وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا خطاب نے کہا کہ سرمایہ کاری کے فروغ میں حکومت کا کردار کلیدی ہے
اقوام متحدہ میں وفاقی وصوبائی حکومتوں کے تحت "پاکستان کے پائیدار مستقبل میں سرمایہ کاری" فئیر وکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی استحکام بنیادی ضرورت ہے، مقامی سرمایہ کار فعال ہونگے تو ملک میں بیرونی سرمایہ کاری آئے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا خطاب نے کہا کہ سرمایہ کاری کے فروغ میں حکومت کا کردار کلیدی ہے، حکومت مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی استحکام پر توجہ دے رہی ہے، معاشی ترقی کے ساتھ برآمدات میں اضافہ بھی ہماری ترجیح ہے، ایسی معاشی نمو درکار ہے جو ذمہ دارانہ اور پائیدار ہو، عالمی معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشی پالیسی آگے بڑھانا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں کمی کے لیے معاشی پالیسی کے مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستانی کاروباری گروپس اب مل کر کنسورشیم بنا کر کام کر رہے ہیں، گزشتہ مالی سال 11 آئی پی اوز ہوئے جو 20 سال کی بلند ترین سطح ہے، گزشتہ تین ماہ میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 5 آئی پی اوز ہوئے۔
وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے معاشی استحکام بنیادی اہمیت رکھتا ہے، نجی شعبہ معاشی ترقی اور سرمایہ کاری میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سرمایہ کاری کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے، ترقیاتی منصوبوں میں حکومت اور نجی شعبے کی شراکت داری ضروری ہے، سرمایہ کاری کے لیے مختلف معاشی عوامل کو یکجا کرکے آگے بڑھنا ہوگا، معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کے کردار کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ موسمیاتی خوشحالی کے منصوبے میں 14روزہ پروگرام کے ساتھ ای ایس جی انڈیکس تیار کیا جا رہا ہے، ای ایس جی انڈیکس سے لسٹڈ کمپنیوں کی کارکردگی کی معلومات سامنے لانے میں مدد ملے گی، پاکستان میں پالیسی کے حوالے سے صورتحال بہتر ہے، مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پالیسی کے ساتھ اداروں کی صلاحیت بڑھانا بھی ضروری ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پالیسی فریم ورک، فنانسنگ، صلاحیت بڑھانا اور بینک ایبل منصوبے ضروری ہیں پالیسی فریم ورک کی تیاری میں پاکستان اچھی پیشرفت کررہا ہے، پاکستان اسٹاک ایکسچینج ESG انڈیکس پر کام کررہا ہے، اسٹیٹ بینک نے گرین ٹیکسونومی کا فریم ورک بھی فراہم کیا ہے، فنانسنگ اپنے ذرائع سے بھی کررہے ہیں، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف بھی پاکستان کے ساتھ ہیں، صلاحیت بڑھانے کے لیے پاکستان کو مزید مدد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ آبادی اور بقا کے مسائل پر بھی توجہ دینا ہوگی بات چیت اب ’’کیا اور کیوں‘‘ سے آگے بڑھ کر ’’کیسے اور کون‘‘ تک پہنچ گئی ہے، آبادی میں اضافہ اور موسمیاتی خطرات پاکستان کے لیے بقا کے مسائل ہیں، ہماری توجہ اکثر روزمرہ کے مسائل پر مرکوز رہتی ہے، 2047 میں پاکستان جب سو سال کا ہوگا ابادی 40 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔
اس موقع پر ڈپٹی ریزیڈنٹ یو این ڈی پی وان نگوین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، صرف سرکاری وسائل سے ترقیاتی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں، توانائی، پانی، ٹرانسپورٹ، ویسٹ مینجمنٹ ودیگر بنیادی شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نجی سرمایہ کاری کے لیے قابلِ عمل کاروباری ماڈل، شفاف پالیسی اور مناسب منافع کی یقین دہانی ضروری ہے، حکومت اور نجی شعبے کو ایک مشترکہ ایجنڈے کے تحت کام کرنا ہوگا، سرمایہ کاری کے لیے ایسے منصوبے سامنے لانے ہونگے جس سے عوام مستفید ہوں۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سرکاری و نجی شعبے کا مل کر کام کرنا ایک کامیاب ماڈل ثابت ہو رہا ہے، خصوصاً پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے دونوں شعبے اپنی توانائی اور ریگولیٹری فریم ورک کو یکجا کرسکتے ہیں، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے دونوں شعبے اپنی توانائی اور ریگولیٹری فریم ورک کو میز پر لاسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بدلتے ہوئے ماحول اور بندرگاہوں کے بکھرے ہوئے منظرنامے میں بینک ایبل منصوبے بنانا آسان نہیں ہے، چیلنجنگ ترقیاتی ماحول میں بینک ایبل منصوبوں کی تشکیل کوئی معمولی کام نہیں، یہ ایک اہم چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ایسے منصوبے تشکیل دینا ضروری ہے جو مالی طور پر قابلِ عمل اور بینک ایبل ہوں، سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر شراکتداری ترقیاتی منصوبوں کو بینک ایبل بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آبادی پائیداری کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہے، ملک کے تین کروڑ 60 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، مسائل کے حل کے لئے فنانسنگ اور صلاحیت کا فقدان ہے، نجی شعبے کا کرادار اس کمی کو پورا کرنے میں، موسمیاتی خدشات بڑھ رہے ہیں، بدلتے حالات میں بینک ایبل منصوبوں مرتب کرنا دشوار ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پائیدار شہروں کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے، آبادی میں اضافہ اور شہروں کی طرف ہجرت بڑے چیلنجز ہیں، شہروں کی طرف آنے والے لوگوں کی بڑی تعداد کو مناسب نمائندگی حاصل نہیں، پانی کی فراہمی اور کچرے کو ٹھکانے لگانا آنے والے وقت کے بڑے مسائل ہیں، شہری مسائل کے حل کے لیے مقامی اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ شہری مسائل سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل اور اداروں کی صلاحیت میں کمی ہے، بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے مقابلے میں دستیاب وسائل کافی نہیں، پائیدار شہری ترقی کے لیے درست منصوبہ بندی اور مناسب وسائل ضروری ہیں۔
