• اکتوبر 2, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 2, 2026 3:38 صبح
  • پاکستان

پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ اس لیے بھی اہم ہے کہ اسے رسمی صدارت کے بجائے عملی تعاون کے موقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے

کبھی کبھی تاریخ کے بڑے دروازے کسی عظیم الشان معاہدے سے نہیں بلکہ ایک معمولی سی ملاقات، چند خوش گوار جملوں اور برسوں بعد دوبارہ قائم ہونے والے رابطے سے کھلتے ہیں۔ سفارت کاری کی دنیا میں ایسے لمحات بظاہر مختصر ہوتے ہیں، مگر ان کے اندر امکانات کی ایک طویل راہ پوشیدہ ہوتی ہے۔

اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے قومی رابطہ کاروں کے اجلاس کے موقع پر پاکستانی اور بھارتی وفود کے درمیان پیدا ہونے والا نسبتاً خوش گوار ماحول بھی اسی نوعیت کا ایک لمحہ ہے۔ دو برس کے وقفے کے بعد کسی بھارتی وفد کی پاکستان آمد محض ایک انتظامی سرگرمی نہیں، بلکہ ایسے وقت میں رابطے کی بحالی کا اشارہ ہے جب دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات طویل عرصے سے سیاسی بداعتمادی اور سفارتی تعطل کے حصار میں ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی جتنی پرانی ہے، اتنی ہی پرانی یہ حقیقت بھی ہے کہ جغرافیہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ ہونے نہیں دیتا۔ سرحدیں سیاسی فیصلوں سے کھینچی جا سکتی ہیں، مگر دریا، پہاڑ، موسم، منڈیاں، تہذیبی اثرات اور انسانی رشتے کسی نقشے کی لکیر کے پابند نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب دو ہمسایہ ریاستوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا راستہ بند ہو جائے تو بھی کثیرالجہتی اداروں کے اجلاس انھیں ایک میز کے گرد لا کھڑا کرتے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا فورم اسی اعتبار سے اہم ہے کہ یہاں باہمی اختلافات کو نظرانداز کیے بغیر مشترکہ مفادات پر گفتگو کی گنجائش موجود رہتی ہے۔

اسلام آباد میں 28 سے 30 ستمبر تک ہونے والے قومی رابطہ کاروں کے اجلاس میں تنظیم کے آیندہ پروگراموں، رابطہ کاری، تجارت، ٹرانزٹ اور علاقائی تعاون جیسے موضوعات پر غور کیا گیا۔ پاکستان اس وقت ایس سی او کی سربراہی کر رہا ہے اور اس کی ترجیح ’’ویژن کو عملی اقدام میں تبدیل کرنا، رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوش حالی‘‘ قرار دی گئی ہے۔ اس ترجیح میں دراصل اس پورے خطے کے مستقبل کا ایک اہم سوال پوشیدہ ہے کہ کیا ایشیا کے ممالک سیاسی اختلافات کے باوجود اقتصادی، تجارتی، ثقافتی اور سفارتی تعاون کے ایسے راستے پیدا کر سکتے ہیں جو خطے کو مسلسل محاذ آرائی کے بجائے مشترکہ ترقی کی طرف لے جائیں؟ اگر اس سوال کا جواب اثبات میں تلاش کرنا ہے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان رابطوں کی بحالی کو بھی اسی وسیع تر تناظر میں دیکھنا ہوگا۔

بھارتی ایس سی او قومی رابطہ کار آلوک دیمری کا یہ کہنا کہ پاکستان کا پہلا دورہ کرکے انھیں خوشی ہوئی اور وہ لاہور، سیالکوٹ اور فیصل آباد بھی دیکھنے کے خواہش مند ہیں، بظاہر ایک معمولی سفارتی بیان معلوم ہو سکتا ہے، مگر عوامی سطح پر رابطے کی اہمیت کو سمجھنے والوں کے لیے اس میں ایک مختلف پہلو موجود ہے۔ ریاستی تعلقات اکثر بیانات، مذاکرات اور معاہدوں کی زبان میں بیان ہوتے ہیں، جب کہ عوام ایک دوسرے کو شہروں، بازاروں، ثقافت، کھیل، ادب اور انسانی تجربات کے ذریعے جانتے ہیں۔ لاہور، سیالکوٹ اور فیصل آباد کا ذکر اس اعتبار سے محض سیاحتی خواہش نہیں بلکہ پاکستان کے شہری اور معاشی منظرنامے کو براہِ راست دیکھنے کی ایک خواہش بھی ہے۔

سیالکوٹ کی صنعت، فیصل آباد کی ٹیکسٹائل معیشت اور لاہور کی تہذیبی شناخت اپنے اندر اس خطے کے باہمی معاشی و ثقافتی رشتوں کی کئی پرتیں سموئے ہوئے ہیں۔یہاں یہ فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ خوش گوار سفارتی ماحول کو فوری طور پر سیاسی مفاہمت کا مترادف قرار دینا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعات اپنی جگہ موجود ہیں اور تقریباً ایک دہائی سے دوطرفہ مذاکرات کا باقاعدہ سلسلہ تعطل کا شکار ہے۔ ایسے میں ایس سی او کے اجلاس میں ہونے والی ملاقاتیں کسی بڑے دوطرفہ معاہدے کا متبادل نہیں۔ تاہم سفارت کاری کا ایک بنیادی اصول یہ بھی ہے کہ مذاکرات کے لیے راستہ موجود رہے۔ رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو جائے تو اختلافات کے حل کے امکانات مزید محدود ہو جاتے ہیں، جب کہ محدود اور ادارہ جاتی رابطے کم از کم اس امکان کو زندہ رکھتے ہیں کہ مستقبل میں زیادہ مشکل معاملات پر بات چیت کی کوئی کھڑکی کھولی جا سکے۔

پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ اس لیے بھی اہم ہے کہ اسے رسمی صدارت کے بجائے عملی تعاون کے موقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی سرگرمیوں میں صرف اجلاس اور سفارتی گفتگو شامل نہیں رہی بلکہ وفود نے پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کا دورہ کیا، نصیر بندہ ہاکی اسٹیڈیم میں ایس سی او ہاکی ٹورنامنٹ کی تیاریوں کا جائزہ لیا اور پاکستانی ثقافت و کھیل سے آگاہی حاصل کی۔ یہ سرگرمیاں سفارت کاری کے اس نرم پہلو کو نمایاں کرتی ہیں جو سرکاری مذاکرات کی سخت زبان سے مختلف ہوتا ہے۔ کھیل اور ثقافت میں مقابلہ ہو سکتا ہے، مگر ان شعبوں میں انسان ایک دوسرے کو حریف کے بجائے شریک کے طور پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔

20 نومبر سے 2 دسمبر 2026 تک اسلام آباد میں ہونے والا ایس سی او ہاکی ٹورنامنٹ بھی اسی سلسلے کی ایک مثال ہے۔ کھیلوں کے میدان میں رابطے اکثر ان رکاوٹوں کو عبور کر لیتے ہیں جو رسمی سیاست میں دشوار محسوس ہوتی ہیں۔ اگر خطے کے نوجوان ایک دوسرے کے ساتھ کھیل سکتے ہیں، فنون کے ذریعے ایک دوسرے کی تہذیب کو سمجھ سکتے ہیں اور کاروباری حلقے مشترکہ منڈیوں کے امکانات پر گفتگو کر سکتے ہیں تو سفارت کاری کے لیے بھی ایک نسبتاً سازگار سماجی ماحول تشکیل پا سکتا ہے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی قومی رابطہ کاروں سے ملاقات اور پاکستان کی چیئرمین شپ کی ترجیحات پر گفتگو بھی اس امر کی عکاس ہے کہ اسلام آباد ایس سی او کو محض اجلاسوں کا سلسلہ نہیں بلکہ علاقائی تعاون کے ایک فعال پلیٹ فارم کے طور پر آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ اگست 2027 میں اسلام آباد میں ہونے والا سربراہان مملکت کا اجلاس اس عمل کا زیادہ نمایاں مرحلہ ہوگا، جس میں تنظیم کے تمام رکن ممالک کے رہنماؤں کو مدعو کیا جائے گا۔ اس تناظر میں بھارتی قیادت کی ممکنہ شرکت بھی ایک اہم سفارتی موقع بن سکتی ہے، اگرچہ اس کے نتائج کا انحصار اس وقت کے علاقائی اور دوطرفہ حالات پر ہوگا۔

یہاں پاکستان کے لیے اصل امتحان بھی یہی ہے کہ وہ اپنی چیئرمین شپ کو کسی ایک ملک کے ساتھ تعلقات کے تناظر تک محدود نہ کرے۔ ایس سی او ایک کثیرالجہتی تنظیم ہے اور اس کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب رکن ممالک کے مختلف مفادات کو ایک مشترکہ ایجنڈے میں جگہ ملے۔ پاکستان کو رابطہ کاری، تجارت، توانائی، ٹرانزٹ، ڈیجیٹل تعاون، تعلیم، ثقافت اور کھیل جیسے شعبوں میں قابلِ عمل منصوبوں کو آگے بڑھانا چاہیے۔ محض اجلاسوں کی تعداد بڑھانے سے علاقائی تعاون مضبوط نہیں ہوتا، اصل اہمیت ان فیصلوں کی ہوتی ہے جو اجلاسوں کے بعد زمین پر نظر آئیں۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں سب سے بڑا مسئلہ یہی رہا ہے کہ سیاسی اختلافات نے باہمی رابطے کے تقریباً ہر راستے کو متاثر کیا۔ اس صورت حال میں کثیرالجہتی ادارے ایک طرح کا حفاظتی راستہ فراہم کرتے ہیں۔ وہاں دونوں ممالک کو اپنے بنیادی موقف برقرار رکھتے ہوئے بھی مشترکہ ایجنڈے پر بیٹھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ کوئی معمولی سفارتی سہولت نہیں، اگر اس رابطے کو مستقل مزاجی، شائستگی اور حقیقت پسندی کے ساتھ جاری رکھا جائے تو کم از کم غلط فہمیوں کے بڑھنے کی رفتار کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد میں بھارتی وفد کی آمد کو اسی محدود مگر اہم دائرے میں دیکھنا چاہیے۔ یہ نہ تو تمام اختلافات کے خاتمے کا اعلان ہے اور نہ ہی دوطرفہ مذاکرات کی فوری بحالی کی ضمانت، لیکن یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ضرور ہے کہ سفارت کاری کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ جب دو ہمسایہ ممالک ایک ہی علاقائی تنظیم میں شریک ہوں، ایک ہی میز پر بیٹھیں، تجارت و ٹرانزٹ پر گفتگو کریں، ثقافتی سرگرمیوں میں شریک ہوں اور ایک دوسرے کے شہروں کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کریں تو ان مواقع کو محتاط اور حقیقت پسندانہ انداز میں آگے بڑھانا دانش مندی ہوگی۔

جنوبی ایشیا کو مسلسل کشیدگی سے زیادہ رابطوں کی ضرورت ہے۔ اس خطے کے عوام نے طویل عرصے سے سیاسی تنازعات کی قیمت اقتصادی مواقع، روزگار، تجارت، سفری سہولت اور باہمی اعتماد کی کمی کی صورت میں ادا کی ہے، اگر شنگھائی تعاون تنظیم کا پلیٹ فارم ان رکاوٹوں کے درمیان رابطے کی ایک باریک مگر مستحکم ڈور فراہم کر سکتا ہے تو اس ڈور کو سیاسی جذبات کی تیزی سے توڑنے کے بجائے سفارتی تدبر سے مضبوط کرنا چاہیے۔ اسلام آباد کا حالیہ اجلاس اسی امکان کی ایک جھلک ہے۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب یہ جھلک مستقل رابطے میں بدلے، رابطہ عملی تعاون میں ڈھلے اور عملی تعاون بالآخر خطے میں اعتماد سازی کے وسیع تر عمل کا حصہ بن جائے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے