پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی
دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟
ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا
سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری
واشنگٹن(6 اکتوبر 2026): آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً تین چوتھائی تک بحال ہو گئی ہے، تاہم ڈیزل جیسی ریفائن شدہ مصنوعات کی قلت بدستور برقرار ہے۔
امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے اختتام تک آبنائے ہرمز سے خام تیل کی یومیه ترسیل ایک کروڑ تیس لاکھ بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو کہ جنگ سے پہلے کی سطح کا 75 فیصد بنتی ہے۔
اس کے برعکس، پٹرول اور ڈیزل کی ترسیل یومیہ صرف 13 لاکھ بیرل ریکارڈ کی گئی، جو اس راستے سے ہونے والی کل تیل کی ترسیل کا محض 11 فیصد ہے جبکہ جنگ سے قبل یہ تناسب 20 فیصد سے زائد تھا۔
ماہرین کے مطابق سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، عراق اور دیگر خلیجی ممالک میں ریفائنریز میزائل حملوں اور جنگی تنازعات کے باعث اب بھی بند پڑی ہیں، جس کی وجہ سے خام تیل کی ترسیل بحال ہونے کے باوجود ڈیزل اور دیگر ریفائنڈ ایندھن کی سپلائی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
دوسری جانب اس بحران کے اثرات عالمی منڈی اور صارفین پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں امریکا میں ڈیزل کی قیمت ریکارڈ 6.53 ڈالر فی گیلن جبکہ ریاست کیلیفورنیا میں ریکارڈ 8.44 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔
