• اکتوبر 2, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 2, 2026 2:58 صبح
  • پاکستان

یہ سقے بڑے موجد قسم کے لوگ ہوتے ہیں، اس سقے کے سر پر سکے ایجاد کرنے کا سکہ ہے تو ایک اور جونئیر سقہ بھی بہت موجد قسم کاآدمی تھا

ان دنوں اخباروں میں کچھ ’’نظام نظام‘‘ کی باتیں ہو رہی ہیں ہم اگر کوئی دانا دانشور ہوتے ہیں تو اپنی کھوپڑی کی ’’ہانڈی‘‘میں تھوڑا فلسفے کا گھی ڈال کر سیاست کے لہسن پیاز کا بگھار اور جمہوریت کا گرم مصالحہ دے کر کوئی نظام نامی پکوان بنا کرپیش کرتے، لیکن ہم ٹھہرے عامی امی قسم کے قلم گھسیٹ ۔ جانتے ہیں کہ یہ نظام کون ہے، کہاں رہتا ہے، کہاں پایا جاتا ہے، کہاں کھاتا پیتا ہے، کہاں اٹھتا بیٹھتا ہے اورسوتا ہے کس کے ساتھ سوتا ہے یا کون اس کے ساتھ سوتا ہے اور پاتا یا کھوتا ہے ۔ہم تو صرف ایک نظام کو جانتے ہیں جو سقہ تھا اوراس نے چمڑے کے سکے ایجاد کیے تھے ، ہاں یہ پتہ ہے کہ سقے کے سکے چمڑے کے کیوں تھے اس لیے وہ سقہ تھا چمڑا کا سگا تھا، اس لیے اپنی مشک کے سکے بنا کر چلاتے تھے اوراس کی یہ ایجاد اتنی پاپولر ہوگئی کہ حکومت نے اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منظور کیا اور چلانے کو دوام بخشا لیکن وہ تو سقہ تھا اورمشک ہی اس کی روزی کا ٹھیا تھی اس لیے اس کے چمڑے کو سکے کا مقام دیا گیا ۔

لیکن زمانہ بدل گیا نہ وہ سقے رہے نہ مشک اورنہ اس کے سکے ۔ اس لیے جدید سکے ان کالانعاموں کی کھال کے بنائے جاتے ہیں جو آج کی حکومتوں اوران چٹوں بٹوں محکموں اداروں منتخب ڈاکوؤں کی روزی کے ٹھیے اورعوام کالانعام کہلاتے ہیں۔ ترقی یہ ہوئی ہے نظام سقہ کے پاس تو ایک مشک تھی جس کے سکے صرف ایک بار بنتے تھے لیکن موجودہ چمڑے کے سکے ان لاتعداد کالانعاموں کے چمڑے سے بہت کثیر الاستعمال ، کثیر التعداد اورکثیر الاوتار ہوتے ہیں کہ نہ کبھی ان میں کمی ہوتی نہ قلت نہ قحط جب چاہو کھال اتارو اورجتنی بار اتارو۔

دراصل ہمارے بابرکت باسیاست یا جمہوریت اوربا دیانت ملک میں جو کالانعام پائے جاتے ہیں اوراکثر ’’کھو‘‘ اورکھوہ بھی جاتے ہیں۔ وہ عجیب تو ہیں لیکن غربت بالکل نہیں، کیوں کہ جن کی کھال اتنی قیمتی ہوتی ہے کہ حکومت کے سارے چٹے بٹے انھیں روزانہ اتارتے ہیں اور ان کی جگہ پھر نئی نویلی کھال اگ آتی ہے بلکہ دن میں کئی کئی بار اتاری جاتی ہے، ٹیکس والے اتار کر بھی لپیٹ رہے ہوتے ہیں کہ بجلی والے چاقو لے کر آجاتے ہیں، بجلی ابھی رخصت ہی ہوتی ہے کہ پٹرولیم والے پل پڑتے ہیں، پھر گیس والے تاجر دکاندار اس طرح روزانہ یہ کھالیں اترتی اوراگتی رہتی ہیں۔ پھر ان کی مختلف اشیاء پا کر سلیکٹیڈ لوگوں میں الیکٹڈ لوگوں میں بانٹے جاتے ہیں اور وہ جمع کرکے دساور بھیجتے ہیں،اس پورے عمل میں ان کالانعاموں کو روزانہ ایک ترانہ بھی سنایا جاتا ہے ۔قربانی قوم کے لیے۔ کھالیں جمہوری شہنشاہوں کے لیے ۔بہرحال تو صرف اس ایک نظام سقے سے واقف ہیں جس کے چمڑے یاکھالوں کے سکے ایجاد کرکے جمہوروں کے وارث ہیں ۔

یہ سقے بڑے موجد قسم کے لوگ ہوتے ہیں، اس سقے کے سر پر سکے ایجاد کرنے کا سکہ ہے تو ایک اور جونئیر سقہ بھی بہت موجد قسم کاآدمی تھا ۔ ’’بچہ سقہ‘‘ اس عظیم موجد نے کوئی چیز تو ایجاد نہیں کی ہے لیکن اسے سیاست کے میکیاولی اورکوٹلیہ کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑا کیا جا سکتا ہے بلکہ ان دونوں سے بھی آگے کامقام دیاجاسکتا ہے کیوںکہ ان دونوں نے کتابوں میں سیاست سکھائی ہے جب کہ ’’بچہ سقہ ‘‘ نے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ بادشاہ اورڈاکو میں کوئی فرق نہیں ہوتا صرف آدمیوں کی تعداد کافرق ہے ۔ چنانچہ سقے کے بچے اورنر کے بچے نے پشاورکی ایک چائے کی دکان سے اٹھ کر آغاز کیا تو دوچار لوگوں کے ٹولے کے ساتھ منزل پر منزل مارتا ہوا افغانستان کے تخت پر پہنچا۔ اورڈاکو یا سقے کا نام تیاگ امیر حبیب اللہ بن گیا اور سیاست کے اس سبق کو ازبر کیا کہ چار پانچ آدمی مل کر کسی گھر کو لوٹتے ہیں تو وہ ڈاکو ہوتا ہے ۔ سو پچاس کا ٹولہ لے کر ایک بستی کو لوٹتا ہے تو فاتح کہلاتا ہے اور ہزاروں لوگوں کو لے کر کسی ملک کو لوٹتا ہے تووہ شاہ بادشاہ شہنشاہ سلطان ظل اللہ ظل الٰہی کہلاتا ہے ، کام سب کا لوٹنا ہوتا ہے، چاہے تلوار سے ہو ، توپ وتفنگ سے ہو یا ووٹوں نوٹوں سے ہو سب پر بھاری ہوجاتا ہے ۔بار بار آتا ہے باری لیتا ہے اورلدا پھندا گھر جاتا ہے پھرآنے کے لیے ؎

شاید مجھے نکال کے کچھ کھا رہے ہو آپ

محفل میں اس خیال سے پھر آگیا ہوں میں

کھال اتارو خود کوسنوارو…یا پھر بانی بنو ، امبانی بنو

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے