھر احساس کمتری بڑھا اور پھر شہری علاقوں میں ناانصافیوں کی شکایات حد سے زیادہ بڑھیں تو ایم کیو ایم نے علیحدہ صوبے، کراچی کو وفاق کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا جس کی کسی بھی جماعت نے حمایت نہیں کی مگر وفاقی وزیر داخلہ کے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے بیان کے بعد سندھ میں پیپلز پارٹی مشتعل ہے۔

پی پی اور (ن) لیگ سندھ اور پنجاب میں نئے صوبے نہیں چاہتیں اور دونوں کی صوبائی حکومتوں سے شکایات ہیں کہ وہ من پسند علاقوں کو نواز رہی ہیں۔

سندھ حکومت سے زیادہ شکایات ہیں کہ وہ کراچی کے ساتھ ناانصافی، کوٹہ سسٹم کے برعکس ملازمتیں دے کر شہری علاقوں کو مکمل نظر انداز اور سندھ کارڈ استعمال کرکے صوبے میں پرامن ماحول بگاڑ کر اپنی سیاست چمکا رہی ہے۔ پی پی کے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف جو بات اسلام آباد کو اختیارات دینے کی کر رہے ہیں وہ سو فی صد درست ہے مگر انھیں (ن) لیگی حکومت سے صرف اسلام آباد کے لیے کرنے کے ساتھ سندھ میں پی پی حکومت سے بھی بات کرنا چاہیے کہ بااختیار طرز حکمرانی اور محصولات کا جائز حصہ سندھ کے اضلاع کو بھی دے اور سندھ کے اضلاع میں بھی پائیدار مالیاتی نظام قائم کریں تاکہ موجودہ شکایات ختم ہو سکیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے