• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 11:12 صبح
  • پاکستان

دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟

ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا

سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری

میری بیوی بچے کہاں ہیں؟ ڈیڑھ سالہ ٹیٹو سنگھ کی کہانی کا اصل راز کیا ہے؟

پیرس: فرانس میں طلبہ کے احتجاج کے باعث آج 500 اسکول بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

فرانس کے وزیر تعلیم ایدوار گیفرے نے اتوار کو پولیس اور طلبہ مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد آج پیر کے روز سیکیورٹی کے پیش نظر اسکولوں کی بندش کا فیصلہ کیا۔

فرانس کے وزیرِ تعلیم نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پولیس اور طلبہ مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد پیر کو ملک بھر میں 500 تک اسکول جزوی یا مکمل طور پر بند رہیں گے، انھوں نے کہا کہ تقریباً 400 سے 500 ہائی اسکولوں میں کلاسیں ’’مکمل یا جزوی طور پر معطل‘‘ رہیں گی، کیوں کہ وہاں سیکیورٹی کی شرائط پوری نہیں ہوئیں۔

روئٹرز کے مطابق فرانس میں طلبہ خراب تعلیمی نظام، اساتذہ کی کمی اور داخلہ پالیسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج گزشتہ ماہ پیرس میں شروع ہوا تھا، تاہم اب مون پلیے، نانت اور مارسیلے سمیت ملک کے دیگر شہروں تک پھیل گیا ہے، اور بعض مقامات پر صورت حال نہایت کشیدہ ہے۔ اب تک فرانسیسی پولیس کی جنب سے 5000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ وزیرِ تعلیم کے مطابق طلبہ احتجاج شروع ہونے کے بعد سے 24 اسکولوں کو آگ لگا دی گئی یا انھیں شدید نقصان پہنچا ہے۔

نرسنگ طلبہ کا انگلش لٹریچر کا پرچہ ری شیڈول کرنے کا مطالبہ، ڈاؤ یونیورسٹی مرکزی گیٹ پر دھرنا

مظاہرین اساتذہ کی کمی، کلاس رومز میں حد سے زیادہ طلبہ کی تعداد اور اسکولوں کی بگڑتی ہوئی عمارتوں اور سہولیات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ وزیرِ انصاف کے مطابق ملک کے تقریباً 3,700 اسکولوں میں سے 735 کسی نہ کسی صورت میں ان احتجاجی مظاہروں سے متاثر ہوئے ہیں۔

وزیرِ تعلیم نے بائیں بازو کے انتہائی نظریات رکھنے والے کارکنوں پر الزام عائد کیا کہ وہ طلبہ کی تحریک میں شامل ہو گئے ہیں اور پرتشدد واقعات میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان ہنگاموں کے دوران تعلیم کے شعبے سے وابستہ 78 کارکن زخمی ہوئے ہیں اور کہا کہ زخمی ہونے والوں کی یہ تعداد غیر معمولی ہے۔

فرانسیسی حکام کے مطابق جمعے کو پولیس نے مختلف مقامات پر مظاہرین کا سامنا کیا اور 1,747 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اے ایف پی کے مطابق تحریک شروع ہونے کے بعد سے مجموعی طور پر پانچ ہزار سے زیادہ افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں، جن میں تقریباً 85 فی صد نابالغ ہیں۔

مظاہروں کے منتظمین نے حکومت پر مطلوبہ ٹھوس اقدامات نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے منگل کو بھی احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ جب کہ وزیر اعظم سیباسٹیاں لوکورنو نے کہا ہے کہ حکومت طلبہ اور شعبۂ تعلیم سے وابستہ کارکنوں کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات دور کرنے کے لیے مزید اقدامات کر رہی ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے