• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 8:14 شام
  • پاکستان

فرانس میں طلبا اساتذہ کی کمی، زیادہ تعلیمی اوقات، خستہ حال کلاسیں اور ناموزوں اسکول عمارتوں کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں

فرانس میں اسکولوں کے خراب حالات کے خلاف جاری طلبہ احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے داغا گیا دستی بم اٹھانے والے 15 سالہ طالب علم کا ہاتھ دھماکے سے اڑ گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق واقعہ پیر کو شمالی شہر لینس میں پیش آیا جہاں طالب علم نے مبینہ طور پر ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کے لیے پولیس کی جانب سے پھینکا گیا دستی بم اٹھایا تھا۔

پولیس یونین کے ایک ذریعے نے بتایا کہ یہ ایسا دستی بم تھا جس کا مقصد ہجوم کو منتشر کرنا تھا تاہم وہ سڑک پر گرنے کے بعد پھٹ نہیں سکا تھا اور جیسے اُسے ایک طالبعلم نے اُٹھایا بم اس کے ہاتھ میں پھٹ گیا۔

یاد رہے کہ فرانس بھر میں طلبا ستمبر کے آخر سے احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین اساتذہ کی کمی، ضرورت سے زیادہ تعلیمی اوقات، خستہ حال کلاس رومز اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے لیے ناموزوں اسکول عمارتوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

وزارت تعلیم کے مطابق پیر کی صبح ملک کے 3 ہزار 700 ہائی اسکولوں میں سے 400 سے زائد جزوی یا مکمل طور پر بند رہے۔ دارالحکومت پیرس کے اطراف میں 468 اسکولوں میں سے تقریباً ایک تہائی کے بند رہنے کی توقع تھی۔

شمالی شہر میں نقاب پوش مظاہرین نے بس اسٹاپ تباہ کیے اور کچرے کے ڈبوں کو آگ لگا دی جس پر پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔ دیگر شہروں میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

پولیس حکام نے بتایا کہ احتجاج کے دوران اب تک 24 اسکولوں کو نقصان پہنچا یا انھیں نذرآتش کیا جاچکا ہے جبکہ 5 ہزار سے زائد افراد گرفتار ہوئے جن میں 85 فیصد کی عمریں 14 سال سے کم ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے