حکومت بلکہ ریاست پاکستان کی خیبر پختونخوا کے سلسلے میں جو فکر مندی ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے۔
خیبر پختونخوا کا مسئلہ کیا پی ٹی آئی ہے، اس کی حکومت ہے یا لانگ مارچ؟ ذرائع ابلاغ کے مباحث سے یہی لگتا ہے لیکن تصویر کا ایک رخ اور بھی ہے۔ یہ وہی رخ ہے جس کا تعلق پاکستان کے خلاف بیرونی جارحیت سے ہے۔ جارحیت کی یہ شکل گزشتہ برس مئی میں بھارت کی ننگی جارحیت کی صورت میں ہو یا بھارت افغانستان اسرائیل( آئی آئی اے) تگڑم کی صورت میں۔
اس جارحیت کی ایک صورت ٹی ٹی پی کے ذریعے کھلی دہشت گردی کی ہے۔ یہ کیسی دہشت گردی ہے؟ اہل پاکستان کے لیے یہ اجنبی نہیں۔ اس دہشت گردی کی ایک شکل عوام اور سیکیورٹی فورسز پر حملے ہیں۔ اس کے علاوہ عبادت گاہوں، مزارات، تعلیمی ادارے اور ثقافتی مراکز ان کا ہدف ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں بتایا ہے کہ اب تک اس میں ایک لاکھ سے زاید پاکستانی شہید ہو چکے ہیں جب کہ مالی نقصانات الگ ہیں۔
افغانستان کی سرزمین سے شروع ہونے والی دہشت گردی اپنی جگہ ایک اہم مسئلہ ہے لیکن اس کے ساتھ افغانستان کی غیر نمایندہ عبوری انتظامیہ کی فوج یعنی افغان طالبان کی طرف سے براہ راست حملے بھی شروع ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں نئی ٹیکنالوجی یعنی ڈرون حملے بھی شامل ہو گئے ہیں۔ یہ حملے ابھی تک ناکام ہیں لیکن ایک بڑا اور یقینی خطرہ تو ہیں۔ ایسے حملوں کی صورت میں کسی وقت بھی کوئی بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔دہشت گردی کی تیسری شکل پاکستان سے افغانستان کی طرف اسمگلنگ تھی جس میں زر مبادلہ خاص طور پر امریکی ڈالر ، غذائی اجناس اور دیگر اشیائے ضرورت شامل ہیں۔
اقتصادی دہشت گردی نے بھی پاکستانی معیشت کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ حکومت پاکستان کے فیصلے کے تحت مسلح افواج نے اسمگلنگ پر قابو پا لیا تو اب اس کی ایک نئی اور خطرناک صورت شروع ہو گئی ہے۔ یہ ہے خیبر پختونخوا سے نکلنے والی قیمتی معدنیات کی خیبر پختونخوا سے افغانستان اسمگلنگ۔ ان اشیا میں سونے جیسی قیمتی دھاتیں اور ٹمبر بھی شامل ہیں۔ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی پریس کانفرنس میں بھی اس کی بازگشت سنائی دی گئی۔
سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں ایسی باتوں کو عام طور پر زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی لیکن اس قسم کے واقعات کی کچھ خبریں میرے علم میں پہلے سے تھیں لیکن پریس کانفرنس کے بعد یہ اطلاعات یقین میں بدل گئیں۔ یہی سبب تھا کہ ایک ملاقات میں اس معاملے کے بارے میں ، میں نے جناب عطا اللہ تارڑ سے بھی سوال کر لیا۔ ویسے ان سے میں نے کہا تو یہی تھا کہ سیاسی فضا پہلے ہی مکدر ہے، اس قسم کے الزامات لگا کر آپ اس تکدر میں اضافہ کیوں کرتے ہیں؟
میرا سوال سن کر عطا اللہ تارڑ کے چہرے پر فکر مندی کے آثار نمایاں ہوئے پھر انھوں نے انکشاف کیا کہ اسمگلنگ کی اس تازہ شکل کے نہ صرف روٹ پکڑ لیے گئے ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر ہو گیا ہے کہ اس دھندے میں کون کون ملوث ہے اور ان کے ڈانڈے ہمارے یہاں کس کس سے ملتے ہیں۔ اس تمام نیٹ ورک کو نشان زد کر کے اس کے خلاف جال کس دیا گیا ہے۔
دہشت گردی اور معدنیات و ٹمبر کی اسمگلنگ کی روک تھام کے سلسلے میں سیکیورٹی فورسز اور وفاقی اداروں کے علاوہ صوبائی حکومت کا کردار بنیادی ہے۔ وفاقی اور سیکیورٹی فورسز نے جب بھی ان خطرناک گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے قدم اٹھایا، صوبائی حکومت رکاوٹ بن گئی۔ اس طرح اس معاملے کے بارے میں تحقیقات کا ایک نیا رخ سامنے آیا۔ اس پہلو سے تحقیقات جیسے جیسے آگے بڑھتی گئیں، ناقابل یقین حقائق سامنے آتے گئے۔
اطلاعات یہ ہیں کہ سہیل آفریدی کی دوڑ بھاگ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تحقیقات کے اس سلسلے کو رکوا دیا جائے۔ سہیل آفریدی نے اس ضمن میں سرگرمی تو بہت دکھائی لیکن خود اپنی جماعت کے اندر بھی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
حکومت بلکہ ریاست پاکستان کی خیبر پختونخوا کے سلسلے میں جو فکر مندی ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے۔ جرم کو جب سیاست اور حکومت کے ایوانوں سے کسی نہ کسی شکل میں حمایت ملتی ہے تو اس کی وجہ سے قومی سلامتی خطرے سے دوچار ہو جاتی ہے۔ یوں ریاست سہ مکھی لڑائی لڑنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ ریاست ٹی ٹی پی سے لڑ رہی ہے، ریاست کو افغان طالبان سے لڑنا پڑ رہا ہے۔ ان دونوں لڑائیوں میں ریاست کو صوبے سے تعاون کے بہ جائے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس پر مستزاد اسمگلنگ کی نئی شکل۔ یہ تمام مسائل اپنی جگہ موجود تھے لیکن صوبائی حکومت نے پولیس آرڈر کو بدلنے کی کوشش بھی شروع کر دی۔ اتنے بڑے بڑے مسائل کے ہوتے ہوئے اگر پولیس وزیر اعلیٰ کی تابع مہمل بن جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں مجرموں پر ہاتھ ڈالنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ یوں سہیل آفریدی اور ان کی ٹیم نے ' کمال دانش مندی' سے دہشت گردی اور جرم کو صوبائی حکومت اور اپنے سیاسی گروہ کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔
ایسی صورت حال میں وفاق کو کیا کرنا چاہیے اور وہ کیا کر سکتا ہے، یہی سوال ان دنوں قومی سطح پر زیر بحث رہا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کی ملاقات کا پس منظر بھی یہی تھا۔ ملاقات میں قانونی ماہرین خاص طور پر اٹارنی جنرل کی شرکت کا مطلب بھی یہی ہے۔ حکومت اور ریاست کے سامنے کئی آپشن موجود ہیں لیکن وہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے حتی الامکان بچنا چاہتی ہے۔
اسی لیے حکومت نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے کمیٹی قائم کی جس نے اس کی پارلیمانی قیادت سے فوری طور پر رابطہ کر لیا۔ جواب میں پی ٹی آئی نے بھی محتاط گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس جماعت کی سمجھ دار قیادت بھی اس خطرناک صورت حال کو ڈی فیوز کرنا چاہتی تھی لیکن اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ چند روز قبل بیرسٹر علی گوہر کی عمران خان سے ملاقات کرائی گئی تھی جس میں انھوں نے حالات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کچھ تجاویز پیش کی تھیں جس پر عمران خان نے ان کے خوب لتے لیے، یوں حالات کو بہتر کرنے کی ایک اہم کوشش ناکام ہو گئی۔
اس پس منظر سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے بانی کی تائید کے بغیر مذاکرات پر آمادہ کیوں ہوئی۔ یہ لوگ بھی چاہتے تھے کہ بگڑے ہوئے معاملات مزید نہ بگڑیں ۔ یہی سبب ہے کہ ان سطروں کے لکھے جانے تک مذاکرات کی کام یابی کے امکانات روشن ہو رہے تھے اور پی ٹی آئی نے دہشت گردی کے خلاف اپنے سابقہ مؤقف سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے بھرپور تعاون کا وعدہ کیا۔یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو ایک یقینی بحران کو ٹال سکتا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کا معاملہ عدالتوں پر چھوڑنے کی اطلاع ہے۔ممکن ہے کہ مذاکراتی کمیٹی کسی معاہدے پر دستخط کر دے لیکن اس کے باوجود یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ ایک ویٹو اڈیالہ میں موجود ہے جو بنی بنائی بات کو بگاڑ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ معاملہ بگاڑنے والے کو اس بار ہدایت دے۔
