صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول امریکی افواج وکٹری یعنی کامیابی کے بعد سرخرو لوٹی ہیں
امریکا ایران جنگ کے شور اور شعلوں میں یہ خبر ثانوی سی بن کر رہ گئی۔ گزشتہ ہفتے 23 سال بعد بالآخر آخری امریکی فوجی عراق کی سرزمین سے نکل گیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس 23 سالہ خون آشام عرصے نے دنیا، امریکا اور خود عراقی عوام کو کیا دیا؟
اس خونیں عذاب کا آغاز 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد ہوا۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے یہ ہولناک الزام لگایا کہ صدام حسین کے پاس کیمیائی اور حیاتیاتی ’’تباہ کن ہتھیار‘‘ (WMDs) موجود ہیں جو دنیا کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں ( امریکا ایران جنگ کی کہانی میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا الزام ہے) جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس تھے اور وقت نے ثابت بھی کیا۔ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں، ہانس بلکس اور محمد البرادعی نے بار بار واضح کیا کہ انھیں عراق میں کسی قسم کے ایٹمی پروگرام یا کیمیائی ہتھیاروں کے ثبوت نہیں ملے۔
امریکی وزیرِ خارجہ کولین پاول نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جعلی تصاویر اور آڈیو ٹیپس کے ذریعے ان الزامات کی سچائی کا ڈھنڈورا پیٹا، جسے بعد میں خود انھوں نے اپنی زندگی کا ’’بدنما داغ‘‘ تسلیم کیا۔ دوسری طرف برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اپنی پارلیمنٹ میں ایک ’’ڈوزیئر‘‘ پیش کیا، دعویٰ کیا گیا کہ صدام حسین صرف 40 منٹ کے نوٹس پر اپنے ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔
تاہم کولین پاول کے بعدازوقت اعتراف اور برطانوی جھوٹ کا پول کھلنے کے باوجود ان دونوں طاقتوں میں سے کسی نے بھی شرمندگی کا اظہار کیا نہ اظہار تاسف، اس جنگ کے نتیجے میں ہونے والی تباہی پر شرمندگی یا معافی تلافی تو دور کی بات ہے!
مارچ 2003ء میں بغداد پر قبضہ کرنے کے بعد امریکی انتظامیہ کے دو فیصلوں نے عراقی ریاست کا پورا ڈھانچہ تباہ کر دیا۔ بعث پارٹی پر پابندی لگا کر ہزاروں تجربہ کار سول سرونٹس کو نکال دیا گیا اور 4 لاکھ اہلکاروں پر مشتمل عراقی فوج کو یکدم تحلیل کر دیا گیا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں اچانک ایک ایسا سیاسی اور سیکیورٹی خلا پیدا ہوا جس کا خمیازہ پورے خطے کو بھگتنا پڑا۔ اس کے بعد جو تباہی آئی، وہ انسانی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔
براؤن یونیورسٹی کے ’’Costs of War‘‘ پروجیکٹ کے مطابق، براہِ راست جنگی تشدد اور بمباری سے 2 لاکھ سے 3 لاکھ کے قریب عام عراقی شہری ہلاک ہوئے۔ بیماریوں اور تباہ حال نظامِ صحت کے باعث مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ان پر تشدد اور تذلیل کی تصاویر اور کہانیاں سامنے آئیں تو انسانیت شرمندہ ہوگئی۔ سیکیورٹی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں القاعدہ نے پاؤں جمائے جو آگے چل کر داعش (ISIS) کی صورت میں متشکل ہوئی۔
اس تنظیم نے 2014ء میں عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر کے ناگفتہ بہ اور ناقابل یقین مظالم ڈھائے۔ عراق کی تباہی میں اگر کوئی کسر رہ گئی تھی تو اس تنظیم نے پوری کر دی۔ اس کے بعد ایک اور خون آلود، تباہ کن دور شروع ہوا جس کے بعد کہیں جا کر عراق میں ’’امن‘‘ کو پاؤں دھرنے کا موقع ملا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول امریکی افواج وکٹری یعنی کامیابی کے بعد سرخرو لوٹی ہیں۔ بظاہر تو امریکا یہ جنگ ہار گیا، نہ تو وہاں WMDs ملے اور نہ ہی وہاں کوئی مستحکم جمہوریت قائم ہو سکی لیکن اگر اس جنگ کو امریکا کی عالمی اسٹریٹجی کے طور پر دیکھیں تو تصویر بالکل مختلف ہے۔
بہت سے ناقدین کے بقول دراصل یہ جنگ امریکا کی ’’وار اکانومی‘‘ (War Economy) اور وسائل پر کنٹرول کا ایک حصہ تھی۔ ظاہری اسباب سے ہی وہ بیانیہ بنایا گیا جس کی بنیاد پر اس نے یہ جنگ شروع کی جس کے ذریعے امریکا کے ’’ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس‘‘ اور نجی سیکیورٹی کمپنیوں نے کھربوں ڈالر کا منافع کمایا جبکہ حکومتی سطح پر عراقی تیل کے بل بوتے پر پیٹرو ڈالر (Petrodollar) کے نظام، عالمی توانائی کی قیمتوں پر امریکی گرفت اور مشرق وسطیٰ میں امریکا کی سیکیورٹی گاڈ فادر کے طور پر موجودگی کی صورت امریکا اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام نہیں رہا۔
رہا عراق اور مشرق وسطیٰ، تو عراق کی منظم ریاست کی توڑپھوڑ سے مشرقِ وسطیٰ میں ’’طاقت کا توازن‘‘ تباہ ہو گیا جس کے بعد پورے خطے میں یکے بعد دیگرے تباہی کے بادل چھا گئے۔ 2011ء میں ’’عرب بہار‘‘ کے نام سے عوامی غم و غصے کا لاوا پھٹا تو اس نے تیونس سے لے کر مصر تک دہائیوں سے قائم حکومتوں کی جڑیں ہلا دیں۔
تیونس میں بن علی اور مصر میں حسنی مبارک کے اقتدار کا خاتمہ دیکھ کر خلیج کی عرب بادشاہتیں اپنے وجود کے خوف میں مبتلا ہو گئیں۔ اس خوف نے خلیجی حکمرانوں کو مکمل طور پر واشنگٹن کی پناہ میں جانے پر مجبور کر دیا۔
امریکا نے اس عوامی بے چینی اور عرب بادشاہتوں کے خوف کو بڑی مہارت سے اپنے معاشی اور اسٹریٹجک مفاد کے لیے استعمال کیا۔ خلیجی ممالک کو یہ باور کرایا گیا کہ بیرونی سیکیورٹی اور اندرونی انقلابات سے بچاؤ کا واحد راستہ امریکی چھتری ہے۔ نتیجے کے طور پر خلیجی ریاستوں نے امریکا سے سیکڑوں ارب ڈالرز کے جدید ترین امریکی اسلحے کے معاہدے کیے، اپنے ہاں امریکی عسکری اڈے قائم کرنے کی اجازت دی اور اپنی سیکیورٹی کو واشنگٹن کے سپرد کر دیا۔
عراق سے امریکی انخلاء کے موقع پر مشرقِ وسطیٰ ایک نئی امریکا عراق جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔ ماضی کے اندیشے، اتحاد اور وعدے جنگ کے شعلوں سے نئی شکل میں جنم لے رہے ہیں۔ بالکل نیا سیکیورٹی پیراڈایم تشکیل پا رہا ہے۔ سیکیورٹی چھتری اور سیکیورٹی گارنٹیوں کا امریکی ماڈل ہدف سے قبل ہی زمین بوس ہونے والے ڈرون کے ملبے کی طرح عبرت کا نشان بن چکا ہے۔
سدا بہار جنگوں کا دور ختم ہو چکا یا کسی نئی صورت میں مسلط ہوگا؟ مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی کے پرانے مفروضے ہوا ہو جانے کے بعد نئے سیکیورٹی اتحاد کیا صورت اختیار کریں گے؟ خطے کے ممالک صدیوں پرانی دشمنیاں بھول پائیں گے اور ایک دوسرے کو برداشت کر کے نئے سفر کا سامان باندھ سکیں گے؟ یا پھر گریٹر اسرائیل کے نئے فیز کا دور اپنا کھیل کھل کر کھیلے گا؟ مستقبل اندیشوں سے اَٹا پڑا ہے۔
