• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 2:21 صبح
  • پاکستان

ٹریفک پولیس اہلکاروں کے یونیفارم سفید ہی کیوں ہوتے ہیں؟

جوڑے کی جنگل میں انسٹاگرام لائیو کے دوران خودکشی، اہل خانہ بھی دیکھتے رہے

پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی

دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟

میساچوسٹس : امریکا میں اپنے 3 بچوں کے قتل کے مقدمے کا سامنا کرنے والی لنڈسے کلینسی کے خلاف کیس کی سماعت آج بھی جاری رہی۔

عدالتی کارروائی کے دوران اسپتال کی چیپلین شیلا کیوناگ نے اہم گواہی دیتے ہوئے بتایا کہ بچوں کی ہلاکت کے چند روز بعد کلینسی نے کہا تھا کہ وہ اس بات پر بہت خوش ہے کہ اس کے بچے اب محفوظ ہیں۔

لنڈسے کلینسی پر الزام ہے کہ اس نے 24 جنوری 2023 کو بوسٹن کے نواحی علاقے ڈکسبری میں واقع اپنے گھر میں اپنے تین بچوں، 5 سالہ بیٹی کورا، 3 سالہ بیٹے ڈاسن اور شیر خوار بیٹے کیلن کو قتل کیا اور اس کے بعد خودکشی کی کوشش کی، جبکہ ملزمہ کلینسی نے الزامات سے انکار کیا ہے۔

عدالت میں جمعرات کو گواہی دیتے ہوئے برائگھم اینڈ ویمنز اسپتال کی بورڈ سرٹیفائیڈ چیپلین شیلا کیوناگ نے بتایا کہ وہ اسپتال میں زیر علاج کلینسی سے کم از کم 14 مرتبہ ملی تھیں، ان کی پہلی ملاقات 31 جنوری کو اس وقت ہوئی جب کلینسی کو وینٹی لیٹر سے اتارا جا چکا تھا۔

کیوناگ کے مطابق کلینسی اس وقت گردن کے بریس اور مختلف طبی آلات میں گھری ہوئی تھی اور اس کے جذبات بظاہر بہت محدود تھے۔ تاہم، ملاقات کے دوران اس نے چیپلین کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا، ’’میں بہت خوش ہوں کہ میرے بچے محفوظ ہیں۔‘‘

چیپلین نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے جواب میں کلینسی سے کہا کہ اس کے بچے محفوظ ہیں اور ’’خدا کے ساتھ جنت میں ہیں‘‘۔ اس کے بعد دونوں نے بچوں کے لیے دعا کی۔

’’ایک مرد کی آواز مجھے حکم دیتی تھی‘‘

شیلا کیوناگ نے گواہی میں مزید بتایا کہ کلینسی نے بچوں کی ہلاکت کے بعد ہونے والی متعدد ملاقاتوں کے دوران ایک مردانہ آواز سننے کا ذکر کیا تھا۔

چیپلین کے مطابق کلینسی کا کہنا تھا کہ یہ آواز اسے حکم دیتی تھی اور اسے خبردار کرتی تھی کہ اگر اس نے اس حکم پر عمل نہ کیا تو نہ وہ اور نہ ہی اس کے بچے محفوظ رہیں گے۔ کیوناگ نے بتایا کہ کلینسی نے اس آواز کو مستقل اور مردانہ قرار دیا تھا۔

دفاع کی جانب سے جرح کے دوران کیوناگ سے سوال کیا گیا کہ ان کے ابتدائی نوٹس میں بچوں کے قتل سے قبل کسی آواز کے سنائی دینے کا ذکر کیوں موجود نہیں تھا۔

اس پر چیپلین نے وضاحت کی کہ ان کی ذمہ داری مریض کا نفسیاتی جائزہ لینا نہیں بلکہ اس کی تکلیف اور حالات کا مشاہدہ کرنا اور اس کے ساتھ موجود رہنا تھا۔

کیوناگ نے عدالت کو بتایا کہ وہ بعد میں بھی کلینسی سے مسلسل ملتی رہیں اور ریاستی تحویل میں ٹیوکسبری اسپتال میں قیام کے دوران اب تک تقریباً 200 مرتبہ اس سے ملاقات کرچکی ہیں۔

کلینسی پوسٹ پارٹم سائیکوسس کا شکار تھی

کلینسی کے دفاع نے عدالت میں مؤقف اختیار کر رکھا ہے کہ بچوں کو قتل کرنے کے وقت وہ پوسٹ پارٹم سائیکوسس کا شکار تھی، جس کے باعث اسے اپنے اعمال کی نوعیت اور نتائج کا ادراک نہیں تھا۔

دفاعی ماہر نفسیات پال زیئزل نے بھی رواں ہفتے عدالت میں گواہی دیتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ تین برس کے دوران انہوں نے کلینسی سے تقریباً 60 مرتبہ ملاقات کی۔

زیئزل کے مطابق کلینسی نے انہیں بتایا کہ ایک مردانہ آواز اسے حکم دیتی تھی کہ اسے اپنے بچوں کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی مارنا ہوگا اور اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔

ماہر نفسیات نے بتایا کہ کلینسی کے مطابق اس نے آخری مرتبہ یہ آواز 24 جنوری 2023 کو سنی تھی، یعنی اسی روز جب اس کے تین بچوں کی موت ہوئی۔ ان کے مطابق واقعے کے بعد سے کلینسی نے دوبارہ ایسی آوازیں سننے کی اطلاع نہیں دی۔

دفاعی وکیل کیون ریڈنگٹن نے عدالت کو بتایا کہ دفاع ممکنہ طور پر جمعے کو ایک مزید گواہ، یعنی پوسٹ پارٹم سائیکوسس کے ماہر کی گواہی کے بعد اپنا کیس مکمل کر دے گا۔

کلینسی پر تینوں بچوں کے قتل کے الزام میں فرسٹ ڈگری قتل کی تین دفعات عائد ہیں۔ دفاع بچوں کی اموات کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر رہا، تاہم اس کا مؤقف ہے کہ مبینہ ذہنی کیفیت کے باعث کلینسی کو ان ہلاکتوں کے لیے فوجداری طور پر ذمہ دار قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔

جمعرات کی عدالتی کارروائی بھی مختصر رہی اور جیوری نے تقریباً ایک گھنٹے کی گواہی سننے کے بعد عدالت سے رخصت لے لی۔ جج ولیم سلیوان نے جیوری کو کارروائی میں تاخیر کی وجہ کے بارے میں قیاس آرائی سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔

لینڈسے کلینسی کیس : ماں نے کس کے کہنے پر 3 بچوں کو قتل کیا؟ اہم انکشاف

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے