پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی
دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟
ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا
سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری
زیورات سونے کے ہوں یا آرٹیفشل خواتین ان کی صفائی کرتے ہوئے یہ 4 چیزیں ہرگز استعمال نہ کریں، بصورت دیگر چمک کے بجائے نقصان کا اندیشہ ہے۔
شادیوں کا سیزن قریب آتے ہی خواتین اپنے ملبوسات کے ساتھ ساتھ سونے اور دیگر قیمتی زیورات کی صفائی اور دیکھ بھال پر بھی خصوصی توجہ دیتی ہیں۔
زیورات چونکہ خاص تقریبات میں بناؤ سنگھار کا اہم حصہ ہوتے ہیں، اس لیے ان کی چمک برقرار رکھنے کے لیے انہیں وقتاً فوقتاً صاف کیا جاتا ہے۔
زیورات کی صفائی کے لیے عام طور پر مختلف گھریلو ٹوٹکے آزمائے جاتے ہیں، تاہم ہر گھریلو نسخہ قیمتی زیورات کے لیے محفوظ نہیں ہوتا۔
بعض عام اشیا زیورات کو چمکانے کے بجائے ان کی سطح، دھات یا ان میں جڑے قیمتی پتھروں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق زیورات کی صفائی کے دوران ٹوتھ پیسٹ، بیکنگ سوڈا، لیموں کا رس اور بلیچ کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔
ٹوتھ پیسٹ:
زیورات کی صفائی کے لیے ٹوتھ پیسٹ کا استعمال ایک عام گھریلو ٹوٹکا سمجھا جاتا ہے، تاہم اس میں موجود رگڑ پیدا کرنے والے اجزا زیورات کی سطح پر خراشیں ڈال سکتے ہیں اور ان کی اصل چمک متاثر ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹوتھ پیسٹ زیورات میں نصب بعض قیمتی یا حساس پتھروں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
بیکنگ سوڈا:
بیکنگ سوڈا بھی زیورات کی صفائی کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔ اس کی الکلائن خصوصیات بعض دھاتوں اور زیورات کی سطح کو متاثر کرسکتی ہیں، اس لیے اسے قیمتی زیورات پر استعمال کرنے سے گریز بہتر ہے۔
لیموں کا رس اور سرکہ:
لیموں کا رس اور سرکہ عام صفائی کے لیے تو استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن قیمتی زیورات کے لیے یہ محفوظ انتخاب نہیں۔ دونوں تیزابی نوعیت رکھتے ہیں اور بعض دھاتوں یا زیورات میں لگے پتھروں کو متاثر کرسکتے ہیں۔
بلیچ:
بلیچ ایک سخت کیمیکل ہے اور قیمتی زیورات کی صفائی میں اس کا استعمال نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ زیورات کی دھات اور ان میں نصب قیمتی پتھروں کو متاثر کرسکتا ہے، اس لیے اسے زیورات سے دور رکھنا ہی بہتر ہے۔
ماہرین کے مطابق زیورات کی صفائی کے لیے نیم گرم پانی اور ہلکے ڈش واشنگ لیکویڈ کا استعمال نسبتاً محفوظ طریقہ ہوسکتا ہے، تاہم قیمتی، نازک یا قیمتی پتھروں سے مزین زیورات کی صفائی کے لیے بہتر ہے کہ کسی ماہر جیولر یا پروفیشنل سے صفائی کروائی جائے تاکہ زیورات کی چمک اور معیار دونوں برقرار رہیں۔
چوہا قیمتی ہیروں سے مزین زیورات لے اُڑا!
