• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 10:28 شام
  • پاکستان

پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی

دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟

ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا

سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری

عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے افغانستان سے متعلق چار گرفتاری وارنٹس ان سیل (عوامی) کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ وارنٹس کو ضروری ریڈیکشنز (حذف شدہ حصوں) کے ساتھ شائع کیا جائے گا تاکہ افغانستان کی صورتحال پر عالمی برادری کے تعاون میں اضافہ ہو سکے۔

آئی سی سی کے مطابق افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی کے گرفتاری وارنٹس 8 جولائی 2025 کو جاری کیے گئے تھے، جبکہ حبیب اللہ آغا اور ندا محمد ندیم کے گرفتاری وارنٹس 9 ستمبر 2025 کو جاری کیے گئے۔

عالمی فوجداری عدالت نے افغانستان سے متعلق مزید عدالتی دستاویزات کو بھی پبلک کرنے کا حکم دیا ہے اور آئی سی سی پراسیکیوشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ مزید دستاویزات کی ریڈیکٹڈ کاپیاں 12 اکتوبر تک جمع کرائے۔

عدالت کا یہ فیصلہ 5 اکتوبر 2026 کو دی ہیگ میں جاری کیا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چاروں ملزمان پر انسانیت کے خلاف جرائم، بالخصوص صنفی بنیاد پر ظلم و ستم کے الزامات ہیں۔

آئی سی سی کے مطابق طالبان کی پالیسی سے اختلاف رکھنے والے افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں لڑکیوں اور خواتین کے حقوق کے حامی اور ان کے اتحادی سمجھے جانے والے افراد بھی شامل تھے۔عدالت کے مطابق مبینہ جرائم 15 اگست 2021 سے کم از کم 20 جنوری 2025 تک افغانستان میں جاری رہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ طالبان حکومت نے لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم، خاندانی زندگی اور دیگر بنیادی حقوق سے محروم رکھا، جبکہ ان کی نقل و حرکت، اظہارِ رائے، سوچ، ضمیر اور مذہبی آزادی پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں۔

آئی سی سی نے مزید کہا کہ طالبان کی پالیسی کے تحت قتل، قید، تشدد، ریپ، جبری گمشدگی اور دیگر سنگین اقدامات کیے گئے، جبکہ صنفی بنیاد پر ظلم و ستم میں براہِ راست تشدد کے ساتھ امتیازی اور ادارہ جاتی اقدامات بھی شامل تھے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے