• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 2:45 صبح
  • پاکستان

26 دسمبر 2004 کی صبح تھائی لینڈ کے ساحل پر ایک بچی کھیل رہی تھی، اس بچی کا نام ٹیلی اسمتھ تھا،وہ صرف دس سال کی تھی۔

26 دسمبر 2004 کی صبح تھائی لینڈ کے ساحل پر ایک بچی کھیل رہی تھی، اس بچی کا نام ٹیلی اسمتھ تھا،وہ صرف دس سال کی تھی۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ تھائی لینڈ کے ایک شہر میں چھٹیاں گزار رہی تھی اور پکنک منانے ساحل پر موجود تھی۔ اچانک اس نے سمندر میں ایک عجیب تبدیلی محسوس کی اور اس نے دیکھا کہ پانی کا رویہ معمول کے مطابق نہیں ہے۔ سمندر غیر معمولی انداز میں پیچھے ہٹ رہا تھا۔

عام سیاحوں کے لیے یہ ایک عجیب اور دلچسپ منظر تھا، لیکن اس بچی کے لیے یہ منظر ایک خطرناک سبق کی یاد دہانی تھا۔ اس نے اپنی اسکول کی جغرافیہ کی کلاس میں تقریباً دو ہفتے پہلے سونامی کے بارے میں پڑھا تھا۔ استاد نے اسے بتایا تھا کہ بعض اوقات سونامی آنے سے پہلے سمندر اچانک پیچھے ہٹ جاتا ہے اور ساحل کا وہ حصہ نمایاں ہونے لگتا ہے جو عام طور پر پانی کے نیچے ہوتا ہے۔

بچی دیکھ رہی تھی کہ استاد کا بتایا ہوا وہی منظر اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔بچی نے فوراً اپنی والدہ کو بتایا کہ یہ سونامی کی علامت لگتی ہے۔ اس کی والدہ نے ابتدا میں اس بات کو نہیں سمجھا۔ ماں کا خیال تھا کہ آخر ایک دس سالہ بچی کو کیسے معلوم ہو سکتاہے کہ وہ سمندر کے رویے کو اور آنے والی تبدیلی کو پہلے سے سمجھ گئی ہے جب کہ وہاں موجود بڑے بڑے لوگ بے خبر کھڑے ہیں؟ لیکن بچی اپنی بات بار بار دہراتی رہی اور کہتی رہی کہ اس کے استاد نے جو پڑھایا ہے، وہ غلط نہیں ہو سکتا۔

آخرکار بچی کے والدین نے اس کی بات کو سنجیدگی سے لیا اور ہوٹل کے عملے کو خبردار کیا۔ حفاظتی عملے نے ساحل خالی کروانا شروع کر دیا۔ لوگوں کو ساحل سے دور اور نسبتاً محفوظ مقام کی طرف لے جایا گیا۔پھر وہی ہوا۔ سمندر کی وہ غیر معمولی حرکت ایک تباہ کن سونامی کی پیشگی علامت ثابت ہوئی۔ ایک قیامت برپا ہوئی، سونامی سے نہ جانے کتنی جانیں چلی گئیں، مگر ایک استاد کے دیے ہوئے سبق نے اور اس سبق کو سمجھنے والی اس بچی نے تقریباً سو افراد کی جانیں بچا لیں۔یہ بچی کوئی ماہر ِ ارضیات نہیں تھی، اس کے پاس کوئی سائنسی آلہ نہیں تھا۔

اس کے پاس کوئی سونامی وارننگ سسٹم نہیں تھا۔ اس کے پاس صرف ایک استاد کا دیا ہوا علم تھا اور اس نے صحیح وقت پر اس علم کو استعمال کیا۔ اس بچی کی کہانی صرف سونامی کی کہانی نہیں ہے۔ یہ تعلیم اور ایک استاد کی طاقت کی کہانی ہے، کیونکہ بچی کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا، اس کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا، وہ کسی ادارے کی سربراہ نہیں تھی، وہ صرف دس سال کی طالبہ تھی۔

اس نے جو کچھ کلاس روم میں سیکھا تھا، اسے محض امتحان کے لیے یاد نہیں کیا تھا۔ اس نے اسے زندگی کے لیے محفوظ کر لیا تھا۔اقوامِ متحدہ کے مطابق، بچی کے اس اقدام کے نتیجے میں سو سے زیادہ افراد محفوظ مقام تک پہنچ گئے۔سوچیے، اگر بچی نے اپنی کلاس میں سونامی کے بارے میں پڑھا ہی نہ ہوتا تو؟ شاید وہ بھی دوسرے سیاحوں کی طرح سمندر کے پیچھے ہٹنے کو ایک عجیب اور خوب صورت منظر سمجھتی۔ شاید وہ بھی سیپیاں وغیرہ دیکھنے کے لیے آگے بڑھ جاتی۔ شاید اس کے والدین بھی اسے ایک معمولی قدرتی تبدیلی سمجھتے، لیکن ایک استاد کے سبق نے اس کی آنکھوں کو وہ چیز دکھا دی جو دوسروں کو نظر نہیں آ رہی تھی، یہی تعلیم کی اصل طاقت ہے۔

یہیں سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ ایک استاد کا کیا مقام ہوتا ہے، وہ کسی معاشرے کے لیے کس قدر اہم ہوتا ہے اور وہ کسی معاشرے کے لیے کتنا اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے اور ہمارے ملک کو ایسے ہی اساتذہ کی ضرورت ہے، مگر افسوس ایسے اساتذہ کی تعداد کم ہو رہی ہے اور ایسے شاگردوں کی بھی تعداد کم ہو رہی ہے جو اپنے استاد کو اتنی عزت اور احترام کے ساتھ سنیں، ان کی کہی ہوئی باتوں کو اپنے لیے قیمتی تحفہ سمجھیں، اپنے استاد کو سمجھیں اور ان سے اپنا مستقبل بہتر بنائیں۔

آج یہ ایک اہم مسئلہ ہے کہ ایسے استاد کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں سوچنے کا مقام یہ بھی ہے کہ ایسے استاد کم کیوں ہو رہے ہیں؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کو پہلے کی طرح عزت نہیں دے رہے، انھیں پہلے کی طرح مقام نہیں دے رہے؟ کیا ہم انھیں اتنی بھی اجرت نہیں دے رہے کہ وہ سکون کے ساتھ اپنا سارا دھیان طلبہ کی تدریس پر دے سکیں؟ ہم استاد کو کیا دے رہے ہیں؟ یہ ہم سب کو سوچنا چاہیے، خاص طور پر حکمرانوں کو۔ جن اساتذہ کو اپنا حق مانگنے کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، ان کی بات سننے کے بجائے انھیں سڑکوں پر گھسیٹا جاتا ہے، جس سے ان کی رہی سہی عزت و وقار بھی مجروح ہو جاتا ہے۔ایسے میں ایک استاد کا اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔

ایسے ماحول میں وہ کس اعتماد کے ساتھ کھڑے ہو کر تعلیم دے سکتا ہے؟ یہ بھی قابل غور سوال ہے۔ یقینا آج کے دور میں اساتذہ کا معیار اور کارکردگی پہلے جیسی نہیں رہی، لیکن سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس ضمن میں اساتذہ کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ کیا جو کچھ ہم ان کے لیے کر رہے ہیں، اس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور ان میں تدریس کی جستجو اور لگن میں اضافہ ہوگا یا وہ محض نوکری سمجھ کر اپنے گھر کا چولہا چلانے کے لیے مزید ذرائع تلاش کرنے کی کھوج میں لگے رہیں گے؟ مجھے ماضی کے وہ منظر بھی یاد ہیں کہ جب ہمارا کوئی استاد سائیکل پر اسکول پہنچتا تھا اور وہ استاد ان طلبہ کو بھی کان پکڑ کر سزا دیتا تھا جو طلبہ اپنے اسکول کسی سائیکل پر نہیں بلکہ چمکتی گاڑی میں آتے تھے۔اس وقت ایک استاد سائیکل پر آنے کے باوجود معاشرے میں ایک مقام رکھتا تھا۔

اس کی ایک عزت تھی، چھوٹے بڑے سب اس کو عزت دیتے تھے، چنانچہ وہ اپنے شاگردوں کو بہت کچھ دے جاتا تھا۔ لیکن آج کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ایک استاد کو معاشی طور پر تو کمزور کر ہی دیا ہے، مگر اس کی عزت اور مقام بھی ختم کر دیا ہے۔کسی استاد کے لیے عزت اور مقام پہلی چیز ہوتی ہے، اگر آج بھی استاد کو وہی عزت اور مقام دیا جائے تو وہ باوجود غربت یا معاشی تنگ دستی کے، ایک اچھا کردار ادا کر سکتا ہے،مگر مسئلہ یہ ہے کہ معاشی اعتبار سے استاد کو مضبوط اور بے فکر تو کیا کرتے، ہم اس کے احتجاج کرنے پر اس کی بات بھی نہیں سنتے اور سڑکوں پر اسے گھسیٹتے ہیں۔ایسے ماحول میں استاد اپنے شاگردوں کو اور اس معاشرے کو کیا دے سکتا ہے؟آئیے غور کریں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے