• ستمبر 16, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 16, 2026 11:26 صبح
  • پاکستان

محکمہ تحفظ ماحول کی جانب سے صنعتی یونٹس اور آلودگی کے دیگر بڑے ذرائع کے خلاف بھی کریک ڈاؤن جاری ہے

محکمہ تحفظ ماحول پنجاب نے اسموگ اور فضائی آلودگی کے ذرائع کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے گزشتہ 30 روز کے دوران صوبے بھر میں اینٹوں کے بھٹوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کیا۔

گزشتہ ماہ 15 تاریخ سے 15 ستمبر تک 7,953 بھٹوں اور متعلقہ یونٹس کی چیکنگ کی گئی، جبکہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر 158 اینٹوں کے بھٹے مسمار کر دیے گئے۔

محکمہ تحفظ ماحول کے اعدادوشمار کے مطابق کارروائیوں کے دوران 69 یونٹس سیل، 110 ایف آئی آرز درج اور مجموعی طور پر 1 کروڑ 43 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ مختلف اضلاع میں بھٹوں کے خلاف کارروائیوں میں بھکر میں 24، بہاولپور میں 17، سرگودھا میں 13، جہلم اور اوکاڑہ میں 12،12 جبکہ ملتان میں 10 بھٹے مسمار کیے گئے۔

محکمہ تحفظ ماحول کی جانب سے صنعتی یونٹس اور آلودگی کے دیگر بڑے ذرائع کے خلاف بھی کریک ڈاؤن جاری ہے، جبکہ دھواں چھوڑنے والے یونٹس، گردوغبار اور دیگر ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے خلاف فیلڈ کارروائیاں اسموگ سیزن سے قبل مزید تیز کی جا رہی ہیں۔

اس کے ساتھ لاہور کے فضائی معیار کی صورتحال بھی مسلسل مانیٹر کی جا رہی ہے۔ فراہم کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق لاہور کا اے کیو آئی 106 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی ایئر کوالٹی ڈیٹا میں بھی لاہور کے اے کیو آئی میں وقت کے ساتھ اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس پر ہوا کی رفتار اور سمت سمیت موسمی عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں ہواؤں کا رخ اور رفتار فضائی آلودگی کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ محکمہ تحفظ ماحول کی جانب سے صنعتی اخراج، بھٹوں اور دیگر مقامی ذرائع پر کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکام کے مطابق مقامی آلودگی کے ذرائع کو کنٹرول کرنے کے ساتھ موسمی حالات بھی سازگار رہیں تو لاہور کا فضائی معیار مزید بہتر ہو کر اے کیو آئی نسبتاً بہتر درجے کی طرف جا سکتا ہے۔

ڈی جی تحفظ ماحول پنجاب عبداللہ نیر شیخ کے مطابق آلودگی کے بڑے ذرائع کے خلاف کارروائیوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے گا اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے بھٹوں اور صنعتی یونٹس کے خلاف بلاامتیاز ایکشن جاری رہے گا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے