• ستمبر 13, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 13, 2026 2:49 صبح
  • پاکستان

1935 میں آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے اس کی ممی دریافت کی تو اس کے چہرے کے تاثرات نے ماہرین کو حیران کر دیا

سائنس دانوں نے تین ہزار سال قبل ہلاک ہونے والی ایک مصری خاتون کی پراسرار موت کا معمہ حل کرنے کی جانب اہم پیش رفت کی ہے۔

یہ خاتون اپنی خوف زدہ اور چیخنے جیسی شکل کے باعث ’چیختی ہوئی عورت‘ کے نام سے مشہور ہے۔ 1935 میں آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے اس کی ممی دریافت کی تو اس کے چہرے کے تاثرات نے ماہرین کو حیران کر دیا۔

ابتدا میں خیال کیا گیا کہ شاید ناقص طریقے سے ممی بنانے کی وجہ سے اس کا منہ کھلا اور چہرہ چیخنے کی حالت میں رہ گیا لیکن نئی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس خاتون کی تدفین انتہائی شاہانہ انداز میں کی گئی تھی۔

اسے مہنگے درآمد شدہ سامان کے ساتھ دفن کیا گیا، جس میں لوبان اور جونیپر ریسنز شامل تھی۔ خاتون نے کھجور کے پتوں کے ریشوں سے بنی وگ پہن رکھی تھی، جسے مہنگی سرخی مائل مہندی سے رنگا گیا تھا اور کرسٹل نما پاؤڈر سے سجایا گیا تھا۔

یہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ممی کی عجیب و غریب حالت محض ناقص ممی بنانے کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے کوئی حقیقی طبی یا موت سے متعلق وجہ بھی ہو سکتی ہے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ اس تحقیق میں ممی کے چہرے پر موجود چیخنے کے تاثرات کو موت کے وقت جسم کے اچانک اکڑ جانے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ خاتون شدید اذیت یا درد میں چیختے ہوئے ہلاک ہوئی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے